آرمی ایکٹ کے حق میں ووٹ دینے کے لیے کس پر دباؤ ڈالا گیا ؟خرم دستگیر خان نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا 

آرمی ایکٹ کے حق میں ووٹ دینے کے لیے کس پر دباؤ ڈالا گیا ؟خرم دستگیر خان نے ...
آرمی ایکٹ کے حق میں ووٹ دینے کے لیے کس پر دباؤ ڈالا گیا ؟خرم دستگیر خان نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا 

  



لاہور(صباح نیوز) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما سابق وزیردفاع خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ  پارٹی کی قیادت پر پارلیمینٹ میں  قانون سازی کے لیے دباؤتھا ۔

الحمرا میں افکار تازہ تھنک فیسٹ میں پارلیمنٹ ٹوڈے نامی سیشن سے خطاب کے دوران  خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ کے حق میں ووٹ دینے کے لیے اگر کوئی دباؤتھا تو وہ ہماری قیادت پر تھا ہم جیسے رکن پارلیمان پر نہیں، آرمی ایکٹ پر مسلم لیگ (ن) اورپیپلز پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہوئی تھی، بل کا مسودہ اپوزیشن کو قانون سازی سے ایک ہفتے قبل دیا گیا تھا تاہم پارلیمنٹ کے اجلاس سے ایک روز قبل ہی کچھ ایسا دلچسپ واقعہ پیش آیا جس نے مجوزہ بل کے لیے حزب اختلاف کے ووٹ دینے کی راہ ہموار کر دی۔ حکومت کو آرڈیننس کا اختیار صرف ہنگامی صورتحال میں استعمال کرنا چاہیے، حکومت پارلیمنٹ کو اس وقت اہمیت دے گی جب پچھلے دروازے سے قانون سازی کا اختیار بند ہو جاتا ہے،قانون سازی کے لئے سینئر وفاقی وزیر نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے پارلیمانی گروپ سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور آرمی  بل کے لیے ووٹ کا مطالبہ کیا اور وہ اس وقت ہی گئے جب ہم نے انہیں زبان دے دی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...