مشرق وسطیٰ کے حالات اور پاکستانی حکومت

مشرق وسطیٰ کے حالات اور پاکستانی حکومت
مشرق وسطیٰ کے حالات اور پاکستانی حکومت

  



ملک کی سیاسی صورتِ حال سامنے ہے، کس سیاسی جماعت کا بیانیہ کامیاب، اور کس کا نعرہ دم توڑ رہا ہے…… آنے والا وقت ہی بتائے گا،لیکن تازہ ترین سیاسی منظر نکھر کر سامنے آ چکا ہے۔ حکمران پارٹی کے ساتھ ساتھ پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے کارکن اپنی اپنی پارٹی قیادت کے فیصلے اور یوٹرن سے شرمندہ شرمندہ سے دکھائی دے رہے ہیں۔ کچھ سینئر کارکن دوستوں میں بحث مباحثے کے دوران اِس بات کو حالات کی مجبوری کا نام دے کر اپنی خفت مٹا رہے ہیں۔ بہرحال یہ بات تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ”بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رسوائی کی“……یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ حکمران پارٹی کا کام تو ہر حال میں طاقت وروں کے گرد گھومنا اور ان کی خوشنودگی کے لئے ان کا حکم بجا لانا ہے، مگر اس بار مسلم لیگ(ن) کی قیادت ”ووٹ کو عزت دو“ اور پیپلزپارٹی کی قیادت اپنے بیانیہ، سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسی اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی سوچ اور وژن کے خلاف:”مَیں اُس سے آگے اور وہ مجھ سے آگے“ کے مصداق پارلیمینٹ سے آرمی ایکٹ میں ترمیم منظور کرانے کے لئے حکمران جماعت کے ساتھ ووٹ دینے کے لئے کھڑی ہو گئی ہیں۔تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے کارکن، خصوصاً سینئر کارکن حیران بھی ہیں،پریشان بھی۔ سوال اُٹھتا ہے کہ آرمی ایکٹ کے ترمیمی بل کو پاس کرانے میں حکومت کو جلدی کیا ہے، یا جن کا بل ہے، وہ جلدی میں ہیں اور اس جلدی اور عجلت کی وجہ کیا ہے؟ معاملہ طے ہو چکا ہے،طاقت وروں کے اشارہئ ابرو سے ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی بغیر کسی نئی تجویز کے، جس طرح طاقت ور آرمی ایکٹ میں ترامیم کرانا چاہتی ہیں، پارلیمینٹ میں ووٹ دینے کے لئے تیار ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس 7جنوری بروز منگل بلایا گیا،جس میں تمام سینیٹرز اور ایم این ایز کی شرکت یقینی بنائی گئی۔ آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری سے متعلق مشاورت اور معزز ارکان کے تحفظات کو دور کیا گیا،لیکن اپوزیشن جماعتوں نے کارکنوں کو مطمئن کرنے کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی۔

سپریم کورٹ نے اس کام کے لئے حکومت کو چھ ماہ کا وقت دے رکھا ہے، ابھی تو ایک ماہ ہی گزرا تھا، بڑا ٹائم پڑا تھا،قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کر کے اس ترمیمی بل پر سیر حاصل بحث ہو سکتی تھی،مگر حکومت بھی تیزی میں ہے، قومی اسمبلی میں پہلے روز وقفہ سوالات معطل کر کے وزیر دفاع پرویز خٹک نے بل پیش کیا۔ یہ بل دراصل تین حصوں پر مشتمل ہے۔ نمبر ون: آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا آرمی ترمیمی ایکٹ2020ء، نمبر ٹو: پاکستان ایئر فورس ترمیمی ایکٹ2020اور نمبر تھری: پاکستان بحریہ ترمیمی ایکٹ 2020ء…… قومی اسمبلی نے12منٹ کی کارروائی کے بعد تینوں بلوں کو قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بھجوا دیا۔حکومت تو جمعہ کے روز ہی اس بل کو قومی اسمبلی سے منظور کرا کر سینیٹ سے منظور کرانا چاہتی تھی،اس نے پچھلے پہر سینیٹ کا اجلاس طلب کر رکھا تھا اور یہ ترمیمی ایکٹ کے بل تیزی اور عجلت میں قائمہ کمیٹی برائے دفاع قومی اسمبلی و سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی پیش ہوئے اور بغیر کسی بحث کے تینوں بل پاس ہو گئے۔ آپ اس عمل کو اس طرح بھی بیان کر سکتے ہیں کہ بغیر دیکھے دستخط کرنے یا پاس کرنے کی ہدایت تھی، اس ہدایت پر من و عن عمل ہو گیا۔ ترمیمی بلوں کے متن کے مطابق ایک جرنیل کے لئے کو مقرر کردہ ریٹائرمنٹ کی عمر و حدود ملازمت آرمی چیف پر لاگو نہیں ہو گی۔ آرمی چیف و چیئرمین جوائنٹ چیفس آف نیول سٹاف، چیف آف ایئر سٹاف اور چیف آف نیوی سٹاف کے لئے قیود و شرائط کا تعین صدرِ مملکت،وزیراعظم کے مشورے سے کرے گا۔ آرمی چیف کی تقرری یا توسیع زیادہ سے زیادہ 64 سال کی عمر تک مشروط ہو گی،آرمی چیف کی تقرری یا توسیع کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکتی۔

معاملہ طے تھا، اسے قانونی اور آئینی حیثیت دینے کے لئے پارلیمینٹ سے منظوری ضرور ی تھی، لہٰذا پارلیمینٹ کو لگے تالے کھلے، شاہد خاقان عباسی، خورشید شاہ، احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈرز بھی جاری ہو گئے،جن کے بارے میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کسی بڑے دباؤ کے تحت اپوزیشن کے مطالبے کو باربار مسترد کرتے آ رہے تھے۔حکومت کو بھی تیزی ہے اور اپوزیشن بھی تیار ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا خیال ہے کہ قابل ِ احترام فورسز کا بل ہے، احتیاط کے ساتھ تمام قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھ کر قانون سازی ہونی چاہئے۔مسلم لیگ(ن) نے پیپلزپارٹی والوں اور مولانا فضل الرحمن سے مشورہ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا، اگر کر لیتے، تو اس کے سیاسی وقار میں اضافہ ہو جاتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سارے معاملے میں کوئی اور سیاسی پارٹیوں کی کارکردگی کو واچ کر رہا ہے اور کارکردگی کے علاوہ خوش خطی کے نمبر بھی ملنے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کچھ وقت کے لئے اپوزیشن کے خلاف قومی دولت لوٹ کر بیرون ملک لے جانے اور منی لانڈرنگ کے نعرے لگانے سے رک گئے۔ ترجمانوں کی فوج ٹھنڈے پانی میں آ چکی ہے، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بڑی میٹھی میٹھی باتیں کر رہی ہیں،بہت اچھا لگا……وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری کا پارہ نیچے آ چکا ہے۔یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ فواد زمینی حقائق بیان کر رہے ہیں یا وہ اپوزیشن کو ڈرا رہے ہیں، اللہ کی ذات بہتر جانتی ہے،لیکن بات سچ دکھائی دے رہی ہے کہ فواد چودھری لہجہ تبدیل کر چکے ہیں اور ان کا ہاتھ اپوزیشن کی نبض پر صحیح جگہ رکھا جا چکا ہے۔اپوزیشن پہلے سے یہی بات سمجھ رہی ہے،طاقتور اناڑی کھلاڑیوں کو سیاسی میدان میں لے آئے ہیں،سسٹم نہ چلانے کا الزام سیاسی جماعتوں پر آئے گا، سیاسی کھیل کسی اور کے ہاتھ میں جانے سے بچائے رکھنے کے لئے آرمی ایکٹ میں ترمیم کا پاس کرانا گھاٹے کا سودا نہیں،اب تو جواز بھی پیدا ہو گیا ہے……کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کو گھروں میں بند ہوئے ایک سو ساٹھ روز ہو گئے ہیں، بھارت کے اندر شہریت بل نے عوام کو مشتعل کر دیا ہے، سارا بھارت سڑکوں پر احتجاج کر رہا ہے۔ امریکہ نے ڈرون طیاروں سے حملہ کر کے ایران کے جرنیل کو ساتھیوں سمیت شہید کر کے مشرق وسطیٰ میں آگ کے شعلے بھڑکا دیئے، ایران ہمارا ہمسایہ اسلامی ملک ہے۔خطے کے حالات کی تصویر کو سامنے رکھتے ہوئے اِن شاء اللہ بدھ تک آرمی ایکٹ کا بل منظور ہو جائے گا،اِن حالات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔(بل منظور ہوگئے اور صدر مملکت کے دستخطوں سے قانون بن گئے ہیں)۔

مزید : رائے /کالم