میری روح کے ٹکڑے

میری روح کے ٹکڑے
میری روح کے ٹکڑے

  

دنیا بھر کی خواتین خصوصاً مظلوم خواتین کی عزت، وقار اور احترام اور ان کے حقوق پر میں مکمل یقین رکھتا ہوں اور جب بھی موقع ملے میں اپنے کالموں میں ان کے حق میں لکھتا رہا ہوں۔ اور اپنی ان تحریروں کے اعتراف میں اپریل 2018ء میں لندن جا کر ایک ایوارڈ بھی حاصل کر چکا ہوں۔ میں نے ملالہ یوسف زئی پر ہونے والے ظلم کے خلاف بھی اپنے قلم کے ذریعے احتجاج کیا اس لئے ملالہ بھی مجھے یہ ایوارڈ ملنے پر بہت خوش تھی۔ وہ اس تقریب میں شرکت کے لئے برمنگھم سے لندن آنا چاہ رہی تھی لیکن وہ اپنی پڑھائی کی مصروفیات کی وجہ سے نہ آ سکی تاہم اس نے ایک پیغام ضرور بھیجا۔میری سب سے بڑی بیٹی کنول زمان نے میری حوصلہ افزائی پر یہاں امریکہ میں ’’ساؤتھ ایشین وویمن ایسوسی ایشن‘‘ (ساوا) کی بنیاد رکھی اور وہ ہر سال اس کی صدر منتخب ہوتی رہتی ہے۔

اس تنظیم کے کریڈٹ پر بہت بڑے بڑے پروگرام ہیں جو ملالہ سمیت تمام خواتین کے حقوق کے حق میں بیانات جاری کرتی رہی ہے اور تقریبات منعقد کرتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس کی اقوام متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں میں شناخت ہو چکی ہے اور اس کے ارکان اور ہمدردوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی ہے۔بات کہیں دور جا رہی ہے۔ اس لئے میں واپس آکر آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میری آج کی تحریر صرف ’’اپنی بیٹیوں کے نام‘‘ ہے۔ میں شروع ہی میں کسی فلاسفی کے بغیر سادہ لفظوں میں بیٹیوں سے پیار کو واضح کرنا چاہتا ہوں۔ یہ وہ پیار ہے جس کی بنیاد یقیناً شفقت ہے لیکن اصل میں یہ لاڈ پیار کی زبان میں ایک خصوصی تحفظ (Special Care) کا نام ہے۔ جب میں بات آگے بڑھاؤں گا تو میرا یہ تصور آپ پر مزید واضح ہو جائے گا۔

میرا خیال ہے کہ برابری اور انصاف کا نظریہ میرے خون ہی میں شامل تھا۔ محکوم، مظلوم اور محروم لوگوں کی حالت پر میں بچپن سے آج تک کڑھتا رہا ہوں۔ انتہائی معمولی سطح پر میں نے اگر عملاً کچھ کیا ہے تو وہ میرا پرائیویٹ معاملہ ہے لیکن میرے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ میں بڑی سطح پر کسی منصوبے کو عملی شکل دے سکتا۔ چاہے آپ جتنی بھی نیک نیتی سے کریں میں اصولی طور پر چندہ جمع کر کے ایسا کوئی کام کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔ جب اوکاڑہ میں میں نے ہوش سنبھالا اور بچپن اور لڑکپن کے اس دور میں دنیا کی تلخ حقیقتوں کا شعور حاصل ہوا تو اپنی چھوٹی عمر کے تقاضوں کے برعکس اپنی حساس طبع کے باعث میرا ردعمل انتہائی شدید تھا۔

میں نے اپنے ایک پھوپھا کے ڈیرے پر ان کے آٹھ دس سالہ پوترے کے ہاتھوں ایک نوکر کو الٹا لٹا کر جوتوں سے پٹائی کرتے دیکھا۔ میں اس وقت آٹھویں جماعت کا سٹوڈنٹ تھا اور معمول کے مطابق شہر سے اس گاؤں میں گرمیوں کی چھٹیوں کے چند دن گزارنے آیا تھا۔ وہ ہٹا کٹا نوکر جوتے کھاتا ہوا مسکرا رہا تھا اور میں جو فاصلے پر ایک مونڈھے پر بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا بلند آواز میں رونے لگا۔ میں نے روتے روتے پھوپھا سے پوچھا اس بیچارے کا کیا قصور ہے اسے کیوں مار رہے ہیں۔ میرے پھوپھا نے جواب میں مجھے بتایا کہ اس نوکر نے کوئی قصور نہیں کیا۔ یہ تو میرے پوترے کا تربیتی کورس ہے۔ بڑے ہو کر اس کا نوکروں سے واسطہ پڑے گا اور انہیں ان کی اصل اوقات میں رکھنے کے لئے ان کی پٹائی کرنی پڑے گی۔ اس لئے میں ابھی سے اپنے پوتروں کو اس کی تربیت دے رہا ہوں جس طرح میں نے اپنے بیٹوں کو تربیت دی تھی۔ میرے لئے یہ سب کچھ انوکھا اور نا قابل یقین تھا۔

آٹھویں جماعت کی چھٹیوں میں میں تقریباً ایک مہینہ ٹائیفائیڈ کے باعث بستر پر پڑا رہا۔ مجھے یاد ہے میں شہر کے مرکز میں اپنے حویلی نما گھر کی تیسری منزل پر ایک کمرے میں جس کی کھڑکیاں سڑک پر کھلتی تھیں ساری ساری رات بستر کے تکیئے میں سر دے کر روتا رہتا تھا اور دن کو سوتا تھا۔ تب میں نے پہلی مرتبہ اپنے خدا سے اتنی شدت سے گلہ نما مکالمہ کیا تھا۔ گو تم کو تو ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر دنیاوی مظالم پر کڑھنے کا عرصہ گزارنے کے لئے روشنی مل گئی تھی لیکن مجھے روشنی تو نہ ملی البتہ جلد ہی سکون مل گیا۔ میرا لہجہ سخت تھا۔ کچھ لوگوں کے پاس آسائشیں ہی آسائشیں ہیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

لیکن کچھ لوگوں کو ہوش آتے ہی دنیا میں مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ کیوں؟ آخر کیوں؟ مجھے کچھ جواب نہیں ملا۔ لیکن چھٹیاں ختم ہوئیں اور ٹائیفائیڈ سے نجات مل گئی تو سب کچھ بھول کر سکول میں آ گیا سکول واپس گیا توخدا سے تلخ مکالمے کے تمام اثرات ختم ہو چکے تھے۔ اس کے بعد آج تک دنیا کے مظلوم لوگوں کی تکالیف دیکھ کر میری آنکھوں نے آنسو نہیں بہائے۔ آنکھوں نے یہ ذمہ داری میرے دل کے سپرد کر دی۔ میں اپنے گھر میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ اس لئے سبھی مجھے ’’بھائی صاحب‘‘ کہتے ہیں۔ مردوں کے اس معاشرے میں اپنے گھر میں والد صاحب کے بعد دوسرے سب سے معتبر فرد ’’بھائی صاحب‘‘ تھے۔ لیکن میں خاص طور پر اپنی بہنوں سے کہتا تھا کہ گھر میں سب سے زیادہ توجہ اور پیار کی مستحق میری بہنیں ہیں۔ لڑکیوں کو لڑکوں کی نسبت زیادہ لاڈ پیار اور توجہ کی ضرورت ہے۔

میرے انکار پر گھر میں والد صاحب کے بعد دوسرا معتبر مقام مجھ سے دوسرے نمبر پر بھائی کو مل گیا۔ ایک مرتبہ سب سے بڑی بہن اور میرا یہ بھائی دونوں گھر سے باہر تھے اور میری سب سے چھوٹی بہن باورچی خانے میں دوپہر کا سالن سنبھال رہی تھی۔ میں نے اتفاق سے دیکھ لیا کہ وہ بھائی کے لئے الگ سالن نکال کر رکھ رہی تھی۔ میں نے پوچھا کیا آپ کو بڑی بہن کے لئے ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا جواب تھا وہ تو لڑکی ہے۔ بھائی کا مقابلہ تو نہیں کر سکتی۔ بھائی کو گھر میں آتے ہی اچھا سالن ملنا چاہئے۔ میں نے اپنی چھوٹی بہن کی اس حرکت پر ایسا احتجاج کیا کہ اس بات کی وجہ سے ہماری کوئی ایک سال بات چیت بند رہی۔

تمام انسانوں سے برابری کا سلوک کرنے کی خواہش تو میرے خون میں شامل تھی اور دنیا میں اس نا انصافی کے رواج پر میرا اکثر خدا سے جھگڑا ہوتا رہتا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب کبھی مجھے فرصت ملے اور میں خدا سے مخاطب ہوں تو اسے پتہ ہوتا ہے کہ میں کیا پوچھنے والا ہوں۔ اس لئے وہ ہمیشہ مسکرا کر موضوع بدل دیتا ہے۔ جب میں اصرار کرتا ہوں تو خدا مجھے سختی سے ڈانٹ کر کہتا ہے کہ آپ کو میرے کاموں میں مداخلت کی اجازت نہیں ہے۔البتہ فطرت کی طرف سے مجھے یہ اشارہ ضرور ملا ہے کہ مجھے پیدا ہی بچیوں سے خصوصی شفقت کے لئے کیا گیا ہے۔ میری تین بیٹیاں ہیں، کنول، شاہ رخ اور بسما۔ مجھ پر خدا کی طرف سے خاص عنایت ہوئی کہ مجھے کوئی بیٹا نہیں ملا۔ پھر میرا بیٹیوں سے مسئلہ ہی رہتا کہ انہیں کبھی وہ شفقت، تحفظ اور لاڈ پیار نہ ملتا جو میں بیٹیوں کو دیتا ہوں۔ میں نے اپنی تین بیٹیوں کی پرورش میں ان کی ماں کا اتنا ساتھ دیا کہ میں چھوٹی بچیوں کو خوش کرنے کا ماہر ہو گیا ہوں۔ میرا یہ لاڈ صرف تین بیٹیوں تک محدود نہیں ان میں میرے خاندان کی دیگر چھوٹی بچیاں بھی شامل ہیں۔

مجھے یقین ہے جتنا میں ان سے لاڈ کرتا ہوں ان کو بھی مجھ سے اتنا ہی لگاؤ ہے۔میری بیٹیوں کے اس وسیع تر حلقے میں یہ بچیاں شامل ہیں۔ فاطمہ ناصر، روشنا احمد، کھنک جوشی، زیبی محمود، ربیعہ اکرم، شاہ تاج سلطان، ثناء منیر، سدرہ نواز، صدف نواز، مبشرہ نواز، عمارہ نواز، رابعہ طارق، زنیرہ الٰہی اور انیرہ الٰہی یہ سب اپنے ماں باپ جیسا ہی سلوک مجھ سے کرتی ہیں اور ان کے تاؤ یا ماموں بھی ان سے بیٹیوں جیسا لاڈ کرتے ہیں۔ میری مجلس میں وہ ویسا ہی خصوصی تحفظ محسوس کرتی ہیں جیسا وہ اپنے گھر میں کرتی ہیں۔ اس پر مستزاد پاپا، تاؤ جی یا ماموں جان بیٹیوں کو خوش رکھنے کے سب طریقے جانتے ہیں۔ ان کی پسند کی کہانیوں، لطیفوں اور چٹکلوں کا میرے پاس وافر سٹاک ہے۔ اس لئے ممکن نہیں ہے وہ میرے پاس سے اٹھ کر کسی اور کام کے لئے چلی جائیں۔

سب سے بڑی بیٹی کنول کی پیدائش پر میں نے ’’تسلسل‘‘ کے عنوان سے ایک آزاد نظم لکھی تھی جو ’’نوائے وقت‘‘ کے ادبی ایڈیشن میں شائع ہوئی جو میں آپ کو سنانا چاہتا تھا لیکن کالم کی جگہ کم ہو رہی ہے۔ اس کی تھیم یہ تھی کہ کنول کی صورت میں میرے نام کو تسلسل مل گیا ہے۔ اور مجھے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ میری روح کی تقسیم کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ میری روح اب مکمل شکل میں میرے پاس نہیں رہے گی۔ قدرت نے بنایا ہی اسے تقسیم کے لئے ہے۔ اس روح کا ایک ٹکڑا اپنی اصل سے الگ ہو کر ایک سائبان کی طرح اپنی اس بیٹی کے سر پر سایہ فگن ہوا۔ تقسیم کا یہ عمل اپنی دوسری دو بیٹیوں سے گزر کر ان بچیوں تک پہنچا جنہیں مجھ سے باپ جیسا تحفظ ملا جس کے سائے میں وہ پورے سکون اور اطمینان سے مزے کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ میں اس دنیا میں رہوں نہ رہوں لیکن تحفظ،اطمینان اور سکون فراہم کرنے والے سائبانوں کی صورت میں میری روح کے ٹکڑے میری چہیتی بیٹیوں کے آس پاس ہمیشہ موجود رہیں گے۔ اس روح کو سکون کے لئے اور کیا چاہئے۔؟

مزید :

رائے -کالم -