بھارتی سپریم کورٹ کے کچھ جج خود کو شہنشاہ سمجھنے لگے ہیں،انصاف کے ساتھ کھلواڑ ہو تو کسی نہ کسی کو تو ٹکرانا تھا :سینئر وکیل نے بھارتی عدلیہ کا بھانڈا پھوڑ دیا

بھارتی سپریم کورٹ کے کچھ جج خود کو شہنشاہ سمجھنے لگے ہیں،انصاف کے ساتھ ...

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے 4سینئر ترین ججوں کی جانب سے کی جانے والی پہلی پریس کانفرنس نے ہندوستان میں نیا عدالتی بحران پیدا کر دیا ہے، نریندر مودی نے اس نئے ’’دھماکے ‘‘کے بعد وزارت قانون کے ساتھ سر جوڑ کر اہم مشاورت شروع کر دی ہے ،اسی عدالتی بحران پر گفتگو کرتے ہوئے ہندوستان کے سینئر ترین وکیل پرشانت بھوشن نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے اور کہا ہے کہ کچھ جج خود کو شہنشاہ سمجھنے لگے ہیں اور وہ آج کل کسی بھی سوال کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا ۔

بھارتی نجی ٹی وی چینل ’’انڈیا ٹی وی ‘‘ کے مطابق مشہور سینئر ترین وکیل پرشانت بھاشن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کے درمیان عدم اعتماد بڑھنے لگا ہے ، جس طرح پرساد میڈیکل کالج معاملے میں جو کچھ چیف جسٹس نے کیا وہ حیران کن تھا، انہوں نے یہ کیس سینئر ججوں سے لے لیا اور پھر’’ڈیل ‘‘ کرنے کے بعد اس کیس کو جونیئر ججوں کے سپرد کر دیا گیا ، یہ سنگین بات ہی نہیں بلکہ کوڈ آف کنڈیکٹ کی بھی خلاف ورزی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی صورتحال میں جس طرح چیف جسٹس انڈیا نے اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا ، اس سے کسی کو تو ٹکرانا ہی تھا، یہ سوال تو اٹھتا ہی ہے کہ آخر چیف جسٹس کیوں سینئر ججوں سے کیس لے کر جونیئر ججوں کو دے رہے تھے؟ صاف ظاہرہے کہ وہ اپنی طاقت کی وجہ سے انصاف کے ساتھ کھلواڑ کررہے تھے ، اس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے ، پریس کانفرنس کرنے والے چاروں ججوں نے اپنی آئینی ذمہ داری ادا کی ہے۔واضح رہے کہ بھارتی تاریخ میں پہلی مرتبہ جسٹس جے چلامیشور کے گھر پر منعقد کی گئی پریس کانفرنس میں ان کے ساتھ سپریم کورٹ کے دیگر تین ججز جسٹس رنجن گوگوئی ، جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس کورین جوزف کا کہنا تھا کہ بھارتی جمہوریت خطرے میں ہے ،جمہوریت کی بقا ء کے لئے شفافیت کا ہونا ضروری ہے ، سپریم کورٹ میں جو ہوا وہ صحیح نہیں تھا ، ہم نے چیف جسٹس کو سمجھانے کی پوری کوشش کی لیکن ہم کامیاب نہیں ہوسکے۔

مزید : بین الاقوامی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...