کوئٹہ پھر نشانے پر!

کوئٹہ پھر نشانے پر!
کوئٹہ پھر نشانے پر!

  



پچھلے کچھ عرصے کے اعداد و شمار اس امر کے گواہ ہیں کو پورے ملک میں صرف کوئٹہ ہی ایک ایسا شہر ہے،جو دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ دہشت گردوں کا ہدف بھی سیکیورٹی فورسز کے افراد ہیں اور انہیں ایک منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔جمعہ کو سیٹلائٹ ٹاؤن کی مسجد میں ہونے والے دھماکے میں بھی ایک ڈی ایس پی سمیت 15سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے۔ ایک بارونق علاقے کی مسجد میں یہ دھماکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئٹہ جیسے بلوچستان کے بڑے شہر اور دارالحکومت میں سیکیورٹی کے انتظامات فول پروف نہیں اور دہشت گرد جب اور جہاں چاہتے ہیں، واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔کوئٹہ دہشت گردوں کے نشانے پر کیوں ہے؟ اور وہاں انہیں مواقع کیسے مل رہے ہیں کہ وہ واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں؟……اس بارے میں فوری طور پر اعلیٰ سطحی کمیٹی بنا کے غور و فکر ہونا چاہئے۔ آخر وہ کون سے راستے اور کون سے سوراخ ہیں، جو بند نہیں ہو رہے اور دہشت گرد بِلا روک ٹوک شہر کے بارونق علاقوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ہماری سیکیورٹی فورسز نے کراچی، لاہور، پشاور اور اسلام آباد میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے اور وہاں دہشت گردی کے واقعات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں، لیکن کوئٹہ میں یہ واقعات رکنے نہیں پا رہے۔ بلوچستان کے بارے میں پہلے ہی یہ تاثر موجود ہے کہ وہاں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ اور افغانستان کے دہشت گردوں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے، جس کے باعث وہ جب چاہتے ہیں، شہر و صوبے کا امن تباہ کر دیتے ہیں۔کیا وجہ ہے کہ اس گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لئے موثر کوششیں نہیں کی جا رہیں؟

مصدقہ ذرائع کے مطابق بلوچستان میں پولیس کا کردار موثر نہیں۔ پولیس ایک منظم اور متحرک فورس کے طور پرکام نہیں کر رہی، حتیٰ کہ اُس کی نفری بھی صوبے کی ضروریات سے کہیں کم ہے۔کوئٹہ جیسے شہر میں بھی پولیس فورس مطلوبہ تعداد کے مطابق تعینات نہیں کی گئی،اُس کی بجائے خفیہ ایجنسیوں اور دیگر سیکیورٹی کے اداروں سے کام چلایا جا رہا ہے۔یہ صورتِ حال اطمینان بخش نہیں ہے۔ پولیس ہی وہ ادارہ ہے، جو شہر کے گلی کوچے تک کی خبر رکھتا ہے۔جہاں جہاں پولیس موثر ہے، وہاں وہاں جرائم کی شرح کم ہو جاتی ہے۔بلوچستان کی حکومت کو چاہئے کہ پولیس فورس میں اضافہ کرے اور کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں پولیس کا موثر نظام ترتیب دے۔یہ تاثر بھی موجود ہے کہ صوبے میں پولیس فورس سرداری نظام اور سیاست کے بہت زیادہ تابع ہے،اِس لئے قانون کی عملداری نہ ہونے کے برابر ہے، اس تاثر کو ختم ہونا چاہئے اور پولیس کو ایک بااختیار ڈسپلن فورس بنا کر صوبے میں قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔فوج اور ایف سی کی اہمیت اپنی جگہ،لیکن جو کردار پولیس ادا کر سکتی ہے، وہ کوئی دوسرا محکمہ ادا نہیں کر سکتا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس کی مثال کراچی سے دی جا سکتی ہے۔کراچی پولیس کو جب بھی ایک اچھا آئی جی ملا اور اُسے آزادانہ کام کرنے کی اجازت دی گئی،اُس نے جرائم کا قلع قمع کیا ہے۔ایک زمانے میں کراچی پولیس بالکل غیر فعال ہو گئی تھی اور سب کچھ رینجرز نے اپنے ذمہ لے لیا تھا،تاہم جرائم کنٹرول نہیں ہو پا رہے تھے،اب کراچی پولیس بھی رینجرز کے شانہ بشانہ کردار ادا کر رہی ہے تو کراچی میں صورتِ حال اتنی سنگین نہیں رہی، خاص طور پر دہشت گردی کے واقعات پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔

بلوچستان ہمارا وہ صوبہ ہے،جس پر دشمنوں کی ہمیشہ نظر رہی ہے۔اپنے وسیع و عریض رقبے اور طویل تر سرحدوں کی وجہ سے اس صوبے کو کنٹرول کرنا آسان نہیں،پھر اس کے بارڈر ایران اور افغانستان سے لگتے ہیں اور آزادانہ نقل و حمل کی سہولتیں بھی سب سے زیادہ یہیں حاصل ہیں۔ افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد بھی کوئٹہ میں موجود ہے اور وہ اُس کا حصہ بن کر رہ گئے ہیں۔ پاک فوج نے کوئٹہ کو بالعموم اور بلوچستان کو بالخصوص سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے ہمیشہ اہمیت دی ہے،مگر یہ کوئی آسان کام نہیں کہ پورے صوبے کو سیکیورٹی کے حوالے سے فول پروف بنا دیا جائے۔بلوچستان میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت بہت زیادہ ہے،پھر باغی گروپ بھی یہاں کام کر رہے ہیں،جنہوں نے باقاعدہ اپنے عسکری ونگز بنائے ہوئے ہیں۔علیحدگی پسندی کی تحریکیں چلانے والے بے راہ رو بھی بڑی تعداد میں یہاں موجود ہیں،جن کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ بلوچستان کو کبھی مستحکم نہ ہونے دیا جائے، خاص طور پر امن و امان کے حوالے سے یہاں ایک بے چینی پیدا کر کے اپنے ہونے کا جواز پیش کیا جائے۔اس پیچیدہ صورتِ حال میں صرف ایک مؤثر پالیسی ہی صوبے میں پائیدار امن لا سکتی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ِ ذکر ہے کہ بلوچستان کے80 فیصد علاقوں میں امن و امان کی مثالی فضا ہمہ وقت موجود رہتی ہے۔وہاں جرائم کے اِکا دُکا واقعات ہوتے ہیں، لوگ پُرامن ہیں اور اپنے درمیان کسی شرپسند کو قیام کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ دہشت گردی یا بدامنی کا زیادہ تر ہدف کوئٹہ شہر بنتا ہے۔اس کی وجہ سے شاید یہ ہے کہ یہاں کسی ہدف کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر وہ دُنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ صوبے کا دارالحکومت علیحدگی پسند تحریکوں کے زیر اثر بدامنی کا شکار ہے۔

کیا وجہ ہے کہ پوری بلوچستان حکومت اپنے دارالحکومت کو محفوظ نہیں بنا پا رہی۔کوئٹہ کوئی اتنا بڑا شہر بھی نہیں، جس کے مختلف داخلی راستوں کو فول پروف نہ بنایا جا سکے۔دوسری طرف تھانے کی سطح پر موثر پولیسنگ کے ذریعے شر پسندوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔شہر کو سیف سٹی بنانے پر بھی توجہ مرکوز کی جانی چاہئے۔سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے پورے کوئٹہ کو کور کیا جائے اور چوبیس گھنٹے اِن کیمروں کے ذریعے شہر کی مانیٹرنگ کی جاتی رہے، تو اُس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ ہر واردات یا دہشت گردی کے بعد روایتی بیانات سے کام نہیں چلے گا۔بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ حالیہ دہشت گردی کے بعد کہہ رہے تھے کہ شہر کی سیکیورٹی کا ازسر نو جائزہ لینا ہی کافی نہیں، بلکہ جو کمی اور خلاء سیکیورٹی کے ضمن میں نظر آ رہا ہے، اُسے پُر کرنے کے لئے غیر روایتی اقدامات اٹھائے جانا چاہئیں۔ کوئٹہ کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا،نہ ہی ہم بلوچستان کو ایک ایسا صوبہ بنا کر دُنیا کے پیش کر سکتے ہیں،جو یورش زدہ ہے اور جس پر ہمارا مؤثر کنٹرول نہیں …… دہشت گردی کے خلاف ہم نے بلاشبہ ایک کامیاب جنگ لڑی ہے۔بڑی نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور امن کو بحال کیا ہے،لیکن کوئٹہ جیسے واقعات ہماری اس کامیابی کو گہنا دیتے ہیں۔اب پوری توجہ بلوچستان پر بالعموم اور کوئٹہ پر بالخصوص مرکوز ہونی چاہئے۔ پولیس نفری میں اضافہ، سیف سٹی بنانے کے اقدامات، انٹیلی جنس نظام کی بہتری، سرحدوں کی کڑی نگرانی، افغان مہاجرین کی آڑ میں رہنے والے دہشت گردوں پر نظر، اور ان جیسے دیگر اقدامات کے ذریعے کوئٹہ شہر کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔کوئٹہ کا چہرہ ہمیشہ لہو لہو نہیں رہنا چاہئے، بلکہ اسے ایک پُرامن اور خوبصورت شہر کے طور پر جگمگانا چاہئے،جو ہر پاکستانی کی خواہش ہے۔

مزید : رائے /کالم