کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے بچے انٹرنیٹ کا کیا استعمال کرتے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے بچے انٹرنیٹ کا کیا استعمال کرتے ہیں؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے بچے انٹرنیٹ کا کیا استعمال کرتے ہیں؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انٹرنیٹ فراہم کرنی والی کمپنیز کی ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں سال 2017 میں تقریباً چھ کروڑ سے زیادہ افراد انٹرنیٹ استعمال کررہے ہیں ۔اس کی سب سے بڑی وجوہ کمپینز کے سستے ترین پیکجز ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد انٹر نیٹ کا محور و مرکز بن چکی ہے۔پاکستان میں سال 2002 کے اندر انٹرنیٹ باسانی اور سستا متعارف کیا گیا جس کے بعد سے اس کے استعمال کنندگان کی تعداد میں روز بروز نمایاں اضافہ ہونا شروع ہو رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ایجادات سے جہاں عملی ، مالیاتی ، معاشی ، سماجی ، روایتی ترقی کے نئے ابواب میں اضافہ ہواہے وہاں منفی سوچ بھی خوب پھیلی اور خطہ ارض پر بڑے پیمانے پر اس کے منفی اثرات نے زندگی میں بگاڑ پیدا کیاہے۔ جیسا کہ آپ سب دیکھ رہے ہیں ، وقت گزرنے کے ساتھ سوشل میڈیا ہماری روز مرہ کی زندگی کا جزو بن گیا ہے جہاں خبروں او ر معلومات کے لیے خطہ ارض کے افراد اپنی علمی، معاشی ، سماجی ، سیاسی، سماجی اور روایتی ضروریات کے لئے باآسانی آپس میں روابط قائم کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے انٹرنیٹ سے جڑا ایک ایسا نیٹ ورک ہے جولوگوں، گروہوں اور اداروں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے ، معلومات اور خیالات کا تبادلہ کرنے ، پیغام رسانی کی آسان ترسیل اور ساتھ ہی انٹرنیٹ پر موجود دیگرعلمی معلومات کا تاریخی منبع بن چکا ہے۔ دنیا کے بڑی تعداد میں سوشل میڈیا کی سائٹس مفت سہولیات کار ہیں، ان سائٹس کے استعمال کنندگان کو کسی قسم کی کوئی قیمت ادا نہیں کرنی پڑتی ،یہ خدمات بھی فراہم کرتی ہیں۔ فیس بک اور ٹوئٹر اور واٹس ایپ جیسی اپلیکشینزنے اسے وہ ترقی دی کہ اب سکینڈزمیں خبریں ،ویڈیو شیئر ہورہی ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ اظہار خیال کی آزادی میں اِن سائٹس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔کیونکہ اس کے ذریعہ ایک دوسرے سے جڑنے رہنے اور پیغامات کی ترسیل کا باآسانی تبادلہ خیال کا موثر اور سستا ترین ذریعہ ہے ،یہی وجہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل فیس بک پر اپنے خیالات کا اظہار بڑی بے باکی سے کر رہی ہے ، نوجوان اپنی ذہانت کا مظاہرہ بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے برعکس کئی شرپسند منفی ذہنت کے عناصر ‘‘اظہار خیال کی آزادی کے نام پر ’’سوشل میڈیا کے ذریعے سے انتہا پسندی ،فرقہ وارایت اور فساد برپا کر نے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے اندر انٹر نیٹ کے ذریعے ’’ہوم آفس کا قیام" تیزی سے عمل میں آ رہا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ کے ساتھ اب پاکستان کی نوجوان نسل نے آن لان سروسز کے شعبہ جات میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ روز گار میں آن لائن جاب، قرآن اکیڈمیز ، ہومز ٹیوشن ، کھیلوں و گیمز کی تیاری، پروگرامز سوفٹ ویئر اور ویب سائٹس کی تیاری، درستگی اور پڑتال کا کام، مختلف زبانوں کی تیاری و ترجمے، ٹائپنگ کا کام، آن لائن اشتہاری صنعت، سوفٹ ویئر کی ویڈیو ٹریننگ، شاپنگ ویب سائٹس کے ذریعے اپنا ذاتی کام اور بزنس کا قیام وغیرہ دیگر امور شامل ہیں جس سے نہ صرف ان پاکستانیوں کی آمدنی میں اضافہ ہواہے، بلکہ بیرون ممالک سے زر مبادلہ بھی ملک میں آرہا ہے۔

تعلیمی اور درس و تدریس کے ضمن میں طلبہ کو بہت زیادہ پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا رہا تھا جو انٹرنیٹ کی فراہمی نے پور ا کر دیاہے ۔ دنیا میں ہر مضامین کی الیکٹرونک لائبریریاں، آن لائن ای بکس اور مختلف تعلیمی موضوعات پر آڈیو، ویڈیو لیکچرز کی باآسانی رسائی گھر بیٹھے بیٹھائے موجودہے۔ پاکستان کے ماہر و ذہین طلبہ نے ذاتی کوششوں سے علمی وتعلیمی ویب سائٹس قائم کیں جن پر طلبا و طالبات کو مختلف تعلیمی نوٹس، سابقہ پرچے، تعلیمی اعلانات اور گفتگو کرنے کے ساتھ اپنی رائے کے اظہار کا حق بھی حاصل ہے۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جہاں سوشل میڈیا کی ایجاد ات سے بے پنا ہ فوائد حاصل ہوئے ہیں وہاں نقصانات کی تعداد میں اضافہ ہو آ رہا ہے۔ نوجوانوں میں اخلاقی قدریں کم ہونے کے ساتھ منفی سوچ و سرگرمیوں کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔تعمیری فکر پروان چڑھنے کے بجائے تخریب کاری کا رجحان غالب ہو رہا ہے ، تعلیم کی طرف توجہ کم ہورہی ہے۔ ہر عمر کے افراد کے ہاتھ میں انڈرائیڈ موبائل خوبیوں کے باوجود صرف خرافات کا ایک مجموعہ بنکر رہ گیا ہے ۔ اس طرح کی صورتحال میں والدین کی ذمہ داریاں نسل نو کی تربیت کے تئیں بہت بڑھ جاتی ہیں۔انہیں جاننا چاہئے کہ انکے بچے سارا دن یا رات کو لحاف میں چھپ کر موبائیل پر کیا کرتے ہیں۔اب والدین کو بھی اس ٹیکنالوجی کو سمجھ لینا چاہئے اور بچوں کے ہاتھ میں جو کھلونا اور ہتھیار تھمارہے ہیں اسے خود بھی چلانا اور سمجھنا شروع کردیں تاکہ ان کی نظریں بچوں کی سوشل دنیا میں بڑھتی مصروفیات کو اچھی طرح دیکھ سکیں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ