وزیراعلیٰ شہبازشریف نے مقتول زینب کے والد کا سب سے حیران کن مطالبہ مان لیا، حکم دیدیا

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب حکومت نے قصور کی ننھی زینب کے والد کی درخواست پر سانحے کی تحقیقات کیلئے قائم کی گئی جے آئی ٹی کے سربراہ کو تبدیل کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مقتولہ زینب کے والد کی درخواست پر ڈی آئی جی ابو بکر خدابخش کو حکومت نے زینب قتل کیس کی تحقیقات کیلئے قائم کی گئی جے آئی ٹی کی سربراہی سے ہٹادیا ہے۔ ابو بکر خدابخش کی جگہ آر پی او ملتان ڈی آئی جی محمد ادریس زینب قتل کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ ہوں گے۔

متعلقہ خبر: ” یہ کام مسلمان کو دینا تھا، یہ قادیانی ہے ہم اس کی بات نہیں مانیں گے“زینب کے والد نے شہبازشریف کو نئی مشکل میں ڈال دیا
واضح رہے کہ جمعرات کے روز زینب کے والد محمد امین انصاری نے پریس کانفرنس کے دوران پرامن مظاہروں اور جے آئی ٹی کے سربراہ کی تبدیلی کی درخواست کی تھی۔ زینب کے والد نے الزام عائد کیا تھا کہ جے آئی ٹی کا سربراہ قادیانی ہے اس لیے اس کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، ’ میری حکومت سے درخواست ہے کہ کسی مرزائی کو نہیں بلکہ مسلمان کو جے آئی ٹی کا سربراہ بنایا جائے‘۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی /انسانی حقوق /جرم و انصاف /علاقائی /پنجاب /قصور /لاہور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...