مثبت تفریحی سرگرمیوں کا فقدان بد اخلاقی کا سبب

مثبت تفریحی سرگرمیوں کا فقدان بد اخلاقی کا سبب

انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے شعبہ نفسیات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر طاہر پرویز نے کہا ہے کہ بچوں سے بداخلاقی جیسے واقعات مثبت تفریحی سرگرمیوں کا فقدان اور معاشرہ میں منفی میڈیا سرگرمیوں کے طوفان کے باعث رونما ہو رہے ہیں ،وہ ایشو آف دا ڈے میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا بچے آسان ہدف ہوتے ہیں اس لئے عام طور پر انہیں ٹارگٹ بنایا جاتا ہے۔پہلے وقت میں چوری چوروں کا آسان ٹارگٹ تھا اس لئے چوریاں عام تھیں آج بدقماش اور ہوس کے مارے لوگوں کا ٹارگٹ بچے اس لئے بھی بنتے ہیں کہ وہ آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں دوسری طرف اخلاقی تربیت کا نہ ہونا بھی ایسے واقعات میں اضافے کا باعث ہے بچوں کو اچھے برے کی تمیز کرانا اور اس کا درس دینا سکولوں میں اساتذہ اور گھروں میں والدین کی ذمہ داری ہے، بچوں کو اجنبی لوگوں سے ملنے جلنے کی اجازت نہیں دینی چاہئیں بچوں کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہئیں انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کے ذمہ دار حکومت کے ساتھ معاشرہ اور والدین بھی ہیں جو بچوں کو برے اور اچھے کی تمیز سکھانے کی بجائے اس سے دور رکھتے ہیں بچوں کو قید نہیں کیا جا سکتا وہ عوامل جو اس کا باعث بنتے ہیں ان کو ختم کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر طاہر پرویز

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...