ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو کہ ہم کو ۔۔۔

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو کہ ہم کو ۔۔۔

تحریر: تحریم ملک

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو

کہ ہم کو

تتلیوں کے جگنوؤں کے دیس جانا ہے

ہمیں رنگوں کے جگنو ۔۔۔ 

روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں

نئے دن کی مسافت رنگ میں ڈوبی

ہوا کے ساتھ کھڑکی سے بلاتی ہے"

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو کہ ہم کو 

تتلیوں کے جگنوؤں کے دیس جانا ہے

خوابوں کی دنیا کے باسی انہی رنگوں سے کھیلتے عمر بتا دیں مگر حقیقت کی دنیا کا ہولناک چہرہ استہزایہ مسکراہٹ کے ساتھ انکی طرف دیکھتا ہےتو رنگوں میں ڈوبی ہوا تھم جاتی ہے ۔۔۔۔

سرخ آندھی خوابوں کی کھڑکی بند کر دیتی ہے۔۔۔

اور ان معصوم چہروں کی کھنکتی ہنسی چھین لیتی ہے۔۔۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ چائلڈ ابیوز کے متعلق بات کرنا یا اس کے خلاف آواز اٹھانا ہمارے معاشرے میں بے حیائی تصور کی جاتی ہے ، ہر سال سینکڑوں ہزاروں معصوم بچے اس کا شکار ہوتے ہیں ۔ایک  رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر روز 11 بچے جنسی درندگی کا  شکار ہوتے ہیں، کیا یہ حقیقت نہیں کہ یہ اعداد و شمار  ہمارے لئے انتہائی شرمناک ہیں؟؟؟۔لیکن کیا کہا جائے کہ ہمیں سہتے ہوئے شرم نہیں آتی  لیکن کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔ ۔۔۔کیوں ؟؟؟

کیوں کہ یہ وہ واحد ظلم ہے جس میں مظلوم معیوب و قابل نفرت سمجھا جاتا ہے،  وہ اچھوت ہوتا ہے، اسکے پاس زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں رہتا ، خودکشی ،علاقہ بدری ہی انکے لئے آخری حل رہ جاتا ہے۔ساری زندگی عزت کمانے میں لگ جائے تو بدنامی کا خوف ہی زبان پہ تالے ڈالنے کو کافی ہوتا ہے،شرمناک حقیقت تو یہ ہے کہ اس انسانیت سوز امر کے مرتکب افراد میں اکثریت شناساؤں کی ہوتی ہے۔کبھی بیٹا کہہ کر بلانے والا پڑوسی، کبھی انسانیت کا درس دینے والا استاد اور کبھی بھیا کے نام سے جانا جانے والا کزن۔۔۔۔ پنچایت یا جرگہ تک بات پہنچ بھی جائے تو خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آتا۔۔۔۔ ہاں مگر اس کے بعد متاثرہ بچے کو ساری زندگی کے لئے اچھوت بنا دیا جاتا ہے۔

گزشتہ کچھ سالوں میں پاکستان میں جنسی زیادتی کے  واقعات میں جس تیزی سے اضافہ ہوا  ہے وہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے مگر اس ضمن میں کوئی بھی حکومتی کارروائی سامنے نہیں آئی،  اکثر مجرمان کو سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہوتی ہے۔دو سال قبل 2016 میں پاکستان  میں چائلڈ ابیوز کا سب سے بڑا سکینڈل اسی  قصور میں سامنے آیا  تھا جہاں معصوم زینب کسی وحشی درندے کی ہوس کا نشانہ بنی مگر حکومت کی شرمناک خاموشی اور مجرمانہ غفلت اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ۔۔

انہیں خبرہے قاتلوں کے ہر ٹھکانے کی

شریک جرم  نہ ہوتے تو مخبری کرتے

دوسری طرف یہی گمبھیر خاموشی ظالم کو دلیر کرتی ہے اور کئی معصوم آئے روز اسکا خمیازہ بھگت رہے ہوتے ہیں۔ اب تو حد یہ ہے کہ  قصور میں کسی کچرے کے ڈھیر سے کسی بچے  یا  مسلی ہوئی ننھی کلی کی لاش ملنا  کسی کے لئے بھی کوئی انہونی  بات نہیں رہی۔اس قبیح فعل کی انسداد کے لئے سب سے اہم آگاہی ہے،اساتذہ اور خاص طور پر ماؤں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اور بچوں کے رشتے سے جھجک کو ختم کریں، انکو پیار اور ہوس کہ درمیان فرق بتائیں، انکو اپنے سے بڑی عمر کے بچوں سے دوستی نہ کرنے دیں ، انکو اعتماد دلائیں وہ اپنے ساتھ پیش آنے والا ہر چھوٹا بڑا واقعہ آپکو بلا جھجک بتا سکیں کیوں کہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بچوں کو ڈرا دھمکا کران کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر یہ سلسلہ ایک عرصہ تک جاری رہتا ہےاور اگر کوئی بچہ اس قسم کی کوئی بات بھی بتائے تو نظر انداز نا  کیجئے کیوں کہ اتنی سنگین بات کوئی بھی بچہ جھوٹ سے نہیں گھڑ سکتا۔ سب سے اہم بات انکو انکار کرنا سکھائیں کہ ہر ایک اجنبی سے تحفے تحائف نہ لیں ، بعض اوقات بچوں کو تحائف کا لالچ بھی دیا جاتا ہے اور پھر چاکلیٹ کے چمکتے ریپرز ساری عمر کا ناسور بن جاتے ہیں۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

                                                   

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...