وفاقی دارالحکومت میں بڑھتے جرائم باعث تشویش

 وفاقی دارالحکومت میں بڑھتے جرائم باعث تشویش
  وفاقی دارالحکومت میں بڑھتے جرائم باعث تشویش

  

ہفتہ کے روز اسلام آباد آمد ہوئی مقصد ہمارے عزیز دوست جناب مفتی محمدصدیق الحسنین سیالوی کے والد مرحوم جناب علامہ حافظ بشیر احمدسیالوی صاحب مرحوم کے پہلے سالانہ عرس کی تقریب میں شرکت تھی۔ جناب مفتی صدیق الحسنین سیالوی خطیب ہیں اور دھان گلی میں حضرت داود شاہ حقانی  کے مزار سے متصل مسجد میں باقاعدگی سے نماز جمعہ بھی پڑھاتے ہیں اور لاہور بھی جب ہم انھییں شرکت کی دعوت دیتے ہیں تو جناب فوراً حاضری دیتے ہیں۔ تو اس لئے ہمیں بھی لازمی اسلام آباد جانا تھا اور جب سیالوی صاحب نے اسلام آباد بلایا تو انکار نہ کر سکے اور پہنچ گئے۔ہفتے کی شام اسلام آباد پہنچے، تقریب بعد از نماز مغرب تھی جو کہ جامع مسجد حنفیہ راجہ بازار میں منعقد ہونا تھی۔ ہم روحانی محفل میں شرکت کے لئے پہنچے تو جناب خرم ملک جو کہ اسلام آباد کرائم اینڈ کورٹ رپورٹر کے جنرل سیکرٹری  ہیں، اسد بھائی اور راجہ اسرار حسین بھی ہمارے ساتھ ہی محفل میں پہنچے۔ محفل کا آغاز ہو چکا تھا اوردرود و سلام کی صدائیں دور دور تک فضاوں میں گونج رہی تھیں۔

محفل میں سیاسی سماجی اور خاص طور پر دینی طبقے کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ زونل خطیب راولپنڈی جناب علامہ بشیراحمد سیالوی مرحوم امام مسجد تھے اور انتہائی نیک شریف ملنسار،خدا ترس شخصیت کے مالک تھے، محفل میں شریک ہر مقرر شعلہ بیانی کرتے ہوئے جناب علامہ بشیر احمدسیالوی کی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے، علامہ ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جن کا مدفن حرم مکہ بنا۔ محفل میں پیر نقیب الرحمن صاحب سجادہ نشین آستانہ عالیہ عیدگاہ شریف نے بھی خصوصی شرکت کی دوران محفل نماز عشاء ادا کی گئی پھر ختم شریف اور اسکے بعد دعائے خیر کی گئی۔ محفل میں حاضرین پر عطر چھڑکا جاتا رہا اور رات گئے روحانی محفل اختتام پذیر ہوئی۔ جب ہم مفتی صدیق الحسنین سیالوی صاحب سے اجازت لینے لگے تو انھوں نے پرزور اصرار کر کے لنگر کے لئے روک لیا اور تقریبا رات گئے ہم واپس کشمیر ہاوس پہنچے جہاں ہمارے پیارے بزرگ جناب وزیراعظم آزاد کشمیر کے پرسنل اسٹاف آفیسر صاحب کی وساطت سے رہائش کا بندوبست ہوا تھا۔

اسلام آباد کے چند دوستوں سے گپ شپ رہی جبکہ ہمارے پیارے بھائی شفیق بھٹی جو کہ رائل نیوز پہ کرائم رپورٹر ہیں نے بڑے واضح اور دردناک انداز میں بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں جرائم کی شدت میں بے حد اضافہ ہوا ہیاور ایک نئی تبدیلی بھی وفاقی دارالحکومت میں نظر آئی وہ یہ تھی کہ اسلام آباد شہر کی سڑکوں کو پولیس ناکوں سے پاک کر دیا گیا ہے۔جس پہ وفاقی دارالحکومت کی عوام کو سکون حاصل ہوا اور پولیس کو بھی خوشی ہوئی اور اسی خوشی میں پولیس تھانوں میں بند ہو کے بیٹھ گئی اور مجرموں کو کاروائی کے لئے کھلی چھٹی دے دی۔یہ بھی خرم ملک سے معلوم ہواکہ جناب شیخ رشیدنے ہی سڑکوں کو پولیس ناکوں سے پاک کیا۔ بہر حال وفاقی دارالحکومت میں بڑھتی ہوئی وارداتیں باعث تشویش اور حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ جب وفاقی دارالحکومت کا یہ حال ہے تو باقی ملک کا کیا حال ہو گا بہر حال ہمارے اسلام آباد کے دوستوں کا کہنا ہے کہ حکومت وفاقی پولیس کو پابند کرے کہ وہ جرائم کے خاتمے کے لئے خصوصی اقدامات کرے اور شہریوں کو ڈکیتوں سے نجات دلوائے۔ تو بہرحال اپنے دوست کو دیں اجازت ملتے ہیں جلد ایک بریک کے بعد توچلتے چکتے اللہ نگھبان رب راکھا۔

مزید :

رائے -کالم -