شادی سے قبل مسلمان لڑکیوں کو کنواری بنا کر گورے ڈاکٹر لاکھوں روپے کمانے لگے

شادی سے قبل مسلمان لڑکیوں کو کنواری بنا کر گورے ڈاکٹر لاکھوں روپے کمانے لگے
شادی سے قبل مسلمان لڑکیوں کو کنواری بنا کر گورے ڈاکٹر لاکھوں روپے کمانے لگے

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ڈاکٹروں کی طرف سے آپریشن کرکے لڑکیوں کے پردہ بکارت ازسرنو بنائے جانے کا شرمناک انکشاف منظرعام پر آ گیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق برطانیہ میں اس وقت 22سے زائد کلینک ایسے ہیں جو خفیہ طور پر یہ سروس فراہم کر رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کلینکس لندن میں موجود ہیں۔ یہاں لڑکیاں آتی ہیں جو ہزاروں پاﺅنڈز کے عوض اپنے پردہ بکارت دوبارہ بنواتی ہیں تاکہ شادی ہونے پر ان کے شوہر انہیں پاک دامن سمجھیں۔

رپورٹ کے مطابق ان کلینکس کی یہ سروس حاصل کرنے والی لگ بھگ سبھی لڑکیاں مسلمان ہوتی ہیں۔ برطانیہ ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک سے بھی مسلمان لڑکیاں اس کام کے لیے بڑی تعداد میں برطانیہ جا رہی ہیں۔ زیادہ تر لڑکیاں مشرق وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے جا رہی ہیں۔بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر لڑکیاں شادی سے قبل جنسی تعلق قائم کر لیتی ہیں جس کے باعث ان کا پردہ¿ بکارت پھٹ جاتا ہے اور پھر ان کے ماں باپ انہیں اس آپریشن پر مجبور کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی بیٹی کی شادی کریں تو اس کا شوہر اسے پاکدامن سمجھے۔

اس آپریشن کو ’ہائمن ری پیئر‘ (Hymen repair)کا نام دیا جاتا ہے، جس میں پوشیدہ کے اندر پھٹ جانے والا جھلی نما پردہ دوبارہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس آپریشن میں صرف ایک گھنٹہ لگتا ہے جس کی فیس 3ہزار پاﺅنڈ (تقریباً 6لاکھ روپے) سے زائد ہوتی ہے۔ رائل کالج آف اوبسٹیٹریشنز اینڈ گائنا کالوجسٹس کی ڈاکٹر لیلا فروڈشیم کا کہنا ہے کہ ”پردہ بکارت کے شادی سے قبل پھٹ جانے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ لڑکی پہلے ہی جنسی تعلق قائم کر چکی ہے۔ یہ پردہ اچھل کود اور دیگر ایسی سرگرمیوں میں بھی پھٹ سکتا ہے۔ اس کا لڑکی کے کنوار پن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مذکورہ کلینکس لڑکیوں اور ان کے والدین کے خوف سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور رقم کما رہے ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...