حقیقت میں معاشرہ انتہائی پستی کا شکار ہو چکا

حقیقت میں معاشرہ انتہائی پستی کا شکار ہو چکا

ممتاز ماہر نفسیات اور کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی کے شعبہ سائکاٹری کے چیئر مین پروفیسر ڈاکٹر آفتاب آصف نے کہا ہے کہ قصور میں سات سالہ بچی زینب سے جو واقعہ ہوا یہ انتہائی افسوس ناک اور اخلاق سے گری ہوئی حرکت ہے در حقیقت معاشرہ اس وقت انتہائی پستی کا شکار ہو چکا ہے بلکہ اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ اخلاقیات کو پروان چڑھانے اور معاشرے میں پیدا ہونے والے بگاڑ کی اصلاح کے لیے پرائمری سے کام شروع کیا جائے اور اخلاقیات اور رواداری کا مضمون نصاب میں شامل کیا جائے وہ ایشو آف دی ڈے میں گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ نہ جانے ہمارا معاشرہ کون سے معاشرے کی پیروی پر چل نکلا ہے اخلاقی قدریں بگاڑنے میں غیر ملکی میڈیا کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے برداشت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے ایک واقعہ بچی زینت کا ہوا جو ہمارے معاشرے کے منہ پر بہت بڑا داغ ہے دوسرا دلخراش واقعہ پولیس والوں کی طرف سے گولی چلانا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ برداشت ختم ہو چکی ہے موجودہ حالات بے یقینی کی طرف جا رہے ہیں جو معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک ہے یہ بات اس سے بھی خطرناک ہے کہ جہاں یہ واقعہ ہوا کیا وہاں ارد گرد کوئی لوگ نہیں تھے اگر تھے تو انہوں نے بچی کو بچیایا کیوں نہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم بے حسی کی جانب بھی جا رہے ہیں جو اچھا سائن نہیں ہے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہر شخص کو کردار ادا کرنا ہو گا اور پستی کی طرف جاتے ہوئے معاشرے کو بچانے کے لیے ہر شخص کو حصہ ڈالنا ہو گا اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے اور والدین کو بھی بچوں کی حفاظت کے لیے اپنا طرز عمل بدلنا ہو گا۔انہوں نے کہاکہ قصور اور اس کے گردونواح میں اخلاقی برائیاں حد سے بڑھ چکی ہے ہم نے ان علاقوں میں پولیس اور محکمہ صحت سے مل کر بہت کام کیاہے لیکن وہاں حالات سدھارنے کے لئے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے جوٹیم ورک کی شکل میں ہو۔

ڈاکٹر آفتاب آصف

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...