کوئٹہ، مسجد میں خود کش حملہ

کوئٹہ، مسجد میں خود کش حملہ

  



جمعتہ المبارک کو کوئٹہ میں سیٹلائٹ ٹاؤن کے نواحی علاقے غوث آباد کے مدرسہ دارالعلوم شریعہ کی مسجد میں نماز مغرب کے دوران خود کش حملہ ہوا۔تفصیلات کے مطابق مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی جارہی تھی کہ دوسری صف میں کھڑے خود کش حملہ آور نے دھماکہ کر دیا۔اس دھماکے میں مسجد کے پیش امام، پولیس ٹریننگ کالج کے ڈی ایس پی امان اللہ خان سمیت 15 نمازی شہید ہوئے،جبکہ 19 افراد زخمی ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردی میں 7 سے 8 کلو دھماکا خیز مواد استعمال ہوا۔

فکر انگیز بات یہ ہے کہ حملہ آور خود کش جیکٹ سمیت مسجد کے اندر داخل ہو گیا، نمازیوں کی صف میں کھڑابھی ہو گیا اور کسی کو علم ہی نہ ہوا، کوئی اسے پکڑ نہیں سکا،اس سے تو مسجد کے حفاظتی انتظامات پر کئی سوالیہ نشان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ خود کش حملہ آور کو روکنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا، وہ تو مرنے اور مارنے کے لئے گھر سے نکلتا ہے، اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگیاں بھی ختم کرنے کی ٹھانے بیٹھا ہوتا ہے،لیکن سیکیورٹی کے انتظامات بہتر بنانے اور مناسب حکمت عملی سے نقصان کی شدت کو تو کم کیا جا سکتا ہے۔

بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ڈی ایس پی امان اللہ خان کو نشانہ بنانا مقصود تھا، کیونکہ ابھی ایک ماہ قبل دسمبر میں نامعلوم افراد نے ان کے صاحبزادے نجیب اللہ کوبھی فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔اس نئے سال کے آغاز میں ہی یہ کوئٹہ میں دہشت گردی کا دوسرا واقعہ ہے، چند روز قبل کوئٹہ کے علاقے میکانگی روڈ پر فورسز کی گاڑی کے قریب ریموٹ کنٹرول موٹر سائیکل بم دھماکے میں دو شہری جاں بحق اور2 اہلکار سمیت 18 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

المیہ یہ ہے کہ دہشت گردوں سے کوئی بھی مذہبی مقام محفوظ نہیں ہے، کبھی کسی مسجد پر حملہ ہوتا ہے تو کبھی کسی گرجا گھر کو نشانہ بنایا جاتا ہے کبھی ان کی نگاہیں امام بارگاہ پر گڑی ہوتی ہیں توکبھی گوردوارے پر حملہ مقصود ہوتا ہے۔ لاہور میں داتا دربار پر خود کش حملہ ہو ا،لاہور اور پشاور میں گرجا گھر پر بھی حملے ہوئے۔ اس سے یہ بات تو صاف ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی دین ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی مذہب، ان کاتوانسانیت سے بھی دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔

پاکستان سکیورٹی رپورٹ کے مطابق 2018ء کی نسبت 2019ء میں د ہشت گردی کے واقعات میں 13 فیصد کمی آئی۔2018ء میں پاکستان میں دہشت گردی کے 262 واقعات ہوئے، جن میں 595 لوگ مارے گئے اور 1,030 افراد زخمی ہوئے،جبکہ 2019ء میں پاکستان بھر میں دہشت گردی کے229 واقعات ہوئے،ان واقعات میں 357 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 729 لوگ زخمی ہوئے۔ان اعداد و شمار کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی میں کمی توآئی، لیکن خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالات میں کوئی خاص سدھار نہیں آیا، خیبر پختونخوا میں 125 حملے ہوئے، جبکہ بلوچستان میں 84ایسے واقعات ہوئے،جو مل کر پورے ملک میں ہونے والے واقعات کا91 فیصد بنتے ہیں۔ کالعدم تنظیموں کی بیشتر کارروائیوں کا مرکز خیبر پختونخوا اور بلوچستان ہی رہے،ان کی جانب سے کل ملا کر158حملے کئے گئے، جن میں 239افراد ہلاک ہوئے اور 489 لوگ زخمی ہوئے۔ بلوچ علیحدگی پسندگروپوں کی جانب سے 57 کارروائیاں کی گئیں۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے مختلف واقعات میں سب سے زیادہ ہلاکتیں بلوچستان میں ہوئیں۔ پورے ملک میں دہشت گردی میں جاں بحق ہونے والے افراد میں سے 48 فیصد صرف بلوچستان میں مارے گئے۔گزشتہ برس بلوچستا ن کے 20اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے، جن میں سب سے زیادہ واقعات کوئٹہ میں دیکھنے میں آئے۔البتہ پاکستان میں خود کش دھماکوں میں واضح کمی ہوئی، 2019 میں صرف چار خود خوش دھماکے ہوئے، جن میں سے دو بلوچستان میں، ایک پنجاب اور ایک خیبر پختونخواہ میں ہوا، جبکہ 2018ء میں 19 خود کش دھماکے ہوئے تھے۔قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں عسکریت پسندوں سے نمٹنے میں مصروف رہیں، ان کی جانب سے 28 کارروائیاں کی گئیں جن میں سے15 خیبرپختونخوا،جبکہ11بلوچستان میں کی گئیں اور کل ملا کر75 عسکریت پسند مارے گئے تھے۔یہ تمام اعداد و شمار کسی حد تک حوصلہ کن تو ضرور ہیں، لیکن مکمل طور پر اطمینان کا باعث نہیں ہیں۔

پاکستان اس وقت چاروں طرف سے مسائل اور خطرات میں گھرا ہوا ہے،گھر کے اندر دہشت گردی کا سامنا ہے، معیشت بھی غیر مستحکم ہے۔ ہمسائے بھی ہر وقت توپوں کا رُخ پاکستان کی طرف کئے رکھتے ہیں۔ ایک طرف بھارت ہے تو دوسری طرف افغانستان ہے اوراب ایران اور مشرق وسطیٰ کے حالات بھی گھمبیر ہوتے جار ہے ہیں۔سب مل کر بہت آرام سے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام دھر دیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا کوئی شمارہی نہیں ہے۔پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، جس کی آگ تو ”دوسروں‘‘نے لگائی تھی، لیکن اب تک جل ہم رہے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پر عزم ہیں اور بھرپور کوشش بھی کر رہے ہیں، لیکن حالیہ واقعات کے تناظر میں معلوم ہوتا ہے کہ ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان پہلے دن سے اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی، اب اس کی عملی شکل بھی سامنے آنی چاہئے،سانحہ پشاور کے بعد قومی ایکشن پلان بنانے کے لئے تمام جماعتیں اور ادارے متحدتو ہو گئے تھے، لیکن ابھی تک اس پر عملدرآمد ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔حکومت کو اس ایکشن پلان کو موثر بنانے کے لئے اقدامات کرنا چاہئیں اور اس کی مانٹیرنگ کابندوبست بھی کرنا چاہئے۔سیکیورٹی کے نظام کا بغور جائزہ لیں اور اگر اس میں کوئی کمی ہے تو اس کو فی الفور دور کرنے کابندوبست کریں۔دہشت گردی کے واقعات میں کمی آناوقتی اطمینان تو دے سکتا ہے، لیکن دائمی سکون اور خوشحالی اسی وقت نصیب ہو گی جب پاکستان مکمل طور پر دہشت گردی کے ناسور سے پاک ہو جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ