ایس او پیز کی خلاف ورزی اور غیر معیاری ماسک

ایس او پیز کی خلاف ورزی اور غیر معیاری ماسک

  

طبی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا کے حوالے سے حفاظتی اقدامات سے لاپرواہی، غیر معیاری اور استعمال شدہ ماسک کے باعث کورونا کے ساتھ بعض دوسرے امراض بھی پاکستانیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ عام بازاروں اور روز مرہ زندگی میں لوگ ماسک سے گریز کرتے ہیں اور بہت کم افراد یہ استعمال کر رہے ہیں اس کے علاوہ استعمال شدہ ماسک سڑکوں پر بھی پھینک دیئے جاتے ہیں۔جو اب شاپنگ بیگز کی طرح اِدھر اُدھر بکھرے نظر آتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ عوام معیاری ماسک ضرور پہنیں اور اتاریں تو تلف کر دیں، سڑکوں پر نہ پھینکیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت کی طرف سے تشہیر تو کی جا رہی ہے لیکن خلاف ورزی روکنے کے لئے کوئی موثر انتظامی اقدام نہیں کئے جا رہے، حتیٰ کہ ریل گاڑیوں، سرکاری بسوں (میٹرو+ سپیڈو بس) سمیت دفاتر میں بھی ماسک نہ پہننے پر کوئی تعرض نہیں کیا جاتا۔ بڑے سٹوروں، دوکانوں اور ٹرینوں، بسوں کے باہر یہ لکھا ہوتا ہے ”ماسک کے بغیر اندر آنے کی اجازت نہیں“ لیکن جو لوگ اس پر عمل نہیں کرتے ان کی گرفت نہیں کی جاتی۔ انہی وجوہات کی بنا پر طبی ماہرین نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان ماہرین کی یہ رائے بالکل درست ہے کہ بہت کم لوگ ماسک استعمال کر رہے ہیں اور جلد تبدیل کرنے کی بجائے دیر تک استعمال جاری رکھتے اور پھر سڑکوں پر بھی پھینک دیتے ہیں۔ ہماری انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ مختلف اداروں میں ایس او پیز پر سختی سے عمل کرائے۔ بسوں اور ٹرینوں میں بھی پابندی پر عمل کرایا جانا چاہیے۔

مزید :

رائے -اداریہ -