لاہور میں پولیس اہلکار کا ڈی آئی جی پر چھریوں سے حملہ ، دراصل کیا معاملہ پیش آیا ؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

لاہور میں پولیس اہلکار کا ڈی آئی جی پر چھریوں سے حملہ ، دراصل کیا معاملہ پیش ...
لاہور میں پولیس اہلکار کا ڈی آئی جی پر چھریوں سے حملہ ، دراصل کیا معاملہ پیش آیا ؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )لاہورمیں واقع قلعہ گجر سنگھ میں پولیس اہلکار کی جانب سے ڈی آئی جی شہزاد پر چھریوں سے حملہ کیے جانے کے معاملے کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں جس میں ایس پی سیکیورٹی لاہور نے بتایا کہ بظاہر اہلکار رفیق دماغی طور پر بیمار دکھائی دیتاہے جس کا علاج جاری ہے ۔

ایس پی سیکیورٹی لاہور بلال ظفر نے گزشتہ رات پولیس اہلکار کی جانب سے ڈی آئی جی شہزاد صدیقی پر حملہ کیے جانے سے متعلق تفصیلات جاری کر دی ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ رفیق نامی کانسٹیبل گزشتہ رات ساڑھے گیارہ بجے ڈیوٹی پر تھا ، نے ڈی آئی جی شہزاد صدیقی پر اس وقت حملہ کیا جب وہ پولیس لائن میں پیدل چل رہے تھے ۔رفیق اس وقت پولیس حراست میں ہے اور اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیاہے ۔

ان کا کہناتھا کہ چابی کے چھلے میں لگی چھوٹی چھری کو شہزاد صدیقی پر حملے کیلئے استعمال کیا گیا جس کے باعث ان کی چھاتی اور ماتھے پر زخم آئے ، انہیں فوری ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں کچھ ٹانکے لگانے اور طبی امداد دینے کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا ۔ایس پی سیکیورٹی لاہور نے ٹویٹر پر جاری مختلف پیغام میں جاری کیے جن میں سے ایک میں انہوں نے بتایا کہ ڈی آئی جی اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن لاہور دونوں نے اس اہلکار سے تفتیش کی ہے اور اتبدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کانسٹیبل نے ماضی میں ڈی آئی جی شہزاد کے ساتھ کام نہیں کیا اور نہ ہی حال میں ایسی کوئی وجہ سامنے آئی ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ کانسٹیبل کا ذہنی امراض کا علاج جاری ہے اور وہ ابھی تک کوئی درست جوابات نہیں دے رہاہے ، وہ دماغی طور پر بیمار دکھائی دیتے ہیں ، میڈیکل بورڈ کل ان کا معائنہ کرے گا جبکہ ان کے خون کے نمونے بھی لے لیے گئے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں جو رپورٹس چل رہی ہیں اس کے برعکس ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو کہ اس طرف اشارہ کرے کہ ڈی آئی جی نے ڈانٹ ڈپٹ کی ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور