پاکستان سنگترے پیدا کرنیوالے دنیا کے پہلے دس ممالک میں شامل

پاکستان سنگترے پیدا کرنیوالے دنیا کے پہلے دس ممالک میں شامل

  



راولپنڈی (اے پی پی) محکمہ زراعت پنجاب کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں کنو کی پیداوار دیگر ترشاوہ پھلوں سے تقریباً 80 فیصد زیادہ ہے جبکہ ترشاوہ پھلوں کی عالمی منڈیوں تک رسا ئی کے لئے ”پیک ہاؤس“کے قیام کا کردار بہت اہم ہے۔زرعی ترجمان نے اے پی پی کو بتایاکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ترشاوہ پھل 2 لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبہ پر پیدا ہورہے ہیں جن سے تقریباً 2.33 ملین ٹن سے بھی زیادہ پیداوار حاصل ہورہی ہے۔ اس وقت ہم ترشاوہ پھلوں کی پیداوار کا صرف 9 سے 10 فیصد تک برآمد کرکے زرمبادلہ کما رہے ہیں جبکہ اس حجم کو مناسب احتیاط اور سائنسی طریقوں کو اختیار کر کے تین گنا تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا میں سنگترے پیدا کرنے والے پہلے دس ممالک میں ہوتا ہے۔ ترشاوہ پھلوں کا بیشتر نقصان برداشت اور درجہ بندی جیسے اہم امور کی ادائیگی کے دوران جب زیادہ باغات ٹھیکیداروں کو فروخت کر دئیے جاتے ہیں اور ٹھیکیدار یا تو پھل بہت پہلے توڑ لیتا ہے یا اس کو بہت دیر تک پودوں پر لگا رہنے دیتا ہے اندریں حالات پھل کی فعلیاتی اور تجارتی پختگی دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ جدید دور میں جبکہ پھلوں کی خاصیت کا بہتر ہونا اور مقررہ بین الاقوامی معیار پر پورا اترنا انتہائی ضروری ہے باغبانوں کو چاہیے کہ وہ پھلوں کی برداشت و سنبھال کے دوران ماہرین کی سفارشات پر عمل کریں۔ پنجاب میں کنو کی پیداوار کے اضلاع میں سخت سرد موسم میں پھل کی رنگت تبدیل ہونا شروع ہوجاتی ہے جبکہ بعض اوقات رات کے وقت درجہ حرارت کم ہونے کے دوران گیس کے پیدا ہونے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔ ان دو چیزوں کے ملاپ کی وجہ سے کنو کا رنگ بہت بہتر ہوتا ہے۔ پھل کی رنگت کے علاوہ پھل کی مٹھاس اور تیزابیت کے تناسب سے پختگی کو سائنسی بنیادوں پر چیک کیا جاسکتا ہے۔ کنو کے پھل کوپکنے کے بعد جوس کی مقدار کا 33 فیصد ہونا ضروری ہے یعنی پھل مکمل پکا ہوا ہو جبکہ دیگر پھلوں میں 2/3 حصہ پکے ہوئے پھل ہو ں تو زیادہ بہتر ہے۔

مزید : کامرس


loading...