اسباب اور نتائج سے ماورا زندگی

اسباب اور نتائج سے ماورا زندگی

  



عام خیال ہے کہ جتا گڑ ڈالو اتنا میٹھا ۔انسان جتنی کوشش کرے گا اسے اتنا ہی ملے گا حاصل کو کوشش کے پیمانے پر تولا جاتا ہے انسان دعا بھی یہی کرتا ہے کہ یا مسبب الاسباب میری کا م کا  کوئی سبب بنا دے یا مجھے کسی کے کام کا وسیلہ بنا دے۔کہاوت یہ بھی ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے جو بویا جاتا ہے وہی کاٹا جاتا ہے۔یعنی زندگی علت اور معلول کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے ۔ سائنس بھی علت اور معلول کے سلسلے کو حقیقت گردانتی ہے کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کی کوئی نہ کوئی علت ہوتی ہے ل۔ لیکن انسانی زندگی علت اور معلول کے سلسلے کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے  انسانی زندگی اسباب اور نتائج کی زنجیر میں جکڑی ہوئی نہیں ہے  اور نہ ہی یہ کوئی آفاقی فارمولا رکھتی ہے کہ سبب کے مطانق ہی نتیجہ نکلے گا ۔

ہماری لاکھ کوشش کے باوجود بھی نتیجہ توقعات کے برعکس نکلتا ہے۔  با وفا دوست اچانک بے وفا بن جاتا ہے انسان ساری عمر جینے کے اسباب بناتا رہتا ہے انھیں تلاش کرتا رہتا ہے لیکن زندگی تو موت کی آغوش میں چلی حاتی ہے ۔ہم یہ بھی تو دیکھتے ہیں کہ ایک ہی تجربے سے گزرنے والے لوگ اپنی اپنی سوچ کے مطابق مختلف نتیجہ نکالتے ہیں۔ ایک ہی گھر میں پیدا ہونے والے بچے ایک جیسا کھانا کھانے والے مختلف مزاج کے حامل ہوتے ہیں ۔ہم یہ بھی تو دیکھتے ہیں کہ انتہائی مجبور زندگی میں بھی لوگ امید کے چراغ روشن رکھتے ہیں زندگی تو ہر لمحہ بے سبب نتائج اور بے نتیجہ اسباب میں گھری رہتی ہے ۔موت نتیجہ ہے اور زندگی سبب۔۔۔۔دونوں ہی ایک دوسرے کے متضاد ہیں ۔۔واصف علی واصف نے کیا خوب فرمایا تھا کہ عجیب بات ہے کہ سبب فرعون ہو تو نتیجہ موسی نکلتا ہے۔اور یہی بات اہل ظاہر کی سمجھ میں نہیں آتی جہاں سبب اور نتیجہ کی سائنس ختم ہوتی ہے وہاں سے رضا اور نصیب کی حد شروع ہوتی ہے اور رضا تو رضا ہے چاہے تو محنت کو مراد دے اور چاہے محنت کے بغیر ہی با مراد کر دے۔

ذندگی۔۔مفلسی میں بھی گزر کرتی ہے یہ

تخت پر بھی سسکیاں بھرتی ہے یہ

ذندگی محبوب کی فرقت بھی ہے

ذندگی افسانہ فرقت بھی ہے

انسان کے اندر تومحنت کرنے کی اہلیت ہے۔سبب موجود ہے لیکن وہ لاغر ہے۔محنت نہیں کر سکتا۔ نتیجہ کیسے نکلے آنکھیں محفوظ بھی ہوں تو بینائی غیر محفوظ  رہتی ہے ۔ دستر خوان کشادہ ہوتا ہے لیکن بھوک مر جاتی ہے زندگی اپنی تمام آسائشوں کے ساتھ موجود ہے لیکن جینے کی تمنا نہیں ۔ ریاضی کے اصولوں کی طرح زندگی جمع تفریق نہیں ۔ سبب اور نتیجے کی بحث میں الجھنے والا زندگی کی حقیقی مسرتوں سی ہمکنار نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالی خود فرماتا ہے کہ وہ جسے چاہے عزت دے جسے چاہے زلت دے جسے چاہے ملک عطا کر دے جسے  چاہےمعزول کر دے جسے چاہے بے حساب رزق دے اور جسے چاہے اس کے گناہ معاف کر کےاس کی برائیوں کو اچھائیوں میں بدل دے۔ دعا ایسا کرشمہ ہے جو سبب اور نتیجے کی ڈور کو توڑ دیتی ہے۔ بات تو تعلق، ادراک، نسبت ،عطا کی  ہے ورنہ کہاں  علت اور معلول میں جکڑی محدود انسانی عقل اور کہاں  معرفت  کاسفر۔۔۔۔ زندگی  تو سبب اور نتیجے کی سائنس سے ماورا بھی ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...