پاکستانی اور جمہوریت

پاکستانی اور جمہوریت
پاکستانی اور جمہوریت

  



ہم پاکستانی جبلتاً پیر پرست رہے ہیں اور اَب بھی یہ ذہنیت قائم ہے، بس ذرا ڈھنگ بدل گیا ہے…… اَب ہم پیر پرستی کے ساتھ شخصیت پرستی میں بھی شدّت سے مبتلا ہیں۔ قدیم روائتی پیر اور مخدوم زیادہ چالاک تھے، وہ اپنے مریدوں کو اپنے اندر کی کہانیوں کا پتہ نہیں چلنے دیتے تھے۔ اُن مخدوموں کی غرض تو یہ ہوتی تھی کہ علاقے میں اُن کی پرستش ہوتی رہے اور نذرانے ملتے رہیں۔ جب تک انگریزی راج نہیں آیا تھا،اُس وقت تک برِصغیر کے تمام گدی نشین اور آستانوں کے مالک عموماً حاکم وقت سے بنا کر رکھتے تھے،تاکہ حاکم اُن کی آمدنی کا حصہ دار نہ بن جائے، بلکہ اُس زمانے میں زیادہ تر حاکم مسلمان ہی ہوتے تھے اور کسی نہ کسی ولی کو اپنا مرشد مانتے تھے، اس لئے اِن گدی نشینوں کے مالی فوائد اور حلقہ مریدین پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا تھا۔ انگریز راج آیا تو یہ مخدوم اور سجادہ نشین فوراً انگریز کے وفادار بن گئے۔ اِن کا حلقہ مریدین بھی مخدوموں کے حکم کے زیرِ اثر انگریز کا وفادار بن گیا۔ سوائے حُروں کے پیر سیدّ صبغت اللہ شاہ (پیر پگارو)جنہوں نے انگریز کے خلاف بغاوت کی اور پھانسی کی سزا پائی۔ تمام سندھ، پنجاب اور شمالی ہندوستان میں ہمیں کوئی بھی سجادہ نشین انگریز کا باغی نظر نہیں آتا۔ پاکستان بننے کے بعد پیر صبغت اللہ کے بڑے بیٹے انگلینڈ سے تعلیم حاصل کر کے 1951ء میں سندھ آ کر حُروں کے پیر بن کر پیر پگارو کہلائے۔ وہ تمام زندگی ہر حکومت کے وفادار رہے۔ ہم پاکستانیوں کی شخصیت پر ستی کی ذہنیت جو غالباً ہمارے جینز کا حصہ ہے، پاکستان میں صحیح قسم کی جمہوریت کبھی نہیں آنے دے گی۔ جمہوریت کی نشو و نما کے لئے سیاسی پارٹیوں کا ہونا ضروری ہے، اُن سیاسی پارٹیوں کا کوئی منشور ہونا چاہیے،کیونکہ اُس سیاسی پارٹی کے اراکین منشور کی پسند یا ناپسند پر اپنی سیاسی وابستگی ظاہر کرتے ہیں، لیکن پاکستان میں ہوتا یہ ہے کہ ایک شخص سیاسی پارٹی بنانے کا محرک ہوتا ہے اور وہی شخص پارٹی کا لیڈر بن کر قابلِ پرستش ہو جاتا ہے۔ اس پارٹی لیڈر کی بُت کی طرح پوجا کی جاتی ہے، یہاں تک کہ اُس پر جائز تنقید کرنے والا بھی گردن زدنی ٹھہرتا ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح مسلمانوں کے دیانتدار،انتہائی قابل اور بڑے لیڈر ضرور تھے، لیکن وہ Infallible تو نہیں تھے، اِنسان تھے، بڑے عظیم اِنسان تھے۔ اُن کو ہم مسلمانوں نے اتنا بڑا برگد کا درخت بنا دیا کہ کوئی دوسرا قابلِ ذِکر مسلم لیگی اوپر آ ہی نہ سکا، سوائے لیاقت علی خان کے۔ قائداعظمؒ کے منہ سے نکلے ہوئے ہر لفظ کو ہر پاکستانی نے حرزجاں بنا لیا۔ جماعت اسلامی کے سوا ہمارے ہاں کی ہر سیاسی جماعت میں بُت پرستی ہے۔ بُت خواہ مُردہ بھٹو کا ہو، یا زندہ نواز شریف کا، اسفندیارولی کا ہو یا مولانا فضل الرحمن کا، عمران خان کا ہو یا الطاف حسین کا…… ہمارے لوگ جو پیر پرستی کے عادی ہیں، وہ سیاست میں بھی بُت پرستی کے غلام ہیں۔ یہ نہ پارٹی منشور کی پرواہ کرتے ہیں، نہ کسی ایشو پر اپنی آزادانہ رائے دینے کی جرأت کرتے ہیں ……اور اگر کوئی سر پھرا کسی بنیادی نکتے پر سوال کر بیٹھے تو وہ راندۂ درگاہ ہو کر گوشہِ گمنامی میں چلا جاتا ہے۔ جمہوریت کے پنپنے کے لئے جہاں سیاسی پارٹیوں کی موجودگی لازم ہے، وہاں دو اضافی عناصر کی ضرورت ہے۔ نمبر 1: قانون کی حکمرانی اور نمبر 2: لوکل گورنمنٹ، یعنی دیہات کی سطح تک منتخب نمائندوں کے ذریعے مقامی حکومت۔ پاکستان میں مقامی حکومت کا تصوّر نہائت ہی محدُود ہے۔ جس منتخب شدہ مقامی حکومت کے پاس مالی اور قانون نافذ کرنے کے اِختیارات نہیں ہوں گے، وہ مقامی حکومت کہلاہی نہیں سکتی۔ کچھ عرصے کے لئے فیلڈ مارشل ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کے ذریعے لوکل گورنمنٹ کا بڑا مفید اور قابلِ ستائش نظام نافذ کیا تھا، لیکن اس نظام کے ذریعے صدارتی اور پارلیمانی الیکشن کروائے گئے تو اِتنا اچھا لوکل باڈیز کا نظام سیاسی طورپر نہ صرف غیر مقبول ہوا، بلکہ اس کی وجہ سے پاکستان کی رہی سہی سیاسی پارٹیاں بھی غیر موثر ہو گئیں …… میَں آج بھی پاکستان میں ”بنیادی جمہوریت“ کا حامی ہوں، کیونکہ عوام کے 80 فیصد مسائل طاقتور مقامی حکومت کے نظام سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ اس میں خواہ تعلیم کا شعبہ ہو یا صحت کا، میونسپل نظام ہو یا مقامی نظم و ضبط،پولیس کا نظام ہو یا مالی ٹیکس نافذ کرنے کا نظام ہو، یہ سب مقامی طور پر منتخب نمائندوں کے ذریعے احسن طریقے سے طے پا سکتے ہیں۔

قومی اسمبلی کے منتخب نمائندوں کا کام صرف قانون سازی ہونا چاہئے۔ میَں یقین سے کہتا ہوں کہ اگر ہمارے ارکانِ پارلیمان سے Perks واپس لے لئے جائیں اور اِن کو ترقیاتی فنڈز کے نام پر جو خطیر رقمیں دی جاتی ہیں، وہ ختم کر دی جائیں تو جتنے بھی چودھری، سردار، مخدوم اور وڈیرے ہیں، وہ اسمبلیوں کا رُخ بھی نہیں کریں گے۔ پاکستان کی جمہوریت پر صرف چار، پانچ ہزار خاندانوں کا قبضہ ہے۔ یہ خاندان نہ صرف پاکستان کے چاروں صوبوں میں موجود ہیں، بلکہ اِ ن میں سے بعض خاندان شادیوں کے ذریعے آپس میں منسلک بھی ہیں۔ پاکستان کے تمام رجسٹرڈ شدہ ووٹر اِن ہی خاندانوں کے زیر اثر ہیں، یعنی Captive ہیں۔ اِن خاندانوں کے افراد نے مختلف سیاسی پارٹیوں میں بھی اپنی جگہ بنائی ہوتی ہے۔ پاکستان کے یہ سیاسی خاندان ہمارے عوام کی شخصیت پرستی کی Anti-democratic جبلّت کی وجہ سے پاکستان میں اصل جمہوریت نہیں آنے دیتے۔ مارشل لائی حکومتوں نے سیاسی خاندانوں کی تعداد میں مزید اِضافہ کیا۔ فوجی حکومتوں کے دوران کتنے ہی اچھے کام ہوئے ہوں، لیکن اِن حکومتوں کا بڑا جُرم اور عیب یہی تھا کہ وہ اپنی بقا کے لئے سویلین لوگوں کا سہارا لینے کے لئے یا تو نئے سیاستدان پیدا کرتی تھیں یا موجودہ سیاستدانوں کو ڈرا دھمکا کر یا لالچ دے کر اپنا ساتھی بناتی تھیں۔ سینکڑوں سیاسی خانوادے فوجی حکومتوں کی ہی پیداوار ہیں ……جمہوریت کی بقاء کے لئے خام مال کسی بھی ملک کے عوام ہوتے ہیں۔ پاکستان کے خام مال کی خاصیت میَں نے تفصیلاً بتادی ہے۔ ہمارے عوام خوشامدی، لحاظ دار اور وقتی مفاد کو اہمیت دینے والے ہیں، اِسی لئے جب بھی فوجی حکومت آتی ہے تو یہ بھنگڑے ڈالتے ہیں، کیونکہ سویلین سیاستدانوں کی کارکردگی بھی اچھی نہیں ہوتی، برائے نام قسم کے جمہوری لوگ اپنے دورِ حکومت میں عوام کا خیال صرف ایسے ترقیاتی کاموں تک محدود رکھتے ہیں، جن کے ذریعے جھٹ پٹ مال اِکٹھا کیاجا سکے۔ زیادہ میعاد والے ترقیاتی منصوبے الماریوں میں بند پڑے رہ جاتے ہیں۔

پاکستان میں بلی اور چوہے کا یہ کھیل 55 سال سے کھیلا جا رہا ہے۔ سویلین حکومت جب آتی ہے تو فوجی مداخلت کے خوف سے صرف ایسے کام کرتی ہے، جس سے حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کو بھی مال پانی بنانے کے مواقع مل سکیں، تاکہ اگر سوِل حکومت فارغ ہو تو کافی مالی فوائد حاصل ہو چکے ہوں ……پھر جونہی فوجی حکومت آتی ہے، وہ اُن ہی سویلین حکمرانوں کی مالی لُوٹ مار کو بنیاد بنا کر اَن کا تعاون حاصل کرتی ہے، کچھ نئے سیاستدان پیدا کرتی ہے، کچھ فوجی جرنیل بھی جب اپنے ہی چُنے ہوئے سیاستدانوں کے نرغے میں آتے ہیں تو وہ بھی کسی نہ کسی شکل کی لوٹ مار میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ پھر سے سوِل جمہوریت کے نعرے لگنے شروع ہو جاتے ہیں۔ فوجی حکمران چونکہ سخت جان ہوتے ہیں، اس لئے کافی لمبا عرصہ حکمرانی کر لیتے ہیں اور جب پانی سر سے او نچا ہونے لگتا ہے تو کرسی چھوڑ دیتے ہیں، این آر او بنتے ہیں، جوڑ توڑ ہوتے ہیں اور پاکستان کے اِسی فرسودہ، ڈرپوک، خوشامدی اور وقتی مفاد کے متلاشی جمہوری خام مال (عوام) کا ووٹ حاصل کر کے دوبارہ سوِل حکومت بناتے ہیں، جو نہ جمہوری ہوتی ہے اور نہ ہی فوجی ڈکٹیٹر شپ ہوتی ہے…… خالص جمہوریت تو خیر دنیا میں اب کہیں بھی نہیں ہے۔ کہیں پر جمہوریت کمرشل مفادات کے تابع ہے، کہیں مذہبی پابندیوں میں جکڑی ہوئی ہے، کہیں پر لسانی گروہوں نے جمہوریت کا گلا دبوچا ہوا ہے اور ترقی پذیر مُلکوں میں تو اس عفیفہ کو فوجی بوٹوں کی دھمک کا ہر وقت دھڑکا لگا رہتا ہے۔ میَں یہ بات کر رہا ہو ں کہ پاکستان میں ایک مکمل قسم کی جمہوریت کیوں نہیں آسکتی؟…… ایک وجہ تو مَیں نے اُوپر بیان کر دی ہے، یعنی جمہوریت کا خام مال (ہمارے عوام) ناقص ہیں۔ خوشامدی، ڈرپوک، قانون کی حکمرانی سے نابلد، تعلقات اور لحاظ داری کو میرٹ پر ترجیح دینے والے عوام اپنے ووٹ کا منصفانہ استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت کو شریعہ سے خلط ملط کر دیا گیا ہے۔ ہمیں جمہوریت کے مغربی تصوّر کو رد کرنا ہو گا۔ ہمارا آئین نہ جمہوری ہے، نہ شرعی، منافقت اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ آئین کی شِق 62اور 63 پر تو 20 کروڑ پاکستانیوں میں سے ایک بھی پورا نہیں اُترتا ہو گا۔ آئین کی شِق 2(A) ہماری قانون سازی میں مزاحم ہے۔

پچھلے سال آئین کی اٹھارویں ترمیم نے رہی سہی جمہوریت کا بیٹرہ غرق کر دیا۔ پارلیمانی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کو مکمل اختیار ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے کسی بھی پارلیمانی ممبر کو اسمبلی سے نکال باہر کر سکتے ہیں، خواہ وہ پارٹی لیڈر سے کسی قسم کا اصولی اِختلاف ہی کیوں نہ کرے۔ جمہوریت میں ضمیر کا گلا تو نہیں گھونٹا جاتا۔ ہمارے بعض قوانین ایسے ہیں جو جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کو تقویت دیتے ہیں …… توہینِ رسالت اور حدُود آرڈی ننس کے قوانین عموماً تعصب اور اِنتقام کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ ہمارے قانون ساز اِداروں کو اِن قوانین کو زیادہ واضح اور منصفانہ بنانے کی جرأت نہیں ہے۔ جس ملک میں قانون سازی بلا خوف و خطر نہ ہو سکے۔ جہاں چھوٹی چھوٹی مسلکی اور لسانی اقلیتیں ریاست کے اقتدارِ اعلیٰ کو مجبور اور پابند کر دیں، ایسے ملک میں جو بھی جمہوریت ہو گی، وہ بڑی جکڑی ہوئی ہوگی۔ ہمیں جمہوریت کی کلاسیکی اور مغربی تعریف کو ردّ کرنا ہو گا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون ساز اِدارے،پاکستان کی عدلیہ اورحکومت اصل معنوں میں جمہوری ہو ہی نہیں سکتے، اس لئے ہمارے نام نہاد دانشور اور جمہوریت کے علمبردار حقائق کو سمجھیں اور اِسی ناقابلِ عمل آئین میں سے جمہوریت کو تلاش کریں ……سچ پوچھیں تو ہمارا ملک پارلیمانی جمہوریت کے قابل ہی نہیں ہے۔ ہمارے لوگوں کی تاریخ، ہمارا کرپٹ سیاسی نظام، جو نا اہل حکمرانی کا سبب بنتا ہے،ہما ری سیاست میں دینی جماعتوں کا موثر عمل دخل، ایسے عناصر ہیں کہ ہم تاحیات اس ملک میں جمہوریت لا ہی نہیں سکتے۔ ہمارے لئے صدارتی نظامِ حکومت زیادہ موزوں ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان میں اگر چند انسانی کمزوریاں نہ ہوتیں اور وہ اپنے بیٹوں کی محبت میں اندھانہ ہو جاتا اور اگر وہ ”فرینڈز ناٹ ماسٹر“ نامی کتاب تحریر نہ کرواتا، تو امریکہ کبھی ذوالفقار علی بھٹو کی پیٹھ تھپک کر ایوب خان کے مخالف اُسے کھڑا نہ کرتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی تحریک پر ہندوستان کے ساتھ 1965ء کی جنگ کا معمار نہ بنتا تو شائد اسے اس قدر جلد اقتدار سے الگ نہ کیا جا سکتا…… ذوالفقار علی بھٹو نے ایک طرف ایوب خان کو چت کیا اور دوسری طرف جنرل یحییٰ خان کے ساتھ مل کر بنگلہ دیش کی بنیاد رکھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں صدارتی نظام نا کام ہوا۔ یہ کہیے کہ اُس وقت کے صدر کی کچھ کوتاہیاں، بین الاقوامی سازشیں بنگلہ دیش کی تخلیق کا باعث بنیں،اس کے علاوہ ملک کی خوشحالی میں مزدور کی محرومیاں ایسے عناصر تھے، جنہوں نے صدارتی نظام کو نا پسندیدہ بنا دیا۔صدارتی نظام میں کوئی خامی نہیں تھی۔یہ جمہوری بھی تھا اور ہماری کرپٹ سیاست کا مداوا بھی تھا۔

مزید : رائے /کالم


loading...