بد اخلاقی کی روک تھام کیلئے قومی پالیسی کی ضرورت

بد اخلاقی کی روک تھام کیلئے قومی پالیسی کی ضرورت

ممتاز ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر ملک سعد بشیر نے کہا ہے کہ قصور جیسے واقعات کی مستقل روک تھام کے لئے قومی پالیسی ضروری ہے اس کے لئے ایک ملکی سطح پر ٹاسک فورس تشکیل دی جائے جس میں ماہرین ذہنی امراض نفسیات دانوں سول سوسائٹی، ماہرین تعلیم سیاستدانوں اور مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ماہرین کو شامل کیا جائے جو مل بیٹھ کر معاشرے کی سمت متعین کرنے کے لئے قومی پالیسی بنائے وہ ایشو آف دا ڈے میں گفتگو کر رہے تھے۔ پروفیسر سعد بشیر نے کہا کہ جو مسائل آج کل ہمارے معاشرے کو درپیش ہیں مولوی کے پاس ان کا حل موجود نہیں ہے ،معاشرہ اس وقت انتہائی جذباتی کیفیت کا شکار ہے۔وہ ایک دم سے جذباتی ہو جاتا ہے وجوہات پر نظر نہیں ڈالتا کہ قصور جیسے سفاکی کے واقعات جو آئے روز سامنے آتے ہیں ان کے رونما ہونے کی وجوہات کیا ہیں ان کو دور کئے بغیر اور ان کا مستقل حل نکالے بغیر ایسے واقعات کی روک تھام ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکس کی ضروریات ایک حقیقت ہیں جسے تسلیم کرنا پڑے گا اور سیکس کو ابھار رہے ہیں آج کل کا میڈیا ،سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ اور سمارٹ اور ٹیج فون جن کا ایک بٹن دبانے سے ہر ننگی چیز ایک سیکنڈمیں سامنے آ جاتی ہے کیونکہ آج 12سے 14سال کے بچوں کو ہم نے انٹرنیٹ اور ٹچ سمارٹ موبائل کی ہر چیز مہیا کر دی ہے جب وہ موبائل پر ’’سیکس‘‘ دیکھے گا تو اس کے اندر موجود ہارمونز اسے تنگ کر دیں گے کہ وہ ان ہارمونز کا استعمال کرے اور دوسری طرف چوکیدار جن کی بیویاں پہاڑوں پر رہتی ہیں وہ تنگ آ کر اسی طرح غلط راستوں کا شکار ہو جاتے ہیں ایک وقت تھا جب ایک شہر میں ایک مون لائیٹ کے نام سے سینما ہوتا تھا جہاں سیکس ابھارنے والی فلمیں چلتی تھیں آج ہم نے پورے معاشرے کو ٹچ موبائل اور انٹرنیٹ دے کر مون لائیٹ بنا دیا ہے تو پھر ایسے واقعات تو ہونگے انہوں نے کہا کہ ان کی روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ ہم ایسے واقعات کا مستقبل حل نکالنے کے لئے معاشرے پر مطالعہ کر کے ایک قومی پالیسی بنا لیں ، کسی کو پھانسی دینے سے ایسے واقعات کو روکا نہیں جا سکتا اور نہ ہی ان کا حل پھانسی ہے اس کا حل قومی پالیسی اور سخت قوانین میں جن کو بنائے بغیر چارہ ممکن نہیں اگر ایسا نہ ہوا تو آنے والے وقت سے بہت بڑی خرابی کی بو آ رہی ہے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...