میرا وہ یادگار سفر افریقہ جو مولانا شیخ عبدالحفیظ مکی ؒ کی رفاقت میں کیا

میرا وہ یادگار سفر افریقہ جو مولانا شیخ عبدالحفیظ مکی ؒ کی رفاقت میں کیا
میرا وہ یادگار سفر افریقہ جو مولانا شیخ عبدالحفیظ مکی ؒ کی رفاقت میں کیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سال بھرپہلے زبدۃُالعلماء حضرت مولانا شیخ عبدالحفیظ مکی قدس اللہ سرہ ‘ العزیزکی رحلت نے ہمیں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدزکریا رحمتہ اللہ علیہ کے دورسے مزیددُورکردیا۔ حضرت مکیؒ ، حضرت شیخ الحدیث کی جلوتوں اورخلوتوں کے رازداراوراَمین تھے۔ہم نے حضرت شیخ الحدیث کی زیارت نہیں کی،مگر حضرت مکیؒ کو اَلحمدللہ جی بھر کر دیکھااوراُن کی محبتوں اورشفقتوں سے خوب خوب استفادہ کیا۔انہیں دیکھ کر بخوبی اندازہ کیاجاسکتاتھاکہ واقعی اکابرکی تربیت یافتہ ہستیاں اِس قحط الرجال میں اپنی مثال آپ تھیں۔

حضرت مکیؒ نے اپنے اعلیٰ کردار،زہدوتقویٰ اورحسنِ عمل سے اپنے اکابر اورمشائخ کی نیک نامی میں گراں قدراِضافہ کیا۔انہوں نے زندگی بھرسالکانِ طریقت کو شرک وبدعت کی مسموم ہواؤں سے بچاکر، خالقِ حقیقی کی وحدانیت کے ا سباق کے ساتھ ساتھ، تحفظ ختم نبوت کا نوراورشعوربھی منتقل کیا۔وہ نہ صرف روحانی درجات کی بلندیوں پر فائزتھے ،بلکہ اعلیٰ انسانی اخلاق واَقدارکا عملی نمونہ بھی تھے۔اُن کی ہرفردسے محبت اورتعلق کا ایک خاص اندازاورطریقہ تھا۔جسے بھی اُن کی صحبت وملاقات سے ایک باربہرہ ور ہونے کا موقع ملا۔پھر وہ شخص ساری ہی زندگی کے لیے اُن کی شخصیت کے سحر سے نہ نکل سکا۔

حضرت مکیؒ وضع دارشخصیت کے مالک تھے۔جس سے تعلق قائم ہوا۔پھرعمربھرتعلق ورابطے میں تعطل نہ آنے دیا۔غرض یہ کہ اُن کے وجودِ گرامی سے ہرطبقہ کے لوگوں کو فیض و رہنمائی ملتی رہی۔یہی وجہ تھی کہ اُن کی مجالس میں ہرشعبۂ زندگی کے افرادحاضرہوتے اوراُن کے فیوض و توجہات سے دامن بھرکراُٹھتے تھے۔

یوں تو حضرت مکیؒ سے غائبانہ تعارف ایک طویل عرصہ سے تھا۔خصوصاً مرشدی ابن امیرشریعتؒ پیرجی حضرت مولانا سیّد عطاء المہیمن بخاری مدظلہ‘ کی زبانی اُن سے قریبی تعلقات کے حوالے سے بے شمارواقعات اورمجلسی گفتگوؤں کے احوال اکثرسننے کو ملے،مگرحضرت مکیؒ کی زیارت پہلی بارمجلس احراراسلام کی سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں ہوئی۔جہاں آپ نے تفصیلی خطاب فرمایا۔وہاں حضرت سے احرارکے جاری کردہ ’’فہم ختم نبوت،خط کتابت کورس‘‘کے لیے تحریری تاثرات بھی حاصل کیے اورساتھ ہی اُن کی دعاؤں کے خزانے بھی عطاء ہوئے۔بعدازاں 2013ء میں اُن کی جماعتی سطح میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔آپ نے مجلس احراراسلام ،تلہ گنگ،ضلع چکوال(پنجاب)کے زیراہتمام سالانہ کُل جماعتی تحفظ ختم نبوت کانفرنس میں بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت فرمائی اورقبل ازنمازجمعہ نہایت پُراثراورپُرمغزخطاب بھی فرمایا۔جسے عوام الناس نے بے حد پسندکیا۔یہ تلہ گنگ میں آپ کی پہلی اورآخری آمدثابت ہوئی ،لیکن اُن کی تشریف آوری کے اثرات دیرتک محسوس کیے جاتے رہے۔

2013 ہی میں اللہ نے حضرت مکی رحمتہ اللہ علیہ سے قربت کا ایک موقع اورنصیب کردیا۔حضرت نے ساؤتھ افریقہ میں ختم نبوت کانفرنس کے لیے مجلس احراراسلام کو شرکت کی دعوت دی۔نواسۂ امیرشریعتؒ حضرت سیّدمحمدکفیل بخاری مدظلہ‘ کی ہمراہی میں مجھے بھی اس عظیم الشان کانفرنس میں شرکت کا اعزازحاصل ہوا۔27؍نومبرکو ہم لاہورسے براستہ جدہ ساؤتھ افریقہ روانہ ہوئے۔جدہ سے حضرت مکیؒ بھی علماء اورمشائخ کے ایک بڑے قافلہ کے ساتھ ہمارے شریک سفرہوئے۔اس سفرمیں ہمارے ساتھ شیخ الحدیث مولانازاہدالراشدی،مولانا محمداحمدلدھیانوی،ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں،ڈاکٹر احمدعلی سراج،مولانا محمدالیاس چنیوٹی،مولانا محمدیحییٰ لدھیانوی،مولانامفتی شاہدمحمود،قاری محمدرفیق وجھوی،شمس الدین،مولانا بدرعالم چنیوٹی،مولانازاہدمحمودقاسمی،پروفیسرظفراللہ بیگ،عبدالحمیدچشتی،پیرمحمدشکیل اختروغیرہ شامل تھے۔

جوہانسبرگ میں اترے تو مولانا محمدابراہیم پانڈو کی رہائش گاہ پر حاضری ہوئی۔جہاں دارالعلوم دیوبندکے مہتمم حضرت مولانا ابولقاسم نعمانی مدظلہ‘ بھی تشریف لے آئے۔اُن کی آمدہم جیسے طالب علموں کے لیے نعمتِ غیرمترقبہ ثابت ہوئی۔حضرت نعمانی کی سادگی،بے تکلفی ،برجستگی کے ساتھ، ساتھ اُن کے تبحرعلمی،حالاتِ حاضرہ سے باخبری اورنپی تلی گفتگونے بے حدمتاثرکیا۔

رات بذریعہ جہاز کیپ ٹاؤن پہنچے۔جہاں ایک ہوٹل میں قیام رہا۔راقم ،مولانا زاہدالراشدی اورسیدمحمدکفیل بخاری کا ایک ہی کمرہ میں ساتھ رہا۔29؍نومبرکو اِنٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ اورمسلم جوڈیشل کونسل افریقہ کے زیراہتمام عالمی ختم نبوت کانفرنس کاانعقادہوا۔جس میں بیرون ممالک کی علمی شخصیات کے علاوہ ساؤتھ افریقہ کے نامورعلماء اورسکالرزشریک ہوئے۔وہاں حضرت مکیؒ نے عربی میں خطاب کیا۔اگر اُن سے پہلے سے شناسائی نہ ہوتی تو میں یقیناً اُنہیں پاکستانی نہیں،بلکہ عرب ہی سمجھتا،کیونکہ اُن کی عربی میں طلاقتِ لسانی کا اندازہ مجھے وہاں ہی پہلی بارہوا۔

کیپ ٹاؤن میں کانفرنس کی متعددنشستیں ہوئیں۔پھر جوہانسبرگ کے علاقے لینسیریا(Lanseria)اوربعدازاں جوہانسبرگ کے علاقہ میفے خیل میں خانقاہ مکیہ کے تعمیری کام کو دیکھا۔یہ خانقاہ نوجوان عالم برادرم مولانا جنیدہاشم( خلفیہ حضرت مکیؒ ) کی زیرنگرانی تعمیرہورہی تھی۔پھرلینیشیاسے ہوتے ہوئے5؍دسمبرکوبذریعہ طیارہ ڈربن پہنچے۔جہاں تبلیغی مرکزمسجدالہلال میں دارالاحسان سنٹرکے زیراہتمام حضرت مکیؒ کی زیرصدارت ختم نبوت کانفرنس منعقدہوئی۔جس کی نظامت مولانا مفتی زبیربیات مدیردارالاحسان سنٹرنے کی۔دارالعلوم زکریا جوہانسبرگ میں قیام کے بعد کیپ ٹاؤن واپسی ہوئی۔

8؍دسمبرکو جدہ واپسی ہوئی۔حضرت مکیؒ نے خصوصی شفقت فرمائی ۔آپ نے محترم سیدمحمدکفیل بخاری صاحب کی تجویزپر کیپ ٹاؤن ہی سے تمام قافلے کوعمرہ کرانے کے لیے خصوصی اجازت کا بندوبست کرلیاتھا۔حالانکہ اُن دنوں ابھی عمرہ کاسیزن شروع ہی نہیں ہواتھا۔مکہ مکرمہ میں حضرت مکیؒ کی خانقاہ پاک میں قیام ہوا۔وہیں آپ کے فرزندبرادرمحترم مولانا عمرمکی حفظہ اللہ سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے دیکھتے ہی مجھے پہچان لیا،کیونکہ فیس بک پر ایک عرصہ سے اُن کے ساتھ رابطہ تھا۔مدینہ منورہ کے سفرکے دوران حضرت مفتی شاہدمحمودحفظہ اللہ کی زیرقیادت شہدائے بدرکے مزارات اورمیدانِ بدر سے آنکھوں کو ٹھنڈاکرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ تین گھنٹے مدینہ منورہ میں قیام اوربرادرم احمدمکی کے ہاں طعام کے بعدواپس خانقاہ شریف آگئے۔جہاں حضرت مکیؒ سے حضرت سیدکفیل بخاری صاحب کی معیت میں علیحدگی میں تحریک ختم نبوت کی صورت حال پرتفصیلی اوراِختتامی ملاقات ہوئی۔واپسی کی اجازت کے دوران مصافحہ کرتے ہوئے ،جب حضر ت کفیل شاہ جی کی تقلیدکرتے ہوئے میں نے بھی حضرت مکیؒ کے دست مبارک کو فرطِ عقیدت سے چوماتو حضرت مکیؒ نے کمال بزرگانہ شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواباً میرے ہاتھ پر بھی بوسہ دیا۔جدائی کی گھڑی آچکی تھی ۔بوجھل دل کے ساتھ حضرت کی دعاؤں کے سائے میں 11؍دسمبرکو پاکستان واپسی کے لیے جدہ روانگی ہوئی۔

حضرت مکیؒ کے ساتھ گزرے ہوئے ایام زندگی کا قیمتی اثاثہ ہیں۔اُن کی محبت وشفقت،خُلق وانکسار،تواضع اوربے تکلفانہ گفتگونے ازحدمتاثرکیا۔وہ رُوحانیت میں بہت بلندمقام کے حامل تھے،زہدووَرع اُن کی زندگی کا جوہرتھا،مگراَعلیٰ اِنسانی اقدارورِوایات بھی اُن کی شخصیت کا خاصہ تھیں۔تمام تر علوِ شان کے باوجودعام آدمی کے ساتھ اُن کاسلوک و رَوّیہ مثالی تھا۔اُنہوں نے کبھی اپنی بزرگی نہیں جتائی،علم کا رُعب نہیں ڈالا،بلکہ پیاراورمحبت کی نورانیت کے ساتھ سب سے برابرکا سلوک وتعلق روا رَکھا۔

جب کیپ ٹاؤن کے ساحل سمندرپر جانے کا اِتفاق ہواتو وہاں بہت تیزہواچل رہی تھی۔سرکی ٹوپیاں اوررُومال اُڑنے لگے تو سبھی نے اپنی دستاراوررُومال اُتارلیے ،مباداکہ اُڑ نہ جائیں۔حضرت مکیؒ جنہیں کبھی ننگے سرنہ دیکھاتھا۔آپ بھی عمامہ کے بغیرکھڑے تھے اوراُنہوں نے میراہاتھ اپنے ہاتھ میں لے رکھاتھا۔یہ اُن کی بے غرض محبت اوربزرگانہ شفقت کا ایک دل نشیں اندازتھا۔آج ایک عرصہ گزرچکاہے،مگر اُن کے مبارک ہاتھوں کی حرارت کا لمس میں آج بھی محسوس کرتاہوں۔دعاء ہے کہ روزقیامت بھی میراہاتھ اُن کے ہاتھ میں ہو اورہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لوائے حمدکے نیچے ایک ساتھ کھڑے ہوں۔ حضرت شیخ مکیؒ اب جہاں ہیں،وہاں اُن سے ملاقات اب قیامت ہی کو ہوگی،مگر اُن کی پاکبازاُلفت ومحبت کے قصّے سدازِندہ وتابندہ رہیں گے۔اُن کی یادوں کی خوشبودِل وجاں کو معطرکیے رکھے گی۔

اُنہی کی یاد ہی سے، اب تو مرا جی بہلتاہے

اُنہی سے اب تو پاتی ہے، سکوں، جانِ حزیں میری

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ