داعش کی دہشت گردی کیسے ختم کی جائے؟

داعش کی دہشت گردی کیسے ختم کی جائے؟

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت داعش کی سرپرستی کر رہا ہے سانحہ مچھ کی ذمے داری داعش نے قبول کی ہے۔ ہمیں بریفنگ مل گئی تھی کہ بھارت ہمارے ملک میں فرقہ واریت پھیلانا چاہتا ہے لیکن اداروں نے مسلکی تصادم روکنے کے لئے بہترین کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر کی سابقہ حیثیت بحال نہیں کرتا اس وقت تک اس کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ وقت بتائے گا کہ نریندر مودی کی حکومت بھارت کو جتنا نقصان پہنچائے گی کسی دوسری حکومت نے نہیں پہنچایا ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغان جہاد کے بعد افغانستان میں گروپس بنے جنہوں نے پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ پاکستان کے امریکہ اور افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں، سعودی عرب اور ایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں۔ ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان پر توجہ نہیں دی، مرکز میں جو بھی حکومت بنتی تھی قبائلی سرداروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیتی تھی ترقیاتی فنڈز بھی انہی کے ذریعے تقسیم ہوتے تھے جس سے سردار امیر ہو گئے لیکن بلوچستان کے عوام غریب رہ گئے تاہم ہماری حکومت اس صوبے کی ترقی پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔

شروع شروع میں جب ایسی اطلاعات منظرِ عام پر آئیں کہ بھارت داعش کی سرپرستی کر رہا ہے اور پاکستان سمیت ہمسایہ ملکوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے اس تنظیم کو استعمال کر رہا ہے تو بہت کم لوگوں نے اس پر یقین کیا تھا لیکن اب آہستہ آہستہ یہ بات کھل کر سامنے آ گئی کہ بھارت نہ صرف اپنے ملک میں مسلمانوں اور خاص طور پر کشمیریوں کو دبانے کے لئے داعش کو استعمال کر رہا ہے بلکہ افغانستان میں مضبوط کمین گاہیں بنانے میں بھی اس کی مدد کر رہا ہے۔ فنڈز اور جدید اسلحہ بھی اس تنظیم کو بھارت کے ذریعے مل رہا ہے۔ افغانستان ہی کے راستے سے داعش سے وابستہ دہشت گرد پاکستان خصوصاً افغانستان سے ملحقہ دو صوبوں یعنی بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں داخل ہوتے ہیں گزشتہ روز بھی وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں تیس چالیس لوگ کر رہے ہیں جن کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔ اگر واقعی ان لوگوں کی تعداد اتنی ہی کم ہے تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ مسلسل دہشت گردی کرنے میں کامیاب کیوں ہو رہے ہیں۔

مچھ میں کان کنوں کو اغوا کرکے انہیں موت کے گھاٹ اتارنے میں بھی دو ڈھائی درجن لوگ ملوث بتائے جاتے ہیں تو کیا یہ سارے لوگ وہی تو نہیں جن کا بقول وزیراعظم پیچھا کیا جا رہا ہے۔ ویسے لگتا نہیں کہ کان کنوں کے واقعہ میں بیک وقت ”پوری داعش“ ہی حرکت میں آ گئی ہو، یہ ہو سکتا ہے کہ چند لوگوں کا تعلق اس سے ہو اور باقی ان کے آلہ ء کار ہوں کیوں کہ ایسی تنظیمیں اپنی ساری قوت کسی ایک جگہ متجمع نہیں کرتیں اگر ان کے خلاف جوابی کارروائی کامیاب ہو جائے تو ایک ہی ہلے میں ان کی ساری قوت ختم ہو جائے گی، اس لئے داعش کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے اور یہ نتیجہ نکالنے سے پہلے کہ ”تیس چالیس“ لوگ دہشت گردی کر رہے ہیں عراق اور شام میں داعش کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا دقتِ نظر سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ داعش نے وہاں جو کامیابیاں حاصل کیں اور جس طرح بعض علاقوں کو ملا کر اپنی حکومت قائم کی یہاں تک کہ تیل کے ذخائر پر بھی قبضہ کر لیا اور اپنی مالی ضرورت پوری کرنے کے لئے یہ تیل بین الاقوامی گاہکوں کو سستے نرخوں پر فروخت کرنا بھی شروع کر دیا اسے اس تیل کے خریدار بھی آسانی سے دستیاب ہو جاتے تھے اور ایک وقت میں کئی کئی سو آئل ٹینکروں کی قطاریں ڈپوؤں کے باہر لگی رہتی تھیں۔ یہ داعش کی کامیابی کے دن تھے پھر اس کا زوال شروع ہوا اور اسے عراق، شام سے تتر بتر کر دیا گیا۔ یہاں سے اس کے قدم اُکھڑے تو اس کے کچھ عناصر کسی نہ کسی طرح افغانستان پہنچ گئے اور غالباً یہیں سے بھارت نے اس تنظیم کو اپنی سرپرستی میں لیا، اس وقت بھارت عالمی دہشت گردوں کا سب سے بڑا سرپرست ہے اور اس کی گواہی کشمیر اور کشمیری دے رہے ہیں،جن کا کہنا ہے کہ ریاست میں جب بھارتی سیکیورٹی فورسز کشمیریوں کے خلاف کوئی بڑی کامیابی کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو داعش اس کا جشن مناتی ہے کشمیریوں کو بڑی دیر بعد سمجھ  آئی کہ داعش کے دہشت گرد ان کے ہمدرد بن کر ان کی صفوں میں نقب لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔

وزیراعظم عمران خان کے پاس اگر ایسی اطلاعات ہیں کہ بلوچستان کی دہشت گردی میں داعش ملوث ہے تو پھر بھارت کی سرپرستی کے ثبوت بھی عالمی اداروں کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے جہاں بھارت ہمیشہ پاکستان کو دہشت گرد ریاست کے طور پر پیش کرنے کی سازش کرتا ہے اور ”فیٹیف“ کی گرے لسٹ میں پاکستان کو شامل کرانے میں اس کی کوششوں کا عمل دخل بھی تھا۔ پاکستان نے بھارتی حکومت کی دہشت گردی کے جو ثبوت ڈوزئرکی شکل میں اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو فراہم کئے ہیں اس کے بعد فالواپ کی اشد ضرورت ہے۔  وزیراعظم نے کہا تھا کہ کشمیر کے بارے میں انہوں نے جنرل اسمبلی سے جو خطاب کیا اس کے بڑے اچھے اثرات مرتب ہوئے تھے لیکن ہم اس کے فالواپ میں ناکام رہے۔ یہ فالواپ کس کی ذمے داری تھی اگر دفترخارجہ اس ضمن میں پیش رفت نہیں کر سکا تو وزیرخارجہ سے پوچھا جانا چاہیے۔اب اگر دنیا کو بتا دیا گیا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا حقیقی سرپرست ہے تو پھر اس معاملے کو بھی منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔ دہشت گردی کی کسی واردات کے بعد چند روز تک بیان بازی سے کیا حاصل، جب اس کا کوئی نتیجہ ہی نہ نکل سکے؟ داعش کی سرگرمیوں کے آگے بند باندھنے کی ضرورت ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب عراق و شام میں اس کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا درست تجزیہ کرکے کسی نتیجے پر پہنچا جائے۔ لگتا ہے باقی دنیا تو داعش کی سرپرستی سے تائب ہو چکی اس لئے اب بھارت نے اسے گود لے لیا ہے اس گٹھ جوڑ کا خاتمہ تدبر و حکمت اور قوتِ بازو ہی سے کرنا ہوگا۔

مزید :

رائے -اداریہ -