پاکستان اور امریکا کے درمیان بدگمانی ختم کرنے کی ضرورت ہے:علی جہانگیر صدیقی

پاکستان اور امریکا کے درمیان بدگمانی ختم کرنے کی ضرورت ہے:علی جہانگیر صدیقی
پاکستان اور امریکا کے درمیان بدگمانی ختم کرنے کی ضرورت ہے:علی جہانگیر صدیقی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) واشنگٹن میں تعینات سابق پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی کا کہنا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان شدید بدگمانی موجود ہے جسے سفارت کاروں کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے،امریکا کی جنوبی ایشیا کے لیے حکمت عملی کامیاب نہیں تھی،گزشتہ 2 دہائیوں میں ہم کافی نقصان کرچکے ہیں اور اسے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ہمیں وقت اور محنت کی شدید ضرورت ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو  کرتے ہوئےسابق سفیر علی جہانگیر صدیقی کا کہنا تھا کہ میں ڈومور کے مطالبے کے حوالے سےمیں نہیں کہہ سکتا کہ امریکا اسے ایک غیر منصفانہ مطالبہ سمجھتا تھا یا نہیں؟ لیکن پاکستان نے امریکا سے تعلقات کے لیے بہت زیادہ کیا اور اس کی قیمت بھی چکائی ہے،یہ واضح ہے کہ امریکا کی جنوبی ایشیا کے لیے حکمت عملی کامیاب نہیں تھی،پاکستان اور امریکا کے مابین ایک طویل عرصے سے وسیع پیمانے پر مذاکرات نہیں ہوئے جس کی وجہ سے دونوں اطراف کی جانب سے وضاحت کی ضرورت ہے،سابق صدر باراک اوباما کے دورِ اقتدار میں بھی سٹریٹیجک مذاکرات اس وقت ہوئے جب دو طرفہ تعلقات بہت تیزی سے خراب ہورہے تھے،اس لیے یہ مسئلہ کافی سنجیدہ ہے، دونوں اطراف بدگمانی چھائی ہوئی ہے جسے ختم کرنے کی کوشش کرنی ہوگی، اس کے لیے دونوں ممالک کے رہنماؤں کو سفارت کاروں کے ذریعے تاریخی معاملات پر تبادلہ خیال کرکے سب واضح کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے کو سمجھنے میں ناکام ہیں،دونوں ممالک کی بیوروکرسی بہترین ہے لیکن ہمارے مقابلے میں امریکی سیاسی نظام بیوروکریسی پر اثرانداز ہوتا ہے، اس لیے ان کے نظام میں سیاسی رخ زیادہ مضبوط ہے، دونوں ممالک ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، ہماری خارجہ پالیسی کی نظر سے دیکھیں تو میں نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ ہم مختصر مدتی مسائل اور بحران کے حل میں مصروف ہیں جبکہ امریکا سے متعلق طویل المدتی پالیسی پر محدود منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

علی جہانگیر صدیقی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان نے تمام فریقین کو مذاکرات کے لیے راضی کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کی لیکن ان مذاکرات کے نتائج کا تعین پاکستانی نہیں بلکہ امریکی اور افغان شہریوں کی جانب سے کیا جائے گا، امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اس کے لیے بھرپور کوشش کررہے ہیں کیونکہ صرف افغانستان میں امن ایک عظیم مقصد نہیں بلکہ پاکستان بھی اس تنازع کی وجہ سے دہشت گردی کا بدترین شکار ہوا ہے اور اسی لیے ہم ایک پْرامن افغانستان چاہتے ہیں۔امداد اور تجارت کے حوالے سے ایک سوال پر علی جہانگیر صدیقی کا کہنا تھا کہ’’تجارت نہیں امداد‘‘ اب زیادہ عرصے تک قابل اطلاق نہیں،امداد کا اپنا کردار ہے تجارت کا اپنا لیکن ٹیکنالوجی میں بڑھتی ہوئی جدت اور دنیا میں دیگر تبدیلی کی وجہ سے ہمیں کچھ نیا دیکھنے کی ضرورت ہے جو ممکنہ طور پر تجارت کے بجائے ٹیکنالوجی ہوسکتی ہے تاہم میں یہ بھی دہراؤں گا کہ تجارت اور امداد دونوں ہی مناسب ہیں۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ہماری پاس سٹریٹیجک لوکیشن ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نوجوان آبادی ہے جو حقیقت پر یک طرفہ پوزیشن لینے کے مترادف ہے، یک طرفہ پوزیشن اپنے طور پر درست ہوتے ہوئے بھی نقصانات کو نظر انداز کرتی ہے، نوجوان آبادی کا مطلب انہیں ملازمت دینے کے لیے جدوجہد کرنا ہے جبکہ سٹریٹیجک لوکیشن کا مطلب جغرافیائی سیاست کی پیچیدگی ہے،اس لیے میں نے ہماری سٹریٹیجک لوکیشن کو ایک حقیقت کے طور پر نمٹا، بعض اوقات اس میں فوائد تھے اور دیگر مرتبہ پیچیدگیاں تھیں لیکن پیچیدگی بھی معاملات حل کرنے کا ایک موقع ہوتی ہے۔

سابق سفیر نے کہا کہ سفارتی نتائج مہارت اور وقت پر مبنی ہیں، اگر میں نے 7 ماہ کے بجائے 3 سال کام کیا ہوتا تو ہم اس سے 10 گْنا زیادہ نتائج حاصل کرسکتے تھے، یہ اتنا سیدھا اور سادہ نہیں ہے، تعلقات بنانے میں وقت لگتا ہے، واشنگٹن بھی اسلام آباد کی طرح ایک چھوٹا شہر ہے اور یہاں بھی قیادت میں چند سو افراد موجود ہیں جو وائٹ ہاؤس، کانگریس،سرکاری دفاتر، سیکیورٹی سٹیبلشمنٹ، کاروبار اور سائنسی سٹیبلشمنٹ میں بکھرے ہوئے ہیں۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد