"عمران خان یا معاشی ٹیم سے اختلافات کی خبریں بے بنیاد" چیئرمین ایف بی آر خود میدان میں آگئے

"عمران خان یا معاشی ٹیم سے اختلافات کی خبریں بے بنیاد" چیئرمین ایف بی آر خود ...

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے وزیراعظم یا مشير خزانہ کے ساتھ کوئی اختلافات نہيں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے وضاحت جاری کردی، چیئرمین ایف بی آر 19 جنوری تک رخصت پر ہیں۔

ايف بی آر کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ شبر زیدی کے وزیراعظم عمران خان یا معاشی ٹیم سے اختلافات کی خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اپنے معمول کے میڈیکل چیک اپ کیلئے کراچی میں موجود ہیں، وہ 20 جنوری کو تاجر کنونشن میں شرکت کریں گے۔

دوسری جانب چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے بھی اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ 20 جنوری کے اجلاس میں وزیراعظم تاجر برادری کو دی جانیوالی رعایتوں کا باضابطہ اعلان کریں گے، عمران خان تاجر تنظیموں سے مکمل دستاویزات اور ٹیکس ادائیگی پر تعاون بھی مانگیں گے۔

یادرہے کہ گزشتہ روز روزنامہ جنگ نے دعویٰ کیا تھا کہ اقتصادی ٹیم کے اعلیٰ پالیسی سازوں میں کچھ پالیسی سطح پر اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں جس پر چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے 6 تا 19 جنوری 15 روز کے لئے رخصت لے لی۔ایف بی آر کی رکن ان لینڈ ریونیو (آئی آر) پالیسی سیما شکیل بھی اپنی صحت سے متعلق مسائل کی وجہ سے رخصت پر ہیں۔ بارہا کوششوں کے باوجود کوئی بھی اس موضوع پر گفتگو کے لئے آمادہ نہیں ہے۔

جیو نیوز کے ذرائع کے مطابق چیئرمین ایف بی آر نے بظاہر اپنی صحت اور ذاتی مصروفیات کی وجہ سے رخصت لی ہے لیکن اندرونی ذرائع نے کہا کہ رواں سال کی شروعات ہی سے اختلافات سامنے آنا شروع ہوگئے تھے۔ٹیکسٹائل سے متعلق ایک اجلاس میں بتایا جاتا ہے کہ تلخ و تند جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کر کے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سافٹ ویئر کی تنصیب میں سست روی پر ناپسندیدگی کا بھی اظہار کیا۔

اخبار نے مزید لکھا کہ تند و تیز جملوں کے تبادلے کے بعد چیئرمین ایف بی آر نے رخصت پر جانے کو ترجیح دی۔ تبصرے کے لئے ان کی رائے جاننے کے لئے رابطے کی کوششوں پر ان کا سیل موبائل فون اور سماجی رابطے کے ذرائع بند ملے۔تاہم رابطہ کرنے پر ایف بی آر کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کی طبیعت ناساز ہے اور انہوں نے اس کا ذکر اپنے ساتھیوں سے بھی کیا۔

شبر زیدی کو گزشتہ بجٹ میں 5.5 ٹریلین روپے وصولیوں کا ہدف پورا نہ کرنے پر بھی شدید دباو¿ کا سامنا رہا۔ جبکہ سابق چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان اور رکن ڈاکٹر اقبال آئی ایم ایف کو باور کرانے میں لگے رہے کہ 4.6 ٹریلین روپے وصولیوں کا ہدف تو حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن 5 ٹریلین روپے سے اوٹر وصولیاں ممکن نہیں ہے۔ لیکن شبر زیدی نے 5.5ٹریلین روپے وصولیوں کا ہدف قبول کر لیا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اب یہ ہدف گھٹا کر 5.238 ٹریلین روپے کر دیا گیا۔ لیکن دسمبر 2019 میں شارٹ فال 115 روپے کا رہا۔ اب تک رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ایف بی آر نے 2083 ارب روپے کی وصولیاں کی ہیں جبکہ دوسری ششماہی میں اسے 3155 ٹریلین کی وصولیاں کرنی ہوں گی تاکہ 30 جون 2020 تک 5238 ارب روپے وصولیوں کے ہدف کو پورا کیا جا سکے۔

مزید : قومی


loading...