انا للہ وانا الیہ راجعون،ملک کی ممتاز روحانی شخصیت ، فاضل دارالعلوم دیوبند مولانا حمداللہ جان 105 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

انا للہ وانا الیہ راجعون،ملک کی ممتاز روحانی شخصیت ، فاضل دارالعلوم دیوبند ...
انا للہ وانا الیہ راجعون،ملک کی ممتاز روحانی شخصیت ، فاضل دارالعلوم دیوبند مولانا حمداللہ جان 105 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

  

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملک کے ممتاز بزرگ عالم دین،فاضل دارالعلوم دیوبند  اور روحانی شخصیت مولانا حمد اللہ جان طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ،ان کی عمر 105 سال تھی،مولانا حمد اللہ جان کی نماز جنازہ کل 2 بجے ادا کی جائے گی ۔مولانا حمد اللہ جان شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلویؒ کے شاگرد تھے ،ملک کے طول عرض میں ان کے اپنے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ، شیخ التفسیر و الحدیث مولانا حمد اللہ جان اس دور کی عظیم علمی، تدریسی، تحقیقی اور روحانی شخصیت تھے لیکن وہ اسلاف کے طرح نمود و نمائش کی بجاۓ فقیر مزاج اور درویش صفت  صفات کے مالک تھے ،انہوں نے نہ صرف خیبر پختونخوا کے ہزاروں افراد کو قرآن و حدیث سکھایا بلکہ ان سے بے شمار قبائلی ، بلوچ اور افغانی طلباء نے بھر پور استفادہ کیا۔ 

تفصیلات کے مطابق ملک کی مشہور روحانی شخصیت اور ممتاز عالم دین مولانا حمداللہ جان  المعروف ’’ڈاگئی باباجی‘‘ گذشتہ کچھ عرصہ سے علیل اور ہسپتال میں زیر علاج تھے ،مولانا حمد اللہ جان  بلاشبہ پاکستان میں اسلامی علوم کی کہکشاں تصور کئے جاتے تھے،وہ  تفسیر، حدیث، فقہ، اصول فقہ، منطق، فلسفہ، مناظرہ، علم کلام، نحو و صرف، شعر و ادب میں کمال مہارت رکھتے ہیں، وہ تصوف کے چاروں سلسلوں میں مجاز اور فن عملیات کے بھی امام تھے۔مولانا حمد اللہ جان ‏1914 میں پیدا ہوئے ،انتقال کے وقت ان کی عمر تقریبا 105 سال تھی ،پاکستان میں عمر اور علم کے اعتبار سے کوئی دوسرا عالم ان کا ہم پلہ نہیں تھا۔شیخ الحدیث مولانا حمد اللہ جان ، اپنے زمانے کے مشہور مشائخ کے شاگرد اور اونچی نسبتوں کے امین تھے، انہوں نے اپنے والد علامہ عبدالحکیم اور اپنے چچا مولاناصدیق صاحب سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، یہ دونوں بزرگ حضرت شیخ الہند کے شاگرد اور حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے ہم درس تھے، فنون کی کتابیں انہوں نے مولانا حبیب اللہ سے پڑھیں، مولانا حبیب اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے سابق شیخ الحدیث و صدر مفتی، مفتی فرید صاحب کے والد ماجد تھے، بابا جی نے دارلعلوم دیوبند میں کچھ عرصہ پڑھا لیکن طالب علمی کے آخری تین سال مظاہر علوم سہارن پور میں گزارے اور سن ہجری 1366 (1947) میں وہیں سے انہوں نے دورہ حدیث کیا، صحیح بخاری شریف جلد اول، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ، جلد ثانی، حضرت مولانا عبداللطیف صاحب، ترمذی شریف ولی کامل مولانا عبد الرحمن کامل پوری اور سنن نسائی مولانا اسعد اللہ صاحب سے پڑھی، یہ سب مشایخ حدیث اپنے دور کے مانے ہوئے اہل اللہ تھے، اس وقت ان ہی نفوس قدسیہ سے مظاہر علوم سہارن پور کا گلشن حدیث آباد تھا۔مولانا حمداللہ جان باباجی نے پون صدی تک اپنے علاقہ " ڈاگئی" مردان میں اسلامی علوم کی تدریسی اور تصنیفی خدمات انجام دیں، شعبان رمضان میں ان کے چالیس روزہ دورہ تفسیر سے بھی ہزاروں علماء نے فیض اٹھایا

افغانستان میں 1997 میں امارت اسلامیہ قائم ہوئی، تو اسلامی ریاست کی دعوت پر مولانا حمداللہ جان صاحب کابل تشریف لے گئے اور چند سال امارت اسلامیہ کے دارالعلوم فاروقیہ میں شیخ الحدیث اور شیخ التفسیر کے منصب پر تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، یہاں ہزاروں علماء نے آپ سے شرف تلمذ حاصل کیا۔مولانا حمد اللہ جان کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقے درگئی مردان میں کل 2 بجے دوپہر ادا کی جائے گی ۔

مزید : قومی /اہم خبریں