یوکرینی جہاز کا المناک حادثہ،ایران نے غلطی تسلیم کر لی!

یوکرینی جہاز کا المناک حادثہ،ایران نے غلطی تسلیم کر لی!

  



ایران امریکہ کشمکش میں اب ایک نیا موڑ بھی آ گیا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے تسلیم کر لیا ہے کہ یوکرینی ہوائی جہاز کسی تکنیکی خرابی کے باعث نہیں گرا،بلکہ وہ میزائل کا نشانہ بنا، جو انسانی غلطی کے باعث ہے،وزیر خارجہ نے اس حادثے پر افسوس اور دُکھ کا اظہار کیا اور مرحومین کے خاندانوں سے معذرت کی ہے۔ یوکرین کے اس جہاز میں 171افراد سوار تھے، ان میں سے اکثریت ایرانیوں اور اس کے بعد کینیڈین شہریوں کی تھی،جبکہ یوکرین،روس اور افغانستان کے مسافر بھی تھے،جہاز کا حادثہ تہران کے عالمی ہوائی اڈے کے قریب ہی پیش آیا،جب جہاز نے یوکرین کے لئے پرواز کی تھی اور وہ ابھی تہران ہی کی فضا میں موجود تھا، ابتدا میں ایران نے اسے تکنیکی خرابی قرار دیا،جبکہ امریکہ نے سب سے پہلے اس شک کا اظہار کیا تھا کہ طیارہ میزائل لگنے سے گرا، اس کی تائید کینیڈین وزیراعظم اور پھر یوکرینی حکومت نے کی، امریکہ کی طرف سے فوٹیج بھی جاری کی گئی،جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ طیارہ ازخود نہیں،کسی نشانے کے باعث گر کر تباہ ہوا ہے۔ دو روز کے سوال و جواب کے بعد ایرانی حکومت نے اب تسلیم کر لیا تاہم اسے انسانی غلطی قرار دیا، لیکن اس کی تفصیل نہیں بتائی، کیونکہ یہ تو ایک مسافر برادر طیارہ تھا، کوئی جنگی جہاز نہیں تھا، اس مسئلے پر اب ایران مزید تنقید کی زد میں آیا کہ کینیڈین وزیراعظم بہت برہم تھے، کہ اس ملک کے شہری تعداد میں ایرانیوں کے بعد آتے ہیں۔قبل ازیں امریکی صدر نے ہوائی اڈے پر ایرانی میزائلوں کے حملہ کا جواب جنگ سے دینے کی بجائے نئی پابندیاں لگا کر دیا اور کہا کہ ایران کو معاشی طور پر تباہ کر دیا جائے گا اب اس نئے انکشاف،بلکہ اقرار نے صورتِ حال کو مزید گمبھیر کر دیا ہے اور ایران تنقید کی زد میں ہے۔جان کا بدلہ کچھ نہیں ہو سکتا،حادثہ بھی ہو تو بین الاقوامی قواعد کے مطابق مرحومین کے پسماندگان کو معاوضہ دینا پڑتا ہے اورذمہ داری کے تعین کے لئے تحقیقات بھی ہوتی ہیں،یہاں معاملہ بالکل صاف ہے کہ خود ایران نے اپنی غلطی تسلیم کی ہے،اس کے ساتھ ہی مذمت اور الزام تراشی کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔مخالفین نے ابھی سے اسے انسانی غلطی ماننے سے انکار کر دیا اور شکوک کا اظہار کیا ہے،یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ شاید بعض ایسے ایرانیوں کو مارنے کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا ہو، جو منحرفین میں شامل ہیں کہ ایران میں اصلاح پسند بھی ہیں اور حال ہی میں مہنگائی کے خلاف بڑے مظاہرے بھی ہوئے تھے،بہرحال وجہ کچھ بھی ہو، اگرچہ ایران کا ازخود غلطی تسلیم کرنا بھی بڑی بات ہے،لیکن اس سے حادثے کی شدت میں کمی تو نہیں ہوئی یہ اور بڑھ گئی ہے۔ ایران کو اب بین الاقوامی قوانین کا بھی سامنا کرنا ہو گا کہ کسی بھی مسافر کے وارث یا یوکرینی ہوائی کمپنی اور حکومت بھی عالمی فورم سے رجوع کر سکتی ہے،اس حادثے یا سانحہ کی شدت بھی یہ تقاضہ کرتی ہے کہ لڑائی یا جنگی جنون مسائل کا حل نہیں،اس سے بے گناہ بھی مارے جاتے ہیں،اس لئے جنگ سے گریز ہی بہتر ہے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...