ایک ہسپتال جو زندگی کی امید بن گیا

    ایک ہسپتال جو زندگی کی امید بن گیا

  



مجھے وہ وقت نہیں بھول سکتا جب ہم پہلی دفعہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر پہنچے۔ میری زوجہ گاڑی چلا رہیں تھیں اور میں بالکل خاموشی سے ان کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اس پہلے لمحے کا خوف جب ایک مریض کی حیثیت سے میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال میں داخل ہوا میری یادادشت پر ابھی تک نقش ہے۔ ہم نے گاڑی واک ان کلینک کے سامنے پارک کی اور کافی دیر باہر نکلنے کی ہمت جمع کرتے رہے اس وقت مجھے اپنی بے بسی پر خوب رونا آرہا تھا اورتمام لمحے یاد آ رہے تھے جب کسی دکان سے نکلتے ہوئے یا فیملی کے ساتھ اچھا وقت گزارنے کے بعد کسی مال سے نکلتے ہوئے دروازے کے قریب رکھے شوکت خانم ہسپتال کے ڈونیشن بوکس دیکھ کر کچھ پیسے ڈال دیتا تھا۔ ایسے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن میں مجھے خود مریض بن کر شوکت خانم ہسپتال جانا پڑے گا۔ کچھ عرصہ پہلے تک زندگی کتنی پر سکون تھی، میں اپنے بچوں کے ساتھ سکردو میں ایک مطمئین وقت گزار رہا تھا۔ ہر سال سردیوں کا موسم ہم سب لاہور میں گزارتے ہیں تو یہ اسی وقت کی بات ہے جب طبیعت خراب ہونے پر میں نے ڈاکٹر کو دکھایااور چیک اپ اور کچھ ٹیسٹوں کے بعد ڈاکٹر نے مجھے آنتوں کا کینسر تشخیص کیا۔ ڈاکٹر کی زبان سے اپنے لیے کینسر کی تشخیص سننا شاید دنیاکا سب سے تکلیف دہ عمل ہے۔ لفظ "کینسر " چاہے آپ نے ہزاروں مرتبہ پڑھا یا سنا ہوآپ کو تکلیف دہ محسوس نہیں ہوتا، لیکن جب یہ لفظ آپ کے لیے بولا جائے تو یہ سب سے دہشت ناک لفظ بن جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے آپ کے سب خواب، سارے منصوبے ایک دم ٹوٹ کر بکھر گئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہر مشکل کے بعد آسانی بھی آتی ہے اور وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ میرا بھی وہ مشکل وقت گزر گیا اور اس مشکل وقت میں شوکت خانم ہسپتال میرا سب سے اہم ساتھی ثابت ہوا۔ اللہ کا لاکھوں بار شکر ہے کہ میں درست وقت پر یہاں پہنچا۔ ڈاکٹر ز نے میراٹریٹمنٹ پلان بنایا جس کے پہلے مرحلے میں ایک آپریشن کیا گیا اور پھر کیمو تھراپی سیشنز کا سلسہ شروع ہواجو کہ سات ماہ تک جاری رہا۔ ہسپتال کے سٹاف اور ڈاکٹرز کے بہترین اخلاق اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث مجھے ایک لمحے کے لیے بھی کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔دوسرے ہسپتالوں کے بر عکس یہاں تشخیص و علاج، صفائی ستھرائی، مریضوں کی دیکھ بھال اور ادویات دینے کے بین الاقوامی معیار اصول رائج ہیں اور عالمی معیار کے ان اصولوں پر نہ صرف کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں مستقل بنیادوں پر مزید بہتر بھی بنایا جاتا ہے۔ یہاں تمام مریضوں کو یکساں سہولیات دی جاتی ہیں اور کسی بھی قسم کا فرق نہیں رکھا جاتا۔ الحمدللہ آج میں مکمل طور پر صحت مند ہوں اور اپنی فیملی کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہا ہو ں اور اس کے لیے میں ان تمام لوگوں کا شکرگزار ہوں جو خدمت انسانی کے اس عظیم منصوبے کو چلا رہے ہیں۔

مزید : کامرس