بھارت کے نجی سکول سے پاکستان کے مشہور عالم دین ڈاکٹر اسرار احمدمرحوم اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کے حوالے سے ایسی چیز سامنے آ گئی کہ ہندوستان میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا ،خفیہ اداروں نے انتقامی کارروائی شروع کر دی

بھارت کے نجی سکول سے پاکستان کے مشہور عالم دین ڈاکٹر اسرار احمدمرحوم اور ...
بھارت کے نجی سکول سے پاکستان کے مشہور عالم دین ڈاکٹر اسرار احمدمرحوم اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کے حوالے سے ایسی چیز سامنے آ گئی کہ ہندوستان میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا ،خفیہ اداروں نے انتقامی کارروائی شروع کر دی

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارت کی مودی حکومت کے سر پر مشہور اسلامی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ،ہندوستانی سپریم کورٹ سے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی جائیداد ضبطی کے معاملے پر ناکامی کا سامنا کرنے والی ہندوستانی حکومت اب اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے ،ہندوستانی ریاست اتر پردیش میں مسلمانوں کی اکثریت والے مشہور شہر علی گڑھ کے ایک مقامی سکول میں’’ پیس فاؤنڈیشن ‘‘ کے بانی ،امن کے داعی اور معروف اسلامی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کو اسلامی ہیرو کے طور پر پڑھائے جانے کے معاملہ نے طول پکڑ لیا ہے اور موقع کو غنیمت جانتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسیاں بھی میدان میں آ گئی ہیں اور انہوں نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کو’’ مسلمانوں کا ہیرو‘‘ قرار دے کر پڑھانے والے سکول کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

بھارتی نجی ٹی وی چینل ’’ انڈیا ٹی وی ‘‘ کے مطابق اترپردیش میں واقع مسلمانوں کے نجی’’  اسلامک مشن سکول‘‘  میں پڑھائی جانے والی کتابوں میں سے ایک کتاب ’’علم النفع ‘‘ کے صفحہ نمبر 42پر موجودہ دور کے 9 مشہور اسلامی شخصیات  کی تصاویردی گئیں ہیں جن میں سے ایک تصویر ’’تنظیم اسلامی ‘‘ کے مرحوم سربراہ اور پاکستان کے مشہور اسلامی سکالر ڈاکٹر اسرار احمدؒ جبکہ ایک تصویر پیس فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ہے ، ان  تصاویر کو  شائع کر کے طلباء سے سوال کیا گیا ہے کہ عالم اسلام کی ان اہم اسلامی شخصیات  کی تصاویر کے نیچے ان کے نام لکھیں ۔بھارت کے اس اسلامی سکول میں بچوں کو پڑھائی جانے والی اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد ہندوستان میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے اور انتہا پسند ہندو تنظیموں نے ایک بار پھر مسلمانوں کے خلاف  دشنام طرازی شروع کر دی ہے کہ ایک ایسے شخص(ڈاکٹر ذاکر نائیک) جسے بھارتی حکومت اشتعال انگیز تقریروں اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت بھارت میں کالعدم قرار دے چکی ہے  کو مسلمانوں کے سکول میں نئی نسل کے سامنے ’’ہیرو ‘‘ بنا کے پیش کیا جا رہا ہے ،اس معاملے کے طول پکڑنے کے بعد ’’بھارتی سیکیورٹی ایجنسی ‘‘کو تفتیش کا حکم دیتے ہوئے اسلامک مشن سکول کے خلاف بھی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے ۔دوسری طرف سکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کتاب اس وقت شائع کی گئی تھی جب ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف حکومت نے کسی قسم کے کوئی الزامات عائد نہیں کئے تھے ،یہ نئی کتاب نہیں بلکہ کئی سالوں سے سکول کے نصاب میں شامل ہے ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...