ننکانہ صاحب واقعہ میں بھارتی ایجنسیاں ملوث

ننکانہ صاحب واقعہ میں بھارتی ایجنسیاں ملوث
ننکانہ صاحب واقعہ میں بھارتی ایجنسیاں ملوث

  



وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ننکانہ صاحب واقعہ میرے وڑن کے خلاف ہے حکومت اس معاملے پر زیروٹالرنس دکھائے گی۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک اور ننکانہ صاحب واقعہ میں بہت فرق ہے۔ دریں اثناء وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ ننکانہ واقعہ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ غیر ریاستی عناصر بھائی چارے کی فضا خراب کرنا چاہتے ہیں۔ امن کے خلاف کام کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ وطن عزیز میں اقلیتوں کو جتنی مذہبی و معاشرتی آزادی حاصل ہے شاید ہی کسی اور ملک میں ہو۔ کیونکہ اقلیتوں کی جان و مال، مذہب و مقدس مقامات کی حفاظت ہمارا اسلامی فریضہ بھی ہے۔ ہمارے ہاں اقلیتوں سمیت سب کا بھائی چارے سے رہنا دنیا کے لئے مثال ہے۔ گوردوارہ کرتار پور آنے والے سکھ یاتری پاکستان کو اقلیتوں کے لئے جنت قرار دیتے ہیں لیکن بعض عناصربیرونی شہ پر اقلیتوں کے حوالے سے ملک کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ایسا ہی ایک واقعہ گوردوارہ ننکانہ صاحب میں ہوا۔

چند روز قبل ننکانہ صاحب میں گوردوارہ جنم استھان چوک میں چند مقامی افراد نے گرفتار افرادکی رہائی کیلئے پولیس کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ ان افراد کا مقامی سکھ برادری کے ساتھ کوئی جھگڑا چل رہا تھا۔ عمران علی چشتی نامی ایک مقامی شخص نے سکھوں اور ننکانہ صاحب گوردوارہ بارے غصے میں کچھ نازیبا الفاظ کہے۔سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل ہوگئی جس کو بھارتی میڈیا نے طوفان بنا دیا۔بھارتی حکومت نے اس واقعے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے سکھ برادری کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اورمیڈیا کے ذریعے مستقل پاکستان کو اقلیتوں کے حوالے سے بدنام کرنے کی سازش ہوتی رہی۔ بھارتی میڈیا نے بھی اس واقعے کو بین المذاہب مسئلہ قرار دینے کی کوشش کی۔ اہم بات یہ ہے کہ گوردوارہ ننکانہ صاحب بالکل محفوظ ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

پاکستان میں بھارتی ناظم الامور گورو اہلوالیا کو دفتر خارجہ طلب کرکے ننکانہ صاحب واقعے بارے بے بنیاد بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔اس معاملے میں انتشار، خاص طور پربے حرمتی اور تباہی‘ اور مقدس مقام کی بے حرمتی کرنے کے دعوے نہ صرف جھوٹے ہیں بلکہ فتنہ پرداز بھی ہیں۔ننکانہ صاحب گوردوارہ میں مذہبی رسومات ادا کرنے کیلئے پاکستان آئے ہوئے سکھ یاتریوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اقلیتوں کے لیے کسی جنت سے کم نہیں جب کہ بھارت میں پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ سکھ، مسلم دوستی کا رشتہ مضبوط ہو رہا ہے۔ کرتارپور راہداری امن اور محبت کی راہداری ہے۔

بھارتی پنجاب اسمبلی کے سابق اسپیکراور موجودہ کالم نگار بیر دیوندر سنگھ نے اپنے اخباری کالم میں واضح طورپر لکھا ہے کہ ننکانہ صاحب واقعہ میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیاں ملوث نظر آتی ہیں۔ کیونکہ پاکستان کی طرف سے کرتار پور راہداری کھلنے کے بعد بھارت سکھ مسلم کشادہ دلی اور دوستانہ تعلقات سے خاصا پریشان اور گھبراہٹ کا شکار نظر آرہا ہے۔ سکھ برادری کے پڑھے لکھے اور سمجھ دار لوگ پہلے ہی بھارت کی طرف سے اس قسم کی خوفناک سازشوں کے متعلق جانتے ہیں۔ اس سلسلے میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دیول آج کل مسلمانوں اور سکھوں میں ان دوستانہ جذبات کے خلاف کوئی خطرناک سازش بنانے میں بہت زور و شور سے مصروف ہیں جو عمران خان کے کرتار پورراہداری کھولنے کے نتیجے میں دونوں برادریوں کے درمیان تیزی سے پروان چڑھ رہے ہیں۔ آر ایس ایس کے چوٹی کے نظریہ پرستوں نے انتہائی پریشانی کے عالم میں ناگپور میں ایک بیٹھک بلائی جس میں سکھ مسلم اتحاد کا توڑ کرنے کیلئے منصوبے بنائے جائیں گے۔ میں بھارتی حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پاکستان سے اپنی دشمنی نکالنے کیلئے سکھوں کواستعمال نہ کرے۔

وزیراعظم عمران خان کا ننکانہ صاحب واقعے پر کہنا ہے کہ یہ واقعہ میرے وژن کے خلاف اور حکومت، پولیس اور عدلیہ کی جانب سے ناقابل برداشت ہے۔ اس پر کوئی رواداری نہیں برتی جائے گی۔بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں پر ہونے والا ظلم مودی اور آر ایس ایس کے وژن اور ایجنڈے کا حصہ ہے۔ آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں کو مارپیٹ رہے ہیں۔وہاں مسلمانوں پر حملہ کرنے والوں کو بھارتی حکومت اور بھارتی پولیس کی حمایت بھی حاصل ہے۔

وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے ننکانہ صاحب آمد پر کہا کہ ملکی سالمیت اور بھائی چارے کے دشمنوں نے گھناونی سازش کی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اور ہماری ہمدردیاں سکھ کمیونٹی کے ساتھ ہیں۔ننکانہ صاحب میں پیش آئے افسوس ناک واقعہ کا مقدمہ درج ہو چکا ہے۔ واقعہ کے تمام کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔پاکستان میں اقلیتوں سمیت سب کا محبت و بھائی چارے سے رہنا دنیا کیلئے مثال ہے۔ اخوت کی اس فضا کے خلاف سوچنے والے ملک و قوم کے دشمن ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کیخلاف اقدامات پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ ننکانہ صاحب واقعہ بھارت میں اقلیتوں پرحملوں سے مختلف ہے۔ ننکانہ صاحب میں سکھ کمیونٹی کے رہنماؤں نے وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ کے ساتھ پریس کانفرنس میں بھی ننکانہ صاحب کو بین المذاہب ہم آہنگی کی بہترین مثال قرار دیا ہے۔ ننکانہ صاحب میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، ملکی سالمیت اور بھائی چارے کے دشمنوں نے گھناؤنی سازش کی۔بھارتی سرکار اور میڈیا اس معاملے کو غلط رنگ دے کر متنازعہ شہریت بل اور کشمیر سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ درست کہ پاکستان میں اقلیتیں قطعی محفوظ اور پْرامن ہیں اور یہاں رواداری ہے کہ سب پاکستانی ہیں۔یہ ملک دشمن افراد کی شرات، حالات خراب کرنے کی کوشش ہے لیکن ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔اس معاملے میں وزیراعظم کا ردعمل اور اقدام بروقت ہے۔ جہاں تک بھارتی میڈیا کاسوال ہے تو سب کا سب پاکستان مخالف ہے ذرا معمولی سی بات کو پھر تروڑ مروڑ کر پیش کرکے بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔مودی حکومت کی طرف سے پاکستان کے خلاف الزام تراشی تعجب انگیز نہیں بلکہ بھارت میں ہونے والے احتجاج اور واقعات سے بیرونی ممالک کی توجہ ہٹانا بھی مقصود ہے۔

مزید : رائے /کالم