رجب طیب اردوان اورپاکستان

رجب طیب اردوان اورپاکستان
رجب طیب اردوان اورپاکستان

  

ترکی پاکستان کامخلص دوست ہے جس نے ہمیشہ ہی پاکستان کا ہر مشکل میں بھرپور ساتھ دیا ہے اورخاص طور پرجب سے جناب اردوان کی قیادت برسراقتدار آئی ہے انہوں نے پاکستان کیساتھ اپنی دوستی کومزید مضبوط اور توانا بناکر دونوں ممالک کے عوام کوایک دوسرے کے بہت قریب لاکھڑا کیا ہے۔ اردوان اور انکی پارٹی کاترکی میں برسراقتدار رہنا پاکستان کیلیے خوش قسمتی کاباعث ہے کیونکہ ترک صدر پاکستان کیساتھ اپنی محبت اور چاہت کااظہار صرف بیان بازی تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ وہ ہمیشہ عملی طور پراسکا ثبوت بھی فراہم کرتے ہیں ۔

یہ اردوان صاحب ہی ہیں جنہوں نے 2005 میں پاکستان اور کشمیر میں آنے والے شدید زلزلے جس نے کشمیرکے علاقوں کوصحفہ ہستی سے مٹادیاتھا بھارت کے تمام ترانتباہ کے باوجود آذادکشمیرکادورہ کرتے ہوئے پاکستان اور کشمیری کیساتھ اظہارِ160یکجہتی کیاتھا اور پاکستان میں آنیوالے اس ہولناک زلزلے کی تباہ کاریوں میں پاکستان اورکشمیری عوام کی مدد کیلیے خود امدادی مہم شروع کی تھی ۔ امدادی رقم جمع کرتے ہوئے اس رقم کو خود کشمیری عوام تک پہنچایا تھا اور اس سے قبل انکی اہلیہ آمینہ اردوان نے خواتین کی جانب سے جمع کردہ امدادی رقوم جس میں انہوں نے اپنا مشہور نیکلس بھی نیلامی میں فروخت کیاتھا یہ رقم لیکر خود پاکستان پہنچی تھیں ۔ ترک عوام نے زلزلے سے متاثرہ لوگوں کیلیے چند ہی دنوں میں اتنی بڑی مقدار میں رقم جمع کی تھی جسکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

پاکستان میں 2010 میں آنے والے شدید سیلاب نے بھی ترکوں کو ایک بار پھرشدید غم وکرب میں مبتلاکردیا۔ اس دور میں بھی اردوان صاحب اور انکی اہلیہ نے سیلاب متاثرین کے جوامداد کی اْس سے پاکستانی بڑے متاثرہوئے تھے ۔مسئلہ کشمیر پرجناب صدر اردوان اور انکی جماعت نے جو موقف اختیار کررکھا ہے ۔وہ پاکستانیوں اور کشمیریوں کیلیے باعث فخر ہے جس سے انکے پاکستان کاسچا دوست ہونے کی واضع عکاسی ہوتی ہے۔ کشمیرکے بارے میں ترکی اور ایران ہی واحد ملک ہیں جو کسی قسم کا دباؤ قبول کیے بغیرہمیشہ ہی پاکستان کے موقف کی کھل کرحمایت کرتے چلے آئے ہیں۔

ترک صدر جناب اردوان کے پاکستان کی تمام ہی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤ ں سے بڑے قریبی مراسم ہیں ۔پنجاب میں میٹرو سسٹم کے اجراء کیساتھ ساتھ صحت کے شعبے میں ترکی سے جوتعاون حاصل ہوا اس میں صدراردوان صاحب کی ذاتی کاوشوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ انہی کے احکامات کی وجہ سے کشمیر اور پاکستان کے طلباء کیلیے ترکی کی یونیورسٹیوں میں اسکالرشپ میں اضافہ کرنے کیساتھ ساتھ طلباء کی تعداد بھی بڑھائی گئی ہے۔ علاوہ ازیں حکومتِ160ترکی نے اسکالرشپ پر موجود طلباکو پاکستان واپس جانے اور وہاں پرانکوجاب کے مواقع فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی لی ہے ۔اْنکا کہنا ہے کہ پاکستان اور ترکی دوستی کے لازوال رشتے میں بندھے ہیں جنہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا ۔

جناب اردوان ہمیشہ ہی پاکستان کیشانہ بشانہ کھڑے دیکھائی دیتے ہیں اور کسی بھی ملک کی جانب سے چاہے بھارت ،افغانستان ،یا امریکہ ہی کیوں نہ ہو اپنی دوستی کو نبھاتے ہوئے ان ممالک کے رہنماؤ ں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے اس طریقے سے متنبہ کرتے ہیں جیسے وہ پاکستان ہی کے رہنما ہوں اور یہ بیان انکے ملک کے بارے میں دیاگیاہو ۔انکا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں تاریخی اور لازوال ہیں ۔پاکستان اور ترکی برادر ملک ہیں اور ہرطرح کی صورتحال میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں ۔

انکا کہنا ہے کہ اسلام دشمن قوتیں اسلامی ممالک کو ہی نشانہ بنا رہی ہیں کیونکہ یہ تمام اسلامی ممالک قدرتی وسائل سے مالامال ہیں ۔انہوں نے مغربی ممالک کو خبردارکرتے ہوئے واضع کیا کہ اگر انہوں نے اسلامی ممالک کو تنہا کرنے کی کوشش کی تو وہ خود ہی تنہا رہ جائیں گے۔ان شاء اللہ جب تک اردوان ایسی قیادت امت مسلمہ میں موجود ہے ،دشمنوں کے عزائم پورے نہیں ہوں گے ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔

مزید : بلاگ