فلم میکرز نے وقت کے ساتھ بدلتی ٹیکنالوجی پر توجہ نہیں دی،،معروف اداکار سلیم شاد کی باتیں

فلم میکرز نے وقت کے ساتھ بدلتی ٹیکنالوجی پر توجہ نہیں دی،،معروف اداکار سلیم ...

  



حسن عباس زیدی

فلم اور ٹی وی کے معروف اداکار اختر شاد مرحوم کے صاحبزادے سلیم شاد کا شمار بھی دنیائے فن کے جانے مانے فنکاروں میں کیا جاتا ہے سلیم شاد نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کئی برس قبل اداکاری کا آغاز کیا تھا وہ اب تک لاتعداد ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں۔سلیم شاد کے یادگار ڈراموں میں ”ڈبل سواری“،”تلاش“،”نفرت“،”راہیں“،””دوپٹہ“،”تیرے پہلو میں“،”ریشماں“،”تیرا میرا محسن“،”ڈرتے رہو“،”ہم تین“،”سلمیٰ“،”آئینہ ایک چہرے دو“،”مرزا صاحبہ“،”ہم سب امید سے ہیں“،”وردہ“،”اچانک“،”قبضہ“،”سپیشل برانچ“،”غریب شہر“،”معجزہ“،”وعدہ“،”معصوم“،”کالی گھٹائیں“،”ادھوری کہانی“،”وہم دا علاج“،”گڈی“،”غیرت“،”جگ بیتی“،”مختارا مائی“،”دلا بھٹی“،”خوف“،”چوہدرانی“،”آئینہ“،”ٹیک کرانگے“،”اماں“،”ڈھول سمی“،”سلسلہ“،”دشمن“،”راستے“،”دھوپ میں اندھیرا“،”چک 93شمالی“،”عینک والا جن“،”پانی“،گڈ نیوز“،”کانٹوں سے دوستی“،”بازی“،”صاحب سرکار“۔”گھٹن“،”مشورہ مفت“،”سب اچھا ہے“،”علی بابا چالیس چور“،”گرفت“،”کاغذ“،”چار لاچار“،”سراغ“،”سارہ“،”سایہ“،”ونڈر بوائے“،”محمد علی سے ملئے“،”لکی سٹار ہوٹل“،”آج کی تازہ خبر“،”خاندان“،”سچل“،”تنہائی“،”دیوانے“،”قربانی“۔”دل سے مت کھیلو“،”بائی داوے“،”کانچ کا محل“،”کامیڈی کلینک“،”دکھاں دے پینڈے“،”لاہوری گیٹ“،”آدیکھیں ذرا“،”بلیک اینڈ وائٹ“،”’نظر“،”تکمیل“،پولیس فائل“،”اک دوجے کیلئے“،”تمنا“،”جدائی“،”میری آواز سنو“،”یادیں“،”دوستی“،”بھروسہ“،”تم میرے ہو“،”آدھی عورت“،”شمع“،”ہوائیں“،”دیہاڑی“،”دیوانہ مستانہ“،”نازک رشتے“،”دل دیاں لگیاں“،”سس کدی ہس“،”یہ دنیا ہماری بھی ہے“،”ست رنگی“ اور”منجی کتھے ڈھاواں“کے نام نمایاں ہیں۔سلیم شاد کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے فنی کیرئیر کے دوران منفرد کام کو ترجیح دی ہے میرے تمام ڈراموں میں میرے کردار پرفارمنس سے بھرپور ہیں۔مجھے فخر ہے کہ میں ایک بڑے فنکار اختر شاد کا بیٹا ہوں وہ ایک شفیق باپ اور بہترین رہنما تھے میں نے ان سے جو کچھ سیکھا وہ میرے کام آرہا ہے۔میرے والد مرحوم نے مجھے ہمیشہ سینئرز کی عزت کا درس دیا اور میں نے اس پر عمل کیا۔سلیم شاد نے کہا کہ ہمارے ہاں بہت عرصہ پہلے ہی فلمساز اور ہدایتکاروں نے فلم میکنگ کے حوالے سے وقت کے ساتھ بدلتی ٹیکنالوجی پر توجہ ہی نہیں دی، جس کا خمیازہ ہمیں فلم انڈسٹری کے ایسے شدید بحران کی صورت میں بھگتنا پڑا کہ سٹوڈیوز کے ساتھ سینما انڈسٹری بھی زوال پذیر ہوگئی ابھی فلم میکنگ بہتری کی طرف گامزن ضرور ہوئی ہے مگر اس کا مطلب ہرگز نہیں لینا چاہیے کہ ہم اپنی منزل پا چکے ہیں ابھی بہت کچھ مزید کر نے کی بھی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ پاکستانی فلم میکرز وقت کے ساتھ بہتری کی طرف جارہے ہیں اگر کوئی اچھی آفر ہوئی تو ضرور فلم کروں گا۔انہوں نے کہا کہ جب تک فلم میکر باکس آفس کے تقاضوں اور فلم بینوں کے مزاج کو سمجھ کر فلم نہیں بنائے گا اسے کامیابی نہیں مل سکتی۔سلیم شاد نے کہا کہ جب تک گھر میں بزرگوں کی رائے کو حیثیت دی جاتی رہی حالات قابو میں تھے لیکن جب نئی نسل نے خود کو ہی عقل کل سمجھنا شروع کیا تو مسائل پیدا ہونا شروع ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں آج کی نوجوان نسل میں والدین اور بزرگوں کی اہمیت اجاگر کرنے والے ٹی وی ڈرامے بھی پیش کرنے چاہئیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ایسے موضوعات پر مزید کام ہونا چاہئے۔ نوجوان نسل کا بہترین کام کرنا ہم سب کے لئے قابل فخر ہے۔ہمارے ٹی وی ڈرامے کل بھی غیر ملکی ڈراموں سے اچھے تھے اور آج اور بھی بہتر ہیں۔بہت دکھ ہوتا ہے جب ہمارے اپنے بہت سے لوگ فخریہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ٹی وی ڈرامے نہیں دیکھتے۔ ہمیں اپنے کانام اجاگر کرنے کیلئے اپنے ملک اور ملک کی چیزوں کو اپنانا چاہیے۔

مزید : کلچر