"پارلیمنٹ حکم دے تو آزاد کشمیر لینے کیلئے فوجی کارروائی کرینگے" بھارت کے نئے آرمی چیف بھی خطے کا امن برباد کرنے کیلئے دھمکیوں پر اتر آئے

"پارلیمنٹ حکم دے تو آزاد کشمیر لینے کیلئے فوجی کارروائی کرینگے" بھارت کے نئے ...

  



نئی دہلی (ویب ڈیسک ) بھارتی آرمی چیف جنرل منوج موکنڈ نراوانے نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ حکم دے تو آزاد کشمیر لینے کیلئے فوجی کارروائی کرینگے،کنٹرول لائن پر بہت سرگرمیاں ہو رہی ہیں، روزانہ کی بنیاد پر خفیہ الرٹس ملتے ہیں، شارٹ ٹرم خطرہ دراندازی ،طویل مدتی خطرہ روایتی جنگ ہے۔ہم اسی کیلئے تیاری کر رہے ہیں،آنے والے دنوں میں فوج کی توجہ تعداد کے بجائے کوالٹی پر ہو گی،شمالی اور مغربی سرحد پر بیک وقت لڑائی ہو ئی تو ایک ہدف بنیادی ،دوسرا ثانوی ہوگا۔

میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیرکے بارے میں پارلیمانی قرارداد ہے کہ 5اگست سے قبل والا پورا جموں اور کشمیر ہمارا حصہ ہے، یہ پارلیمانی قرارداد ہے اور اگر پارلیمان یہ چاہتا ہے کہ وہ علاقہ بھی کبھی ہمارا ہو اور اس قسم کا اگر کوئی حکم ہمیں ملتا ہے تو اس پر ضرور کارروائی کی جائے گی۔لائن آف کنٹرول پر بہت سرگرمی ہے، روزانہ کی بنیاد پر انٹیلی جینس الرٹس موصول ہوتی ہیں اور انہیں بہت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ہم بہت سی سرگرمیوں کو ناکام کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور اسے ہم بی اے ٹی ایکشن کہتے ہیں۔انہوں نے چین اور پاکستان کی سرحد کے ساتھ فوج کے توازن کے حوالے سے کہا ہے کہ شمالی اور مغربی دونوں سرحدوں پر مساوی توجہ دیے جانے کی ضرورت ہے۔

دو محاذوں پر بیک وقت لڑائی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں سے ایک بنیادی ہو گا جبکہ دوسرا ثانوی، جو بنیادی ہوگا وہاں زیادہ فوج تعینات کی جائے گی اور ہم چاہیں گے ثانوی محاذ پر بھی کوئی کمی نہ رہ جائے اور اسی لیے ہمارے پاس دو محاذی ٹاسک فورس ہے۔

مزید : بین الاقوامی