پنجاب پولیس کو شریف برادران نے تباہ کیا ، عمران خان کا طاہر القادری کی احتجاجی تحریک میں شامل ہونے کا اعلان


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے ڈاکٹر طاہرالقادری 17 تاریخ کو سانحہ ماڈل کے حوالے سے احتجاجی تحریک کیلئے نکل رہے ہیں اورہم 18 جنوری کو پوری قوت کیساتھ عوامی تحریک کیساتھ نکلیں گے۔گزشتہ روزاسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا لوگوں کا اعتماد حکومت اور پولیس پر ختم ہوگیا، جب اداروں پر اعتماد ختم ہوجاتا ہے تو لوگ سڑکوں پر توڑ پھوڑ کرتے ہیں، 7 سالہ بچی زینب کے والد بھی انصاف پنجاب حکومت یا پولیس سے نہیں بلکہ آرمی چیف اور چیف جسٹس سے مانگ رہے ہیں، جس پولیس کا کام لوگوں کی حفاظت کرناہے وہ ایک خاندان کے تحفظ پر مامور ہے۔ شریف برادران کو 19 سال پنجاب میں حکومت کرتے ہوگئے، لیکن صوبائی پولیس کا حال عوام کے سامنے ہے ۔کیاپولیس کی وردیاں یا کپڑے بدلنے سے کارکردگی بہتر ہوگئی ؟۔ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین آج بھی انصاف کیلئے سڑکوں پر ہیں، ہمارے کارکن حق نواز کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا کسی نے کچھ نہیں کیا اور قصور میں بھی پولیس نے مظاہرین پر سیدھی فائرنگ کی، کونسی پیشہ ور پولیس اس طرح سے کرتی ہے۔ ساری پولیس میں بھر تیاں رائیونڈ سے ہوتی ہیں، پنجاب پولیس ایسی نہیں شریفوں نے خود پولیس کو خراب کیا، آج لوگ خیبرپختونخوا پولیس کی تعریف کرتے ہیں ۔عمران خان نے مزید کہا مہذب معاشرے میں ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں کہ مستقبل میں ایسا نہ ہو، دیگر ملکوں میں بھی ایسے جرائم ہوتے ہیں لیکن مجرم پکڑے جاتے ہیں۔ قصور میں ہونیوالا یہ بارہواں واقعہ ہے ، ن لیگ والے کہتے ہیں بچوں کی ذمہ داری ان کے والدین کی ہے ، جس طرح اے پی ایس واقعہ پیش آیا تو پوری قوم ایک ہوگئی اور سب نے کہا دہشتگردی کا مقابلہ کریں گے ، اس سے ہم نے کیا سیکھا ہے اور ہم نے کیا کرنا ہے ، بچوں کو محفوظ رکھنے کیلئے کیا کوئی سسٹم بنائیں گے ، 1992میں آئی جی عباس خان نے رپورٹ دی تھی ، جس میں تین چیزیں درج تھیں ، اس کے مطابق نوازشریف اور شہباز شریف نے پولیس میں بھرتیاں میرٹ پر نہیں کیں ، دوسرا لوگوں سے رشوت لیکر پولیس میں بھرتی کی گئی اور تیسری بات یہ تھی کہ مجرموں کو پولیس میں بھرتی کیا گیا ۔ یہ ایسی پولیس فورس چاہتے تھے جو شریف خاندان کے حق میں ہواور ان کا اچھا برا کام کردیں ، جو پولیس والا قصور واقعہ کا ذمہ دار ہے وہی پولیس والا 2014میں فیصل آباد میں کھڑا گولیاں برسا رہا ہے جس سے ہماراکارکن شہید ہوا ، کوئی پکڑا نہیں گیا ، ہم پنجاب سے آئی جی ناصر درانی کو لائے، ان کو مکمل اختیارات دیے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہوگی ، اسی پولیس نے یونیورسٹی پر حملہ ناکام بنایا ، شہباز شریف کیخلاف سبزہ زار میں ماورائے عدالت قتل کا کیس ہے ۔ شہباز شریف رات کے اندھیرے میں قصور اس لئے گئے کیونکہ ان کو معلوم تھا عوام نے ان کیساتھ کیا سلوک کرنا ہے ۔ بعد ازاں نجی ٹی وی کو انٹرویو میں عمران خان کاکہنا تھا بشریٰ بی بی ہمیشہ پردہ کرتی ہیں، ملاقات پردہ میں ہوتی تھی، شادی کی پیشکش کر نا میرا ذاتی معاملہ ہے، مجھے بلیک میل کرنے کیلئے پروپیگنڈہ کیا گیا، بات آگے بڑھتی تو سب کو بتاتا،شریف فیملی سے متعلق اتنا علم ہے بتاؤں تو عوام کو منہ نہ دکھا سکیں،تنقید کرنے والوں کو معرفت کے بارے میں کچھ پتہ نہیں، جمہوری آدمی ہوں اور اپنے فیصلے خود کرتا ہوں۔ میرے خاندان کو شادی کی پیشکش کا نہیں پتا تھا، بشری بی بی کی فیملی کو نقصان پہنچایا گیا ، بشری بی بی کی طلاق ہو نے پر شادی کی پیشکش کی،بشری بی بی سے 2سال پہلے ملاقات ہوئی، مگر 30سال پہلے میرا روحانی سفر شروع ہو چکا تھا۔ صوفی ازم پڑھنے سے میرا ایمان اور مضبوط ہوا، پہلے میاں بشیر میری رہنمائی کرتے رہے، معرفت یا بشری بی بی کا میری سیاسی زندگی اور دیگر روزمرہ فیصلوں سے قطعا کوئی تعلق نہیں، میں ان سے صرف روحانی امور ، ابن عربی اور مولانا روم کو سمجھنے میں ان سے مدد لیتا ہوں، میرے بارے میں بشری بی بی سے پوچھ کر لاہور والا گھر گروانے کی یا پہاڑوں پر جانے کی باتیں چلائیں، وہ یکسر غلط اور بے بنیاد ہیں۔بشریٰ بی بی کی فیملی قدامت پسند ہے۔ میری عمر65سال اور صرف 10سال کی شادی شد ہ زندگی گزاری، چاہتا ہوں بقیہ زندگی پرسکون اور خوش گزاروں۔
عمران خان

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...