اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 112

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 112

  

اس حقیقت سے وہ بھی باخبر تھا کہ کمار گری کو راستے سے ہٹانا کوئی معمولی کام نہیں ہے لیکن شاہی رقاصہ رامائینی کے پریم نے اس کی آنکھوں پرپٹی باندھ رکھی تھی۔ وہ ایک دول تمند اور بااثر شخص تھا۔ مگر وہ جانتا تھا کہ کمارگری ایک زبردستی روحانی طاقت کا مالک ہے اور اجین میں اسے ایک مذہبی پیشوا کی حیثیت حاصل ہے اور کوئی شخص اسے قتل کرنے پر آمادہ نہ ہوگا۔ اس نے ایک دوسری چال چلی۔ اپنے ملک کے خاص دراوڑی غلام کو جنوبی ہند کے ایک شہر میں بھیجا جہاں سانپوں کی پوجا ہوتی تھی۔ وہاں سے اس نے ایک انتہائی مہلک زہر والا کالا سانپ منگوایا جس کا ڈسا پانی نہیں مانگتا تھا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 111 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ایک رات گرودیوکمار گری کی خدمت سے اٹھ کر اپنی جھونپڑی میں آکر ابھی لیٹا ہی تھا کہ شور سا مچ گیا۔ میں باہر نکلا۔ وہ چیلا جو رات کو گرودیو کو سونے سے پہلے گنگا جل دیا کرتا تھا گھبرایا ہوا پکار رہا تھا کہ مہاراج کو کالے ناگ نے کاٹ لیا ہے۔ میں نے تھیلے میں سے اپنے سانپ دوست کا دیا ہوا مہرہ نکالا اور گرودیو کی جھونپڑی کی طرف بھاگا۔ گرودیو کمارگری جلتے چراغ کے سامنے چوکی پر آسن جمائے بیٹھے تھے اور ان کے سامنے ایک کالا ناگ پھن اٹھائے جھوم رہا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر سانپ کو کچلنا چاہا تو کمارگری نے مجھے روک دیا اور کہا’’وشال دیو! اسے کچھ نہ کہنا اس نے مجھے کاٹ لیا ہے لیکن میری محبت نے اس پر ندامت طاری کردی ہے۔ یہ اپنا زہر واپس لینے آیا ہے۔‘‘

میں ایک طرف ہٹ کر کھڑا ہوگیا۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے کالا سانپ جھومتا ہوا کمارگری کے آسن کے قریب گیا۔ اس نے اپنا پھن جھکایا اور منہ پنڈلی پر اس جگہ رکھ دیا جہاں اس نے کاٹا تھا۔ پھر کمارگری کے جسم میں داخل کیا ہوا سارا زہر چوس لیا اور کمار گری کے اردگرد دوچکر لگائے اور ج دھر سے آیا تھا اُدھر واپس چلا گیا۔

اس کے جانے کے بعد گرودیو کمارگری مسکرائے اور بولے ’’محبت میں بڑی طاقت ہے۔ محبت ہی اصل عبادت ہے دیکھو۔ اس نے مجھے کاٹا تھا لیکن میری محبت نے اسے زہر واپس لینے پر مجبور کردیا۔ بھگوان کی ساری مخلوق اسی طرح آپس میں محبت کے رشتوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ وشال دیو! تم بھی بھگوان کی مخلوق سے محبت کرو۔ کسی سے نفرت نہ کرنا۔ کسی سے حسد نہ کرنا۔ ورنہ تم بھگوان سے دور ہوجاؤ گے۔‘‘

میں نے کہا ’’گرودیو یہ سانپ کس نے یہاں پھنکوایا ہے۔ آج تک کبھی کوئی سانپ ادھر نہیں آیا۔‘‘

کمار گری نے مسکرا کر جواب دیا ’’جس نے مجھے سانپ سے ڈسوایا ہے مجھے اس سے بھی پریم ہے۔ میں اس کا بھی بھلا چاہتا ہوں۔‘‘

میں اس انسان دوست بزرگ انسان کی وسعت قلب پر حیران تھا۔ مجھے عباسی خلفاء کے دور کے بزرگان دین یاد آرہے تھے جو اسی طرح خدا کی مخلوق سے محبت کرتے تھے اور کبھی کسی کا برا نہیں چاہتے تھے۔ خود تکلیفیں اور مصیبتیں اٹھاتے تھے مگر خلق خدا کے لئے ہمیشہ دعائیں مانگا کرتے تھے۔

گرودیو کمارگری کی زندگی پر حملے میں ناکامی کے بعد جاگیردار باسودیوا انتہائی مرعوب ہوا اور شہر چھوڑ کر جنوبی ہند کی طرف چلا گیا۔ گرودیو کمارگری کا رقاصہ رامائینی کو اپدیش جاری تھا۔ میں محسوس کررہا تھا کہ رامائینی پر کمارگری کے لیکچروں اور نیکی کی تلقین کا خاطر خواہ اثر ہونے لگا تھا۔ اس نے اپنے محل میں ان امراء کا داخلہ بند کروا دیا تھا جو کبھی کبھی وہاں آیا کرتے تھے۔ اب وہ سولہ سنگھار بھی نہیں کرتی تھی۔ ہمیشہ ہمیں سادہ سی موٹے کپڑے کی ساڑھی میں ملبوس ملتی۔ اس کے محل میں اب نغمات عیش کی جگہ بھجن کی آوازیں بلند ہونے لگی تھیں۔ یہ ایک بہت بڑی اور خوش آئند تبدیلی تھی۔

لیکن اس سے بھی بڑی تبدیلی گرودیو کمارگری کے اندر پیدا ہورہی تھی۔ میں دیکھ رہا تھا کہ اپدیش دیتے ہوئے گرودیو کمارگری رقاصہ رامائینی کو اپنے بہت قریب بٹھاتے اور کبھی کبھی اس کے کاندھے پر ہاتھ بھی رکھ دیتے تھے۔ ایسا انہوں نے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ وہ اپنے چیلوں کے آگے صبح کے درس میں بھی کچھ اکھڑے اکھڑے سے رہتے تھے۔ ان کا لہجہ بھی بے اثر سا ہونے لگا تھا۔ وہ رقاصہ رامائینی کے محل میں جانے کو بے تاب رہتے۔ اب وہ دن کا زیادہ وقت رقاصہ کے محل میں بسر کرتے۔ وہیں کھانا بھی کھاتے۔ رامائینی ان کے آگے بچھی جاتی تھی۔ اس نے رقص کرنا اور گانا بھی ترک کردیا تھا۔ ایک دن میں یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ گرودیو کمارگری نے رقاصہ رامائینی سے کہا

’’رامائینی! رقص اور گانا تو رام لیلا کا حصہ ہے۔ بھگوان کرشن کی گوپیاں بھی رقص کیا کرتی تھیں اور کرشن سے پریم کرتی تھیں۔ تم بھی کبھی کبھی میرے سامنے رقص کرلیا کرو۔‘‘

یہ ایک خطرناک انقلاب تھا۔ مجھے گرودیو کمارگری کے الفاظ پر یقین نہیں آرہا تھا۔ خود رامائینی کو بھی کچھ حیرت سی ہوئی کہ مہاراج یہ کیا کہہ رہے ہیں لیکن اس نے زیادہ خیال نہ کیا اور کہا

’’مہاراج! آپ کے اپدیش نے مجھے ایسے مقام پر پہنچادیا ہے جہاں مجھے رقص و سرور گھٹیا باتیں لگتی ہیں۔ میں اگر چاہوں بھی تو اب ایسا نہیں کرسکتی۔‘‘

گرودیو خاموش ہوگئے۔ ان کے چہرے پر ایک بے سکونی، بے اطمینانی اور اندرونی اضطراب کا تاثر تھا۔ انہوں نے واپس آکر اپنے آپ کو مٹھ کی جھونپڑی میں بند کرلیا اور دو روز تک اندر ریاضت اور کٹھن تپسیا کرتے رہے۔ اس دوران نہ وہ باہر نکلے اور نہ کسی کو اندر آنے کی اجازت دی۔

میں سمجھ گیا کہ گرودیو کے اندر فطری جذبوں نے جو سراٹھایا تھا وہ اسے دبانے کی کوشش کررہے ہیں۔ رقاصہ رامائینی کے تیر نظر نے ان کی برسوں کی تپسیاں اور ریاضت کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

تیسرے روز وہ کٹیا سے باہر نکلے تو انہوں نے مجھے بلا کر کہا کہ اب وہ رقاصہ رامائینی کے محل پر نہیں جائیں گے۔ وہ سارا دن بے چین سے پھرتے رہے۔ انہوں نے دوپہر کے بعد کا درس بھی نہ دیا۔ چیلے بھی ان کی اس تبدیلی پر حیران سے تھے مگر کسی کو زبان ہلانے اور کچھ پوچھنے کی جرأت نہیں ہورہی تھی۔ میں بھی خاموش تھا۔ شام کو گرودیو نے مجھے ساتھ لیا اور رامائینی کے محل پر پہنچ گئے۔ رامائینی اس وقت جوگنوں ایسے گیروے کپڑے پہنے اشلوک پڑھ رہی تھی۔ اس کی دیوداسیوں نے بھی گیروے کپڑے پہن رکھے تھے۔ محل کی فضا ایک مندر کی فضا میں بدل چکی تھی۔

گرودیو کو دیکھ کر وہ ہاتھ باندھ کر اٹھ کھڑی ہوئی اور اس نے جھک کر پرنام کیا۔ گرودیو کمارگری اس کو بغور دیکھتے رہے۔ پھر بولے ’’رامائینی! کہیں میں نے تمہاری دنیا سے واپس لاکر غلطی تو نہیں کی؟‘‘

رقاصہ رامائینی نے چوک کر گرودیو کی طرف دیکھا اور کہا

’’مہاراج! یہ آپ کہہ رہے ہیں۔ میں تو جہنم سے نکل کر جنت کی فضاؤں میں آگئی ہوں۔‘‘

گرودیو چپ ہوگئے۔ انہوں نے اپنے سر کو ہلکا سا جھٹک دیا اور بولے’’ہاں رامائینی! تم ٹھیک کہتی ہو۔ بھگوان نے تم پر رحم کیا ہے۔ تم آگ سے نکل کر پھولوں کی وادی میں آگئی ہو۔ اچھا اب ہم چلتے ہیں۔‘‘

رقاصہ رامائینی انہیں روکتی ہی رہ گئی مگر گرودیو تیز تیز قدموں سے محل سے نکل کر ندی پر آگئے۔ یہاں کشتی تیار کھڑی تھی۔ انہوں نے اپنی لال لال آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور غصے میں بولے

’’وشال دیو! مجھے یہاں سے لے چلو۔ لے چلو۔‘‘

میں نے اس سے پہلے انہیں ایسی غصیلی حالت میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں جلدی سے کشتی میں اترگیا۔ گرودیو بھی کشتی میں آکر بیٹھ گئے۔ رقاصہ رامائینی ننگے پاؤں دوڑیتی ہوئی محل کی سیڑھیوں تک آگئی۔ وہ ہاتھ باندھ کر کھڑی تھی۔ گرودیو کمار گری نے آنکھ اٹھا کر بھی اس طرف نہ دیکھا اور کشتی تیز چلانے کا حکم دیا۔

دو تین روز گزرگئے۔ گرودیو کمارگری رقاصہ رامائینی کے محل میں نہ گئے۔ وہ سارادن کٹیا میں آسن جمائے بیٹھے گیان دھیان میں مصروف ہونے کی کوشش کرتے لیکن کئی بار پریشان سے ہوکر کٹیا سے باہر نکل آتے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے چیلوں پر برسنے لگتے۔

چوتھا دن جارہا تھا۔ شام ہونے والی تھی۔ سورج سنبل اور سیتا پھل کے درختوں کے پیچھے غروب ہورہا تھا کہ چیلوں کی جھونپڑیوں میں ہلکا ہلکا شروع سا بلند ہوا۔ معلوم ہوا کہ رقاصہ رامائینی کی سواری آئی ہے۔ اتنا سننا تھا کہ گرودیو کمارگری ہاتھ میں زمرد کی مالا پکڑے اپنی کٹیا سے باہر نکل آئے۔ سامنے رقاصہ رامائینی گیروے کپڑوں میں ملبوس، گلے میں مالائیں پہنے، لمبے بال شانوں پر بکھرا ئے، ہاتھ باندھے، رام نام کا جاپ کرتی اپنی دیوداسیوں کے ساتھ گرودیو کمارگری کی جھونپڑی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ گرودیو جیسے سکتے کے عالم میں اسے تک رہے تھے۔ رامائینی گرودیو کے سامنے آکر جھک گئی اور ہاتھ باندھ کر بولی

’’سوامی جی! میں نے اپنے گناہ آلود محل کو چھوڑ دیا ہے وہاں کی فضا میں مجھے اپنی گناہ کی زندگی کی یاد آتی تھی۔ میں سکون دل سے تپسیا نہیں کرسکتی تھی اس لئے میں محل کو چھوڑ کر آپ کی جوگن بن کر آپ کے مٹھ میں آگئی ہوں۔ میرے لئے یہ آنند مٹھ ہے۔ مجھے اپنی داسی بنا کر اپنے چرنوں میں رکھ لیجئے۔‘‘

گرودیو کمارگری کے چہرے پر میں نے ایک ایسی چمک دیکھی جس میں عبادت گاہ کے چراغ کے تقدس کی بجائے گھنے جنگلوں میں کڑکنے والی بجلیوں کی لپک تھی۔ انہوں نے آگے بڑھ کر رقاصہ رامائینی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا

’’رامائینی! آج سے تم ہماری بھکشنی بن کر ہمارے مٹھ میں رہو گی۔‘‘

گرودیو کے حکم سے ان کی کٹیا کے ساتھ والی جھونپڑی خالی کرواکر وہاں رقاصہ رامائینی کو رہنے کی اجازت دے دی گئی۔(جاری ہے )

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 113 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار