آبروریزی اور جنسی درندگی کے واقعات کو روکنے کے لیے اصلاحی تحریک کی ضرورت ہے،اسلا م کسی ایسی تفریح کا قائل نہیں جو شہوت انگیز ہو :سینیٹر ساجد میر

آبروریزی اور جنسی درندگی کے واقعات کو روکنے کے لیے اصلاحی تحریک کی ضرورت ...
آبروریزی اور جنسی درندگی کے واقعات کو روکنے کے لیے اصلاحی تحریک کی ضرورت ہے،اسلا م کسی ایسی تفریح کا قائل نہیں جو شہوت انگیز ہو :سینیٹر ساجد میر

  

سیالکوٹ (ڈیلی پاکستان آن لائن ) امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ آبروریزی اور جنسی درندگی کے واقعات کو روکنے کے لیے اصلاحی تحریک کی ضرورت ہے ،اخلاق باختہ اور فحش پروگراموں کی جگہ اخلاقی تربیت کے حوالے سے پروگرام شروع کیے جائیں،ہمیں دینی تعلیمات کو اپنا اوڑھنا بچھوڑنا بنانا ہو گا ،اسلامی نظام حدود وتعزیرات کو اس کی رو ح کے مطابق نافذ کرنا ہو گا ،بچوں اور بچیوں کے ساتھ بدفعلی کے بڑھتے ہوئے واقعات شرمناک ہیں،حکومت فوری طور پر اس سلسلے میں شعور دلانے کے لیے اقدامات او ر تحریک چلائے ، جس میں میڈیا، علما ء ،اساتذہ اور والدین بنیادی کردا ر اداکریں ۔

پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ اسلام ایک فطری دین ہے اور ایک مکمل ضابطہ حیات رکھتا ہے،اگر ہم عملی طور پر اپنے معاشرے میں اسلامی طور طریقوں کو اپنا لیں تو جنسی تسکین بھی حاصل ہو سکتی ہے اور معاشرے میں موجود جنسی درندوں سے نجات بھی مل سکتی ہے، اسلام سب سے پہلے تو جنسی جذبے کی تسکین کو نکاح کی صورت میں قید کرتا ہے تا کہ فطرت کے بے لگام گھوڑے پر سوار ہو کر معاشرہ اپنا اخلاقی وجود نہ کھو بیٹھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام معاشرے میں ہر اس چیز پر پا بندی لگاتا ہے جو اس جذبے کے لئے مہمیز کا کام دیتا ہے اور یہ جذبہ اپنی تسکین کے لئے حرام ذرائع یا محرم رشتوں کے تقدس کو پامال کرنا شروع کر دیتا ہے،مثلا جنسی مناظر دیکھنے کے مواقع مہیا کرنا وغیرہ۔ پروفیسر ساجد میر نے مزید کہا کہ اسلا م کسی ایسی تفریح کا قائل نہیں جو شہوت انگیز ہو اور انسان کو جنسی بے راہروی کے راستے پر ڈال دے ، اسلام معاشرے میں اس جذبے کے کی تسکین کے لئے صرف جائز راستے کھلے چھو ڑتا ہے اور دوسری طرف ہر نا جائز راستے پر بند باندھنے کی کو شش کرتا ہے،اس طرح معاشرہ ان بہت سی بد اخلاقییوں، بے راہرویوں اور قبیح جرائم سے محفوظ رہتا ہے، ہم ایک ایسے ملک کے باشندے ہیں جو اسلامی جمہوریہ ہےجہاں اسلامی اصولوں کی پاسداری نہ صرف تمام شہریوں کا فرض ہے بلکہ ریاستی حکمرانوں کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ ان تمام ذرائع کا سدَ باب کرے جو معاشرے میں جنسی بے راہروی کا باعث بن رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ انٹرنیٹ پر موجود ایسے تمام فحش مواد پر پابندی لگا دے اور ایسے اقدامات اٹھائے جسے اپنا کر ملک میں جنسی زیادتی اور دل ہلا دینے والے واقعات کو روکا جا سکے ، افسوس ناک امرتو یہ ہے کہ حکومت نے ایک طرف تو ان کے سامنے جنسی لذت اور شہوت انگیزی کے بازار گرم کر رکھے ہیں جو انہیں اس جذبے کی اندھی تسکین کے لئے آمادہ کر رہے ہیں اور دوسری طرف ان کی معاشرتی، مذہبی اور خاندانی اقدار اس بے راہروی کی نذر ہورہی ہیں گویا ایک طرف فطری ابال ہے جسے حرارت دی گئی ہے اور دوسری طرف اخلاقیات کی بے بس تعلیم ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /سیالکوٹ