ایل ڈی اے سٹی سے متعلق کیس، سپریم کورٹ پلاٹوں کی تقسیم کمیٹی میں نیب افسران کو شامل کرنے پر برہم

ایل ڈی اے سٹی سے متعلق کیس، سپریم کورٹ پلاٹوں کی تقسیم کمیٹی میں نیب افسران ...
ایل ڈی اے سٹی سے متعلق کیس، سپریم کورٹ پلاٹوں کی تقسیم کمیٹی میں نیب افسران کو شامل کرنے پر برہم

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان ایل ڈی اے سٹی سے متعلق کیس میں پلاٹوں کی تقسیم کمیٹی میں نیب افسران کو شامل کرنے پر برہم ہو گئی، چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نیب کا اس کمیٹی میں کیا کام ؟نیب کی تلوارکیوں لوگوںکے سروں پرلٹکا دی ۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے ایل ڈی اے سٹی سے متعلق کیس کی سماعت کی،وزیرہاﺅسنگ میاں محمود الرشید عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس پاکستان نے پلاٹوں کی تقسیم کمیٹی میں نیب افسران کو شامل کرنے پر سخت برہمی کا اظہارکیا، چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ نیب کا اس کمیٹی میں کیا کام ؟نیب کی تلوار کیوں لوگوں کے سرپر لٹکا دی،نیب نے وکلاکی فیسوں کی چھان بین شروع کردی ہے ۔

وزیر ہاﺅسنگ نے کہا کہ ایڈن سوسائٹی کے متاثرین خوار ہو رہے ہیں ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایڈن سوسائٹی کا کیس تو حل ہو چکا ہے ، وزیر ہاﺅسنگ نے کہا کہ ڈاکٹر امجد والا کیس ابھی تک حل نہیں ہوا وہ بیرون ملک چلے گئے ہیں ،عدالت نے کہا کہ ایل ڈی اے سٹی میں لوگ پیسے دے کربیٹھے ہیں لیکن زمین نہیں ملی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کسی کے ساتھ ظلم نہیں ہونے ہونگے ۔

میاں محمود رشید نے کہا کہ 9 ہزار افرادکے پاس زمین کی فائلیں ہیں لیکن زمین نہیں ،98 ہزارزمین کا قبضہ ابھی واگزار کرانا ہے ،ساڑھے 13 ہزارکنال زمین کی تقسیم کی پلاننگ کر رہے ہیں،وزیر ہاﺅسنگ نے کہا کہ ایل ڈی اے سٹی کی زمین ٹکڑوں کی صورت میں موجود ہے۔

مزید : قومی /علاقائی /پنجاب /لاہور