پاکستان ایران اور اپنے عوام کو راضی رکھنے کیلئے کوشاں:نیوز ویک

پاکستان ایران اور اپنے عوام کو راضی رکھنے کیلئے کوشاں:نیوز ویک

  



واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) بین الاقوامی سطح پر غیر مقبول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اہم فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کو اس وقت ہلاک کر دیا جب وہ ایران کی حامی بغداد حکومت کے پاس مہمان بن کر پہنچے تھے،اس کے جواب میں ایران نے دو امریکی فوجی ا ڈ وں کو نشانہ بنایا اور احتیاط کی کہ اس کے نتیجے میں کوئی جان نقصان نہ ہوپائے اس انداز میں امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ کشیدگی کے جا ئزے کا آغاز ”نیوز ویک“ نے اپنے تازہ شمارہ میں کیا ہے۔معتبر امریکی جریدہ لکھتا ہے ایران نے جس احتیاط سے کام لیا وہ قابل تعریف ہے، ایرا ن کے اندر امریکی کارروائی کیخلاف غم و غصہ کے ردعمل کا مظاہرہ ہوا تھا،اس کے باوجود خطے میں امریکہ کے گیارہ اہم فوجی ٹھکا نو ں پر میزائل گرا نے سے پرہیز کیا حالانکہ وہ اس کی صلاحیت رکھتا تھا اور ایسی ہی احتیاط ستمبر 2019ء میں اس نے سعودی عرب کے تیل کے کنوؤں پر حملے کے وقت کی تھی کہ صرف املاک کو نقصان پہنچے اور جانی نقصان نہ ہو۔ امریکہ کے سخت گیر دائیں بازو کی رائے میں سلیمانی امریکیوں کا قاتل تھا اور مزید ہلاکتوں کے منصوبے بنا رکھے تھے،تا ہم دنیا کو اس موقف سے کلی اتفا ق نہیں اور ”جوہری“ پاکستان ایک طرف کھل کر ایران کی حمایت سے ہاتھ کھینچے ہوئے ہے، دوسری طرف اپنی غصے سے بھری ہوئی آبادی کی خوش کرنے کیلئے امریکہ کے اقدام پر بھی تنقید کر رہا ہے لیکن اگر پاکستانیوں سے اس موضوع پر بات کریں تو آپ کو پتہ چل جائیگا کہ خلیج کے معاملات میں پاکستان کی مداخلت کرنے کی صورت میں وہ مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہو جائیں گے اور ایران کیخلاف سعودی عرب کا ساتھ دیتے نظر آئیں گے کوئی بھی خطے میں امریکہ کی موجودگی کو پسند نہیں کرتالیکن اگر امریکہ نکل جاتا ہے تو صورتحال بری طر ح بگڑ سکتی ہے ”نیوز ویک“ لکھتا ہے کہ ایران ایک بہت بڑی ریاست ہے اور عرب خطے میں خلیجی ریاستوں کی چھوٹی فوجوں کی حفا ظت کی پوری ذمہ داری لینے کے قابل نہیں۔امر یکہ نے صدام حسین کو ختم کیا جو سنی فرقے سے تعلق رکھنے والا قصائی تھا اور وہ شیعہ اکثریت والے عراق پر حکمران تھا اور شیعوں کو ہلاک کرنا پسند کرتا تھا۔امریکہ نے داعش کے سنی لیڈر البغدادی کوہلاک کیا،ایران خطے میں سنی طبقے کی برتری کی مزاحمت کر رہا ہے لیکن چھوٹی خلیجی ریا ستیں اپنے ہاں شیعوں کو ختم کرنے میں مصروف ہیں جب سعودی عرب نے یمن میں پاکستان سے حمایت مانگی تو اس کا موقف منقسم تھا لیکن وہ انکار نہ کر سکا اور اسے اپنا آرمی چیف سعودی عرب کے حوالے کرنا پڑا۔ تا ہم پاکستانی کسی صورت ایران کو ناراض نہیں کرنا چاہتے مگروہ بھو ل جاتے ہیں کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک نے لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار فراہم کر رکھا ہے جبکہ ایران ایسا نہیں کر رہا۔

نیو زویک

مزید : صفحہ اول


loading...