ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ کاوفاقی کابینہ سے علیحدگی کااعلان،حکومتی ردعمل بھی آگیا

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ کاوفاقی کابینہ سے علیحدگی کااعلان،حکومتی ...
ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ کاوفاقی کابینہ سے علیحدگی کااعلان،حکومتی ردعمل بھی آگیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کی جانب سے کابینہ سے علیحدگی کے اعلان پر حکومتی ردعمل پیش کردیاہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ خالدمقبول صدیقی نے اپنااستعفیٰ براہ راست حکومت کونہیں بھیجا،ایم کیو ایم اتحادی ہے اور رہے گی ۔ہرجماعت کااپنا نقطہ نظرہوتاہے۔انہوں نے کہاایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کریں گے۔کراچی کے مسائل پر فردوس عاشق نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو سیاست سے ہٹ کردیکھا جائے،سندھ میں پی ٹی آئی کی حکومت نہ ہونا چیلنج ہے اورکراچی کے مسائل کوئی ایک جماعت حل نہیں کر سکتی۔انہوں نے کہاکراچی ہر جگہ ہماری ترجیحات میں ہے اوروزیراعظم کاویژن ہے کراچی کودنیاکے بہترین شہروں کی طرح سہولیات دینی ہیں۔

اس سے قبل ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے وزارت چھوڑنے کا اعلان کیا ہے ۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ ان کا وزارت میں بیٹھنا بے سود ہے۔انہوں نے کہا بلاول بھٹو کی آفر اکااستعفیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا بلاول بھٹو کی آفر اکااستعفیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہا وزارت چھوڑ رہے ہیں حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا انہوں نے استعفیٰ سے پہلے پریس کانفرنس کا فیصلہ کیاتھا اور اب پریس کانفرنس کے بعد وہ باضابطہ طور پر استعفیٰ دے دیں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے قانون اور انصاف کی وزارت نہیں مانگی تھی۔خالد مقبول صدیقی کے بقول ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود حکومت ان معاہدوں پر عمل نہیں کررہی جن کا اتحاد کے وقت وعدہ کیاگیاتھا۔انہوں نے کہا پہلے تجربے کی اور اب سنجیدگی کی کمی دکھائی دیتی ہے۔ 2018 کے انتخابات کے نتائج ایم کیو ایم تسلیم نہیں کرتی تھی، . ایم کیو ایم نے ہمیشہ جمہوری نظام کی حمایت کی ہے، بینظیربھٹو کے دور میں بھی حمایت کی تھی، سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ زیادتی کی ایک تاریخ ہے.خالد مقبول نے کہا ایم کیو ایم نئے مرحلے سے گزر رہی ہے۔حیدر آباد جیسے بڑے شہر میں ایک یونیورسٹی نہیں دے سکے،۔ میرے لیے مشکل ہوجاتا ہے کہ وزارت پر بیٹھا رہوں،۔حکومت بنانے کیلئے ساتھ دیا تھا۔ میرا اب وزارت میں رہنا بہت سوالات کو جنم دیتا ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا ہمارے نقاط پر عمل ہورہا ہوتا تو شاید انتظار کرلیتے۔حکومت سے تعاون جاری رکھیں گے۔ آج سے ہم وزارتوں پر نہیں بیٹھیں گے۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...