’پاکستانی شہری جب بھی سعودی عرب آتے ہیں یہ مسجد دیکھنے ضرور آتے ہیں کیونکہ یہاں۔۔۔‘ سعودی ٹورگائیڈ نے ایسا انکشاف کردیا کہ آپ کے دل میں بھی اس جگہ جانے کی خواہش پیدا ہوجائے گی

’پاکستانی شہری جب بھی سعودی عرب آتے ہیں یہ مسجد دیکھنے ضرور آتے ہیں کیونکہ ...

طائف(مانیٹرنگ ڈیسک) حج اور عمرہ کی سعادت کے لئے مکہ جانے والے زائرین کی کوشش ہوتی ہے کہ اس مقدس شہر سے 70کلومیٹر کی دوری پر واقع طائف شہر کے تاریخی مقامات بھی ضرور دیکھنے جائیں۔ یوں تو طائف میں بہت سے تاریخی مقامات ہیں لیکن مسجد المدھون، جسے قنطارہ مسجد بھی کہا جاتا ہے، کی اپنی الگ ہی شان ہے۔ یہ مسجد المثنا کی وادی میں واقع ہے جو اپنے پھلوں کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے ٹورسٹ گائیڈ خالد الشربی نے بتایا کہ مسجد المدھون تقریباً 162 سال قبل تعمیر کی گئی۔ اس کی تعمیر سلطنت عثمانیہ کے دور میں کی گئی اور یہ اس علاقے میں اپنے مخصوص طرز تعمیر کی حامل واحد مسجد ہے۔ اس کا طرز تعمیر عباسی دور کی عمارتوں جیسا ہے جو اسے دیگر عمارتوں سے بہت منفرد بناتا ہے۔

خالد الشربی نے بتایا کہ جب نبی کریم ﷺ طائف شہر میں تبلیغ کے لئے گئے اور وہاں انہیں سخت صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا تو طائف سے واپسی پر انہوں نے شہر سے باہر ایک سرسبزوشاداب وادی کے ایک باغ میں آرام فرمایا۔ اس باغ میں کام کرنے والے ایک عراقی عیسائی نے آپ کی خدمت میں انگور پیش کئے، اور آپ کی شان سے وہ ایسا متاثر ہوا کہ اسلام قبول کر لیا۔ یہ تاریخی باغ اسی مسجد المدھون کے سامنے واقع ہے۔

ٹورسٹ گائیڈ نے بتایا کہ اس مسجد کو دیکھنے کے لئے پاکستان، ملائیشیا، انڈونیشیا، سنگاپور، بنگلہ دیش اور ترکی جیسے ممالک سے سیاحوں کی بہت بڑی تعدا د آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں آنے والے بہت سے پاکستانی اس مسجد کو حضرت علیؓ مسجد کے نام سے بھی جانتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /عرب دنیا

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...