فروغ معیشت کیلئے تاجر براداری کا کردار ناگزیر:صادق سنجرانی

فروغ معیشت کیلئے تاجر براداری کا کردار ناگزیر:صادق سنجرانی

  



اہور(لیڈی رپورٹر)چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ بزنس کمیونٹی معیشت کا اہم ترین جزو ہے اورملکی معیشت کے فروغ کیلئے تاجر برادری کا کردار ناگزیر ہے جو موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، حکومت کاروبار کیلئے مناسب ماحول کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہے اور صنعت و تجارت اور برآمدات کے فروغ کیلئے نجی شعبہ کے ساتھ مل کر کام کر نا چاہتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر عرفان اقبال شیخ سے خصوصی ملاقات کے دوران کیا،چیئرمین سینٹ سے ملاقات کا مقصد تاجر برادری کیلئے پالیسی سازی کیلئے تجاویز پیش کرنا تھا۔ چیئر مین سینیٹ نے کہا کہ حکومت معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی معیار پر پورا اُترنے اور اپنی مصنوعات میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کریں۔ تاجر برادری برآمدات کے فروغ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرے اور ان کے حل کیلئے حکومت کو آگاہ کرے۔ انہوں نے تجارت خصوصا برآمدات میں اضافے کیلئے نئی مارکیٹیں تلاش کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کو صنعت و تجارت اور معیشت کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کرنا ہو گا، انہوں نے اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے بھرپور تعاون کی بھی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہا کہ حکومت تمام سٹیک ہولڈرز بشمول تاجر برادری اور سول سوسائٹی کے تعاون سے تمام معاشی چیلنجز پر قابوپانے کیلئے پُر عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت، ایکسپورٹس، ٹیکس، ریوینیو اور ملازمت کے مواقعوں کی فراہمی میں تاجر برادری کا کردار ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے تجارتی اور پارلیمانی وفود بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ صدر لاہور چیمبر عرفان اقبال شیخ نے چیئر مین سینیٹ کو آگاہ کیا کہ لاہور چیمبر نے رواں سال کو برآمدات کے فروغ کا سال قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ معاشی انڈیکیٹرز میں بہتری دیکھنے کے باوجود برآمدات پوٹینشل کی عکاسی نہیں کرتیں۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات کے فروغ کیلئے لائحہ عمل ترتیب دینا ہو گا جس میں نئی مارکیٹوں کو شامل کرنے پرخصوصی توجہ دی جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیشہ ورانہ تربیت یافتہ افرادی قوت کا حامل ملک ہے،تاہم ہمیں ہنر مند افرادی قوت بھی برآمد کرنی چاہیے جس سے پاکستان کے غیر ملکی زر مبادلہ میں کم از کم دو گنا تک اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں خطے کے دیگر ممالک سے مقابلے کا خوف نہیں ہونا چاہیے بلکہ حکومت کو چاہیے کہ متوازن ڈیوٹی سٹرکچر، سبسڈیز، پیداواری لاگت اور نان ٹیرف بیرئیر سمیت ہر سطح پر یکساں مواقع فراہم کرے۔عالمی حلال فوڈ انڈسٹری کا حجم تین کھرب ڈالر ہے، جبکہ پاکستان کا حلال فوڈ انڈسٹری کی بھرپور صلاحیت رکھنے کے باوجود اس میں حصہ نہایت کم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس سیکٹر کی برآمدات میں محض معمولی مارجن ہی حاصل کر پاتا ہے کیونکہ ہماری ایئرلائینوں میں جلد خراب ہونیوالی مصنوعات کی ترسیل کا مناسب گنجائش نہیں ہے۔

مزید : کامرس