عمرِ بے مایہ فقط پیاس بجھانے میں کٹی

عمرِ بے مایہ فقط پیاس بجھانے میں کٹی
عمرِ بے مایہ فقط پیاس بجھانے میں کٹی

  



یہ دو کم، پینتیس سال پہلے کا واقعہ ہے۔ پاکستان میں سالانہ چھٹیاں گزار کر مَیں لندن واپس پہنچا تو کیا دیکھا کہ بی بی سی کے سیربین والے کمرے میں وقار احمد کی مستقل نشست کے عین سامنے ایک صاحب بیٹھے ہوئے ہیں۔ آواز آئی ”شاہد، اِن سے نہیں ملے؟ یہ عبید صدیقی ہیں، آل انڈیا ریڈیو سے ڈیپوٹیشن پہ آئے ہیں۔ اب یہیں کام کریں گے۔“ مَیں نے گھوم کر نظر ڈالی۔ سانولی رنگت، تیکھے نقوش، راجیو گاندھی طرز کا بند کوٹ۔ نوجوان نے مسکراتے ہوئے کہا ”محمود ہاشمی ہمیشہ وقار بھائی اور آپ کی تعریف کرتے ہیں۔“ ساتھ ہی لمبائی کے رُخ پہ بازو چاہت سے آگے بڑھا کر کہنے لگے ”آپ ہمارے دوست بن جائیے۔“ ہم دوست بن گئے اور اللہ کے فضل سے آج تک ہیں۔ یہ دوسری بات کہ اِس دوران وقار صاحب پچھلے برس رخصت ہو گئے اور اب عبید کو دنیا سے منہ موڑے آج چوتھا روز ہے۔

اُن دنوں علی احمد خاں اور مجھے شمار کر کے، جنہیں لندن میں کچھ ہی پہلے تیسرا برس شروع ہو ا تھا، بی بی سی اردو سروس کے فُل ٹائم اراکین کی تعداد سات تھی۔ اِس کے علاوہ دو سے تین سال کی معیاد پوری ہونے پر ریڈیو پاکستان اور آکاش وانی سے بھی ایک ایک پروڈیوسر معینہ مدت کے لئے آ جایا کرتے، آل انڈیا ریڈیو کے مجیب صدیقی کو، جنہیں علی احمد اور مَیں نے اول اول ’استاد‘ کہہ کر مخاطب کیا‘ دہلی لوٹے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے تھے۔ وہی مجیب صدیقی جنہوں نے پہلے دن یہ کہہ کر مجھے حوصلہ دیا تھا کہ مائیکروفون کے سامنے تمہارا لہجہ بہت موزوں ہے کیونکہ ریڈیو کے لئے بھاری آواز کی شرط نہیں ہوتی۔ عبید آئے تو تھے مجیب صدیقی کی جگہ، مگر ایک تو معمولی فرق سے میرے ہم عمر، پھر ریڈیو پروگراموں کا مناسب تجربہ اور علی گڑھ میں منفرد شاعر شہریار کی صحبتیں۔ بی بی سی اب مجھے بھی ایک جادوئی فضا محسوس ہونے لگی۔

اِس کی بنیادی وجہ ہفتہ وار شیڈیول کے تحت تسلسل کے ساتھ ٹرانسمیشن میں ہم دونوں کی ہم نشینی تھی۔ کسی روز مَیں خبریں پڑھ رہا ہوں تو عبید صدیقی کانٹی نیوٹی پر مامور ہیں۔ مُراد تھی مواد کی ترتیب، ترجمہ اور پیش کاری میں سیربین کے پروڈیوسر وقار احمد کی اعانت اور ’یہ بی بی سی لندن ہے‘ سے لے کر ’اجازت دیجیے، خدا حافظ‘ تک نشریات کی اناؤنسمنٹ۔ رات کی ڈیوٹی ہوتی تو برصغیر کے سامعین اکثر اپنے وقت کے مطابق علی الصبح عبید کی زبانی خبریں سنتے جن کے ختم ہونے پر مَیں نامہ نگاروں کی رپورٹوں اور تجزیوں پر مبنی پروگرام ’جہاں نما‘ پیش کرتا جس میں عبید میرے معاون تھے۔ یہ تو ہوئی پیشہ ورانہ ڈیوٹی، لیکن کام کے اوقات سے پہلے اور مسودے اپ ڈیٹ کرنے کے عمل کے دوران چند لمحے چُرا کر مقامی اصطلاح میں بی بی سی کلب میں طبیعت سیٹ کرنے پہ کوئی پابندی نہیں تھی۔ سمجھا کریں!

ایک شام ہم دونوں کلب میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے بھارتی وزیرِ داخلہ مفتی سعید کی بیٹی ڈاکٹر رابعہ سعید کے اغوا ہونے کی بریکنگ نیوز چل گئی۔ ساتھ ہی تحریکِ کشمیر میں تیزی کا نکتہء آغاز ثابت ہونے والا جے کے ایل ایف کا یہ مطالبہ کہ مذکورہ خاتون کے عوض تنظیم کے ایک درجن سے زائد زیرِ ِ حراست کارکنوں کو رہا کیا جائے۔ عبید دن کی ٹرانسمیشن سے فارغ ہو چکے تھے، مگر تازہ خبر سُنتے ہی جیسے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا ہو۔ سری نگر ریڈیو میں اپنی اولین تعیناتی کو کام میں لاتے ہوئے منٹوں میں انہوں نے بی بی سی ہندی کی رجنی کول سے ایک خفیہ اطلاع کی تصدیق حاصل کر لی، جو خود بھی کشمیری پنڈت تھیں۔ اطلاع یہ کہ مقبوضہ جمو ں و کشمیر کے وزیرِ اعلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ امریکہ کے نجی دورے سے وطن واپس جاتے ہوئے آج شب لندن میں ہوں گے۔ مَیں نے کہا ”واہ، ہم اُن کا انٹرویو کر لیں تو یہ ایک بڑا سکُوپ ہو گا۔“

اِسے دوستانہ خلوص کہا جائے یا عبید کا پروفیشنلزم کہ اِدھر مَیں نے لنکن اِن فیلڈ میں کھڑی اپنی کار نکالی، اُدھر عبید نے ’اے ٹو زیڈ لنڈن‘ کے نقشے پر نظر یں جما دیں۔ چند ہی لمحوں میں ہم بکنگھم پیلس کے پچھواڑے کانسٹی ٹیوشن ہِل کے راستے اُس ہوٹل کے عین سامنے پہنچ گئے جہاں امکانی طور پہ ڈاکٹر فارق عبداللہ رات بسر کرنے والے تھے۔ سینٹ جمیزس کورٹ ہوٹل کے عملے سے بُکنگ کا پتا چل گیا اور طویل انتظار کے بعد بالآخر انٹرویو ہو گیا۔ اب سرخوشی کے عالم میں ہوٹل سے نکلے ہیں تو میٹروپولیٹن پولیس کے چاک و چوبند اہلکار جارحانہ مُوڈ میں استقبال کے لئے کھڑے تھے۔ ”تمہیں کوئی سمجھ نہیں کہ شاہی محل کے باہر کار کھڑی نہیں کی جاتی۔“ ”آفیسر، تمہاری طرح ہم بھی ڈیوٹی پہ ہیں۔“ ساتھ ہی دفتر کا کارڈ دکھایا اور کہا کہ ایک ضروری اسائنمنٹ پر نکلے ہوئے تھے۔ خیر، جرمانہ ہوا اور دفتر پہنچ کر جہاں نما میں بعد کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی بہن کی خبر کے ساتھ فاروق عبداللہ کی آواز ’آن ائر‘ کر دی۔

جس دَور میں ہماری دوستی پروان چڑھی انہی دنوں مَیں نے لندن میں پاکستانی صحافی ہمراز احسن کے کہنے پر ڈائری میں یومیہ اندراجات کی عادت نئی نئی اپنائی تھی۔ ہمراز کہا کرتے کہ بی بی سی میں طے شدہ ڈیوٹی کے علاوہ جو بھی اضافی کام کروں اُس کا ریکارڈ محفوظ رہنا چاہیے۔ اِس کا فائدہ یہ ہوا کہ میرا روزنامچہ روزمرہ معمولات کی کئی چھوٹی چھوٹی تصویروں سے بھی مزین ہو گیا۔ سب سے دلکش رنگ اُن ایام کے ہیں جو عبید کی ہم نشینی کی بدولت شاعری کے دورے میں گزرے۔ خاص طور پہ 1990ء کے موسمِ بہار میں شمالی امریکہ کی مہینے بھر کی سیاحت جب کینیڈا کی میکگل یونیورسٹی میں ہونے والے جشنِ غالب میں شرکت کے لئے عبید کے ایما پر مَیں نے غالب کی یک کیفیتی غزلوں پہ مقالہ لکھا اور دونوں نے نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل سمیت خدا جانے کہاں کہاں مشاعرے پڑھ کر داد بٹوری۔

دنیا داری کی آنکھ سے دیکھوں تو اِس سفر کا حاصلِ غزل عبید، اُن کی بیوی رضیہ اور مجھے مفت ملنے والے ہوائی ٹکٹ تھے اور زندگی مین پہلی بار تھوڑا سا شعری نذرانہ۔ پھر احمد فراز، حمایت علی شاعر، گوپی چند نارنگ، داؤد رہبر، اشفاق حسین اور راجہ فاروق حسن سے بے تکلف ملاقاتیں۔ ڈاکٹر خالد سہیل، جاوید دانش اور میرے دوستوں نوازش کیانی، شوکت نواز اور اسد محمود خان کی میزبانیاں اِن کے علاوہ ہیں جنہوں نے ٹورونٹو، مانڑیال اور امریکہ کے ہر کونے کھدرے سے اسکول کالج کے ساتھی جمع کر لئے تھے، لیکن نہیں، اِس سارے تجربے کا ماحصل کچھ اَور ہے۔ وہ ہے توازن کے پردے کے پیچھے ایک ایسے شدت پسند تخلیق کار کی دریافت جو اپنی جذباتی عصبیتوں کو بی بی سی کے ساتھیوں کے سامنے خدا معلوم معقولیت کے شو کیس میں کیسے سجائے رکھتا تھا۔ یقین نہ آئے دنیوی اور جبلی رویوں کے تضاد کا اشارہ عبید کے شعر میں دیکھ لیجیے:

تشنگی وہ تھی کوئی کارِ وفا ہو نہ سکا

عمرِ بے مایہ فقط پیاس بجھانے میں کٹی

عبید صدیقی کی شاعری کا بھرپور جائزہ مجھ پر ادھار ہے، لیکن صحافتی لبادے میں ملبوس اِس تخلیقی آدمی کے لئے باطنی جذبوں کی مینیجمنٹ کتنی دشوار ہو گی، اِس بارے میں حتمی رائے دینا آسان نہیں، تاہم، عبید کے دہلی اور میرے لاہور آجانے پر وقفے وقفے سے جاری میل ملاپ اور قبل ازیں برطانیہ میں دن رات کی ملاقاتوں کے دوران اِس اندرونی چپقلش کا اظہار کبھی نہ کبھی ہو ہی جاتا۔ جیسے ایک مرتبہ ہم دونوں برطانوی شہروں کی تاریخ، کلچر اور مجموعی مزاج کے بارے میں ایک سلسلہ وار پروگرام پہ ایک ساتھ کام کر رہے تھے۔ ایک مرحلے پہ اردو سروس کے اُس وقت کے نگران بیری لینگریج بھی ہمراہ ہوں گے۔ برائیٹن اپنے کُھلے ڈلے ساحلِ سمندر کے لئے شہرت رکھتا ہے، لیکن بیری کو، جنہیں عارف وقار کی دیکھا دیکھی عبید بھی ’بیری بلماں‘ کہا کرتے تھے، ایک اور حرکت سوجھی۔ وہ تھا ایک کتب فروش کا انگریزی میں انٹرویو جسے بعد ازاں اردو میں ڈب کیا جا سکتا تھا۔ پھر کیا ہوا؟

ہوا یہ کہ بیری لینگریج کے ایک ہاتھ میں کچھ کاغذات اور دوسرے میں کتاب تھی۔ یہ سوچ کر کہ انہیں دشواری ہو گی، مائیکروفون مَیں نے پکڑ لیا۔ عبید کو یہ حرکت چاپلوسی لگی۔ واپسی پر ٹرین کے سارے سفر میں بالکل چُپ رہے، بلکہ ساکت و جامد۔ یہاں تک کہ بیچ میں بیری ذرا دیر کو واش روم گئے تو عبید نے غصے سے کہا: ”بلماں کے لئے مائیکروفون اٹھاتے ہوئے آپ کو شرم نہیں آئی؟“ ”یار عبید، آوٹ ڈور ریکارڈنگ یا شوٹنگ میں تو ایک دوسرے کے لئے کوئی بھی چیز اٹھائی جا سکتی ہے۔“ عبید پھر چُپ، مگر چہرے پہ بدستور غصہ۔ اِس پہ مجھے مانٹریال کا ریلوے اسٹیشن یاد آ گیا جہاں ایک گورا لوگوں کو کرسی پر بٹھا کر اُن کے جوتے، اُتارے بغیر پالش کر رہا تھا۔ میری باری آئی تو عبید نے مجھے پائپ سلگانے کو کہا اور بڑے چاؤ سے اِس منظر کی تصویر کھینچ لی کہ دیکھو، گورا شاہد کے جوتے پالش کر رہا ہے۔ اُس سمے لمحہ بھر کو مجھے عبید صدیقی کے اندر کا صحافی اور شاعر باہم یکجا دکھائی دیئے تھے۔

مزید : رائے /کالم