ملتان میں 52بے نامی جائیدادوں کا انکشاف ریکارڈ ایف بی آر کو دینے کا فیصلہ

ملتان میں 52بے نامی جائیدادوں کا انکشاف ریکارڈ ایف بی آر کو دینے کا فیصلہ

  



ملتان(سٹاف رپورٹر) ضلع ملتان میں 52 بے نامی جائیدادوں کاسراغ لگا لیا گیا‘ایف بی آر کو ریکارڈ فراہم کیا جائے گا‘ڈپٹی کمشنر ملتان عامر خٹک کی زیر صدارت بے نامی جائیدادوں کا پتہ چلانے بارے پیش رفت کا جائزہ اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرریونیو طیب خان، اسسٹنٹ کمشنر صدر شہزاد محبوب، اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹر احمد رضا، اسسٹنٹ کمشنر شجاع آباد مبین احسن، اسسٹنٹ کمشنر جلالپور پیر والا غلام سرور، سب رجسٹرارز(بقیہ نمبر10صفحہ12پر)

کامران بخاری, جمیل حیدر شاہ، ایڈیشنل ڈی جی ایم ڈی اے چوہدری انور،ایف بی آر کی فوکل پرسن مس سائرہ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ مس عائشہ بھی اجلاس میں موجود تھیں۔ڈپٹی کمشنر عامر خٹک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع ملتان میں 52 بے نامی جائیدادوں کا پتہ چلایا گیا ہے، تحصیل سٹی ملتان میں 20، صدر 12 اور تحصیل شجاع آباد میں 4 بے نامی جائیدادوں کا سراغ ملا ہے جبکہ ایم ڈی اے نے 16 بے نامی جائیدادوں کی رپورٹ بھجوائی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بے نامی جائیداد رکھنے والوں کا ریکارڈ اور ان کے شناختی کارڈ نمبر ایف بی آر کو فراہم کئے جائیں، ریونیو ریکوری کو تیز کیا جائے اوراب ریونیو افسران کی کارکردگی ریکوری کے ساتھ منسلک ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو دفاتر میں آنے والے ٹاؤٹ مافیا کی لسٹ تیار کی جائے اور ٹاوٹ مافیا کو نوٹی فکیشن کے ذریعے ڈیکلئیر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کے جائز کام میں تاخیر نہ کی جائے، جس کے پاس بھی زیر التواء کیس ہو گا وہ جوابدہ ہو گا۔ انہوں نے اے ڈی سی ریونیو کو جعلی رجسٹریوں کے کیس کی اپنی سطح پر انکوائری کرانے کی ہدایت کی اور کہا کہ گزشتہ تاریخوں میں زمینوں کا انتقال کرنے والے پٹواریوں کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو طیب خان نے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا کہ جعلی رجسٹریوں میں گرفتار عناصر سے پولیس تفتیش کر رہی ہے، اب تک مجموعی طور پر 1 ارب 47 کروڑ روپے کی ریکوری کی گئی ہے، میوٹیشن فیس کی مد 23 کروڑ 52 لاکھ روپے وصول کئے گئے ہیں، سٹیمپ ڈیوٹی کی مد میں 1 ارب 21 کروڑ روپے حاصل کئے گئے ہیں اور زرعی انکم ٹیکس کی مد میں 12 لاکھ 29 ہزار روپے وصول کئے گئے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...