انڈین آرمی چیف کی پاکستان پر حملے کی ایک بار پھر ہرزہ سرائی،بھارتی بیانات اندرونی خلفشار سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش:ترجمان پاک فوج

انڈین آرمی چیف کی پاکستان پر حملے کی ایک بار پھر ہرزہ سرائی،بھارتی بیانات ...

  



راولپنڈی، مظفر آبادنئی دہلی (بیورورپورٹ،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی بھارتی جارحیت کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔ بھارتی آرمی چیف عوام کو خوش کرنے کیلئے بیان بازی کر رہے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا لائن آف کنٹرول کے حوالے سے بھارتی آرمی چیف اپنی عوام کو خوش کرنے کیلئے بیان بازی کر رہے ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹو یٹ کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا بھارتی آرمی چیف منوج موکنڈ نراوانے کے یہ بیانات معمول کی ہرزہ سرائی ہے۔ بھارتی بیانات اندرونی معاملات سے نظر ہٹا نے کی کوشش ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا اشارہ بھارت میں ہونیوالے مظاہروں کی طرف ہے جہاں پر شہریت کے معاملے پر متنازعہ قانون کی منظوری کے بعد ملک بھر میں احتجا ج جاری ہے، اس احتجا ج نے خوفناک صورتحال اختیار کر لی ہے، احتجاج کے باعث اب تک 35 کے قر یب افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ملک بھر کی جامعات سمیت بھی سراپا احتجا ج ہیں۔بھارت گزشتہ چھ سات ماہ سے جنگی بیانات دے کر مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالے بھارتی مظالم کو بھی چھپانا چاہتا ہے تاکہ یہ وادی کی صحیح صورتحال دنیا تک نہ پہنچ سکے،ترجما ن پا ک فوج نے کہا عالمی برادری مقبوضہ جموں و کشمیر اور اقلیتوں کیخلاف مظالم کا نوٹس لے۔بھارتی آرمی چیف کا آزاد کشمیر میں فوجی کارروائی کا بیان معمول کی ہرزہ سرائی اور اپنے لو گوں کو خوش کرنے اور اپنے ملک کے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ بھارت میں حالیہ احتجاج اور ہنگامہ خیزی سے نکلنے کیلئے بھارتی آرمی چیف کی طرف سے ا یسے بیانات دیئے جا رہے ہیں جبکہ ہم مقبوضہ کشمیر میں متعصب و انتہاپسندانہ بھارتی سوچ سے آگاہ ہیں، دنیا کو مقبوضہ وادی میں بھارتی جبر کا نوٹس لینا چاہئے۔ بھارتی جبر خطے کے ا من کیلئے خطرہ ہے بھارت کو 27فروری 2019 یاد ہو گا، اب کی بار اس سے بھی زیادہ بھرپور جواب ہو گا۔بھارتی آرمی چیف کی لائن آف کنٹرول کے اس پار کارروائی کی ہرزہ سر ا ئی ثابت کرتی ہے بھارتی ریاستی اداروں میں بھی انتہا پسند سوچ پیوست ہو چکی۔بھارت کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں وحشی فاشسٹ ذہنیت عیاں ہو چکی، بھارت کا انتہا پسند، دہشت گرد اور فاشسٹ ہندوتوا ایجنڈا علاقائی امن کیلئے خطرہ ہے۔عالمی برادری مقبوضہ جموں و کشمیر اور اقلیتوں کیخلاف مظالم کا نو ٹس لے بھارت 27فروری 2019 کو پاکستان کے جوا ب کا مزہ چکھ چکا، اب بھی پاکستان کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا انتہائی مہلک جواب دینے کیلئے مکمل تیار ہے۔دریں اثناء وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے بھارتی آرمی چیف کی جا نب سے آزاد کشمیر پر حملے کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے جنرل منوج ہم لائن آف کنٹرول پر تمہا را انتظار کررہے ہیں،پاک سرزمین کی جانب بڑھ کر دیکھو۔ ہفتہ کو ا پنے ایک بیا ن میں وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا ہندوستانی فوج کے پاس اتنے تابوت نہیں جتنے تم جنازے اٹھا ئیں گے۔ آزاد کشمیر کی جانب اگر ہندوستانی فوج بڑھی تو ہم سب اپنی فوج کے شانہ بشانہ لڑیں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں پتھروں سے ڈرنے والی فوج میں اتنی ہمت نہیں کہ آزادکشمیر کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا اگر ایسا کرنے کی کوشش بھی کی گئی تو لڑائی لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب لڑی جائیگی۔اس سے قبل بھارتی آرمی چیف نے گیدڑ بھبکی لگاتے ہوئے کہا تھا انڈین پارلیمنٹ اگر چاہے تو آزاد کشمیر بھی ہمارا ہوسکتا ہے۔بھارتی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہر شخص نے بہترین کام کیا،چا ہے وہ لا ئن آف کنٹرول پر تعینات ہو یا پھر عام شہری علاقوں کو کنٹرول کرنا ہو اور مجھے فوجی ا ہلکاروں سے کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں۔بھارتی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہمیں مغربی سرحدوں سے زیادہ خطرات لاحق ہیں، سیاچن ہمارے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ خطہ ہمارے لیے بہت اہم ہے۔بھارت کے نئے آرمی چیف جنرل منوج مکند نروانے نے ہر زہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے اگر بھارتی پارلیمنٹ حکم دیتی ہے تو بھارتی فوج پاکستان کے کشمیر کے حصول کیلئے کارروائی کرے گی۔اس حوالے سے گزشتہ روز نئی دہلی میں بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل منوج مکند نروانے دعویٰ کیا کہ ایک پارلیمانی قرار داد میں کہا گیا ہے پورا جموں و کشمیر بشمول آزاد کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا اس حوالے سے کئی سالوں سے پارلیمانی قرارداد موجود ہے کہ پورا جموں اور کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔بھارت کے نئے آرمی چیف نے مزید کہا اگر پارلیمنٹ کسی وقت یہ خوا ہش کرتی ہے کہ یہ حصہ بھی ہمارا ہوجائے اور اس حوالے سے ہمیں کوئی احکا ما ت موصول ہوتے ہیں تو لازمی طور پر کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے گزشتہ برس 5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اور مقبوضہ وادی کی صورتحال پر پاکستان اور بھارت کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں۔بھارت بھر میں متنا ز ع شہریت ترمیمی قانون اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کیخلاف بڑے پیمانے پر جاری مظاہروں کی وجہ سے بھارتی جارحیت کی خدشات پھر سے پیدا ہوگئے ہیں۔علاوہ ازیں یہ شبہ ہے کہ بھارتی حکومت اپنے ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے پاکستان کیخلاف کوئی کارروائی کرسکتی ہے۔

ترجمان پاک فوج

مزید : صفحہ اول


loading...