کچھ یادیں کچھ باتیں   (1)

کچھ یادیں کچھ باتیں   (1)
کچھ یادیں کچھ باتیں   (1)

  

پشاوری مٹن کڑاہی، چپلی کباب، گرما گرم تندوری روٹی اور قہوے کے بارے میں سب ہی جانتے ہیں۔ لیکن یہ بات کہ آٹے کا پیڑا باقاعدہ تلتا تھا شاید سْنا ہو، بہت کم نے دیکھا ہوگا۔

 ہم نے نہ صرف دیکھا بلکہ آدھی روٹی اور کباب سنیکس کی طرح کھاتے بھی رہے۔ پیڑے کا وزن لازمی تھا اور کیا بھی جاتا تھا۔ پشاور میں ایک پاؤ عام پاؤ سے زیادہ اور پکّا وٹّہ کہلاتا تھا۔ پْرانے اور عزیز دوست سرور خان کا کہنا ہے کہ 1960 کی دہائی میں کوئٹہ میں بھی پیڑا تول کر روٹی پکائی جاتی تھی۔ 

اْنہوں نے افغانستان کے پْرانے دور کے وزیراعظم سردار داؤد کا ایک واقعہ بھی سْنایا کہ ایک روزگشت کے دوران ایک تندور پر رْکے اور روٹی کا وزن کروایا۔ وزن کم نکلنے پر نانبائی کو تندور میں جھونک دینے (بزن بہ تندور)  کا حکم دیا  اور آگے چل پڑے۔ وہ اپنی سخت گیری کی وجہ سے“پاگل سردار”مشہور تھے۔

لاہور سے سینیئر صحافی،محترم عاشق جعفری نے بتایا کہ پورے پنجاب میں ایسا ہی تھا: 

 آٹے کا پیڑا آدھ پاؤ وزن ہونا لازمی تھا اور بلدیہ کا عملہ تندوروں پر چھاپہ مار کر پیڑے کا تول جانچتا۔ ایک آنے کی روٹی کے ساتھ دال بھی مل جاتی تھی۔ اور دال بھی مسور کی جو آج کل سب دالوں سے مہنگی ہے۔ اور عام لوگوں کے لئے مشہور محاورے، یہ منہ اور مسور کی دال، کے مصداق۔

 ایک روپے میں سولہ آنے اور ایک آنہ میں چار پیسے ہوا کرتے تھے۔ ٹکہ (دو پیسے)، دونی (دو آنے)، چونّی (چار آنے) اور اٹھنّی (آٹھ آنے) عام سِکّے تھے۔ سْوراخ والا، ایک پیسہ بھی تھا۔ سولہ آنے محاورتاً کہا جاتا تھا جیسے آج کل سو فی صد۔ 

 یہ ایوب خان کا دور تھا اور ماش کی دال، گوشت کا متبادل ہونے کی وجہ سے مہنگی ہوا کرتی تھی۔ مسور کی دال سستی ترین تھی جو ضیاء الحق کے دور میں مہنگی بلکہ نایاب بھی ہوئی کیوں کہ افغان مہاجرین کی پسندیدہ دال تھی۔ 

 تْرکی میں مسور کی دال میں آلو اور گاجر ملا کر شوربا تیار کیا جاتا ہے اور مکھن کا بھگار لگا کر سفید پیالوں میں، لیمن کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔  گاڑھا اور لذیذ ہوتا ہے۔

 دس پندرہ روپے میں ایک من آٹا ملا کرتا تھا پھر ایوب خان سے نجات کے لئے یک سازش رچی اور آٹا بیس روپے من ہوگیا۔ جس پر حبیب جالب نے تاریخی نظم (بیس گھرانے) میں کچھ یوں نقشہ کھینچا:

صدر ایوب زندہ باد 

بیس روپیہ من آٹا

اس پر بھی ہے سناٹا

 گوہر، سہگل، آدم جی 

 بنے ہیں برلا اور  ٹاٹا 

“ ساتھ ہی چینی چار آنے مہنگی ہوگئی جو پہلے روپیہ یا سوا روپیہ سیر ملتی تھی۔ اس پر عوام نے ایسی تحریک چلائی کہ مرکزی وزیر خوراک، عبدالغفور ہوتی کو وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے۔

اْسوقت مغربی پاکستان، ایک وحدت (ون یونٹ) تھا جو سندھ، بلوچستان، پنجاب اور سرحد موجودہ خیبر پختون خوا کو ملا کر، 5 اکتوبر  1955 کو قائم مقام گورنر جنرل، اسکندر مرزا کے احکامات کے تحت تشکیل دیا گیا اور جس کا بنیادی مقصد شرقی  و غربی بازوؤں کے درمیان مساوات اور قومی یکجہتی و استحکام تھا۔

 مشرقی پاکستان آبادی کے لحاظ سے اکثریتی حصّہ تھا اس کے باوجود اْنہوں نے وسیع تر قومی مفاد میں مغربی پاکستان کے ساتھ برابری کو مان لیا۔

مغربی پاکستان کے گورنر، نواب کالا باغ، ملک امیر محمد خان تھے جو اس سے پہلے چیئرمین، مغربی پاکستان انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے عہدے پر متمکن تھے۔ وہ غضب کے ایڈمنسٹریٹر تھے۔

ملک صاحب مرحوم ایچیسن کالج، لاہور اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ تھے۔ اتنے وضع دار، روایت پسند اور محبِ وطن کہ گورنری (1960ء۔1966ء) کے دوران نہ کوئی مشاہرہ لیا اور نہ ہی پاور فل عہدے کی دیگر مراعات۔ یہاں تک کہ اپنے اہل ِخانہ کو بھی گورنر ہاؤس سے دور رکھا۔

سخت گیر، اصول پرست، وقت کے پابند اور محنتی انسان تھے۔ اْن کا دیسی لباس، اْن کی حشمت کا جزو بن چکا تھا۔ اس سے پہلے وہ مغربی لباس بھی زیب تن کیا کرتے تھے۔

 1965کی جنگ کے دوران نہ قیمتیں بڑھنے دیں اور نہ ہی لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ کھڑا ہونے دیا اور سمگلنگ کی روک تھام بھی جاری رہی۔ 

ہماری اْن سے سرگودھا میں ہر ماہ ملاقات رہتی۔ لاہور سے بذریعہ کار میانوالی جاتے ہوئے، سرگودھا میں اْن کا عارضی قیام ہوتا۔ اس کو سرکاری طور پر“لسّی ہالٹ”کا نام دیا جاتا۔ میانوالی میں اْن کے ایک کیٹل فارم سے اْن کی ذاتی وین پر، اْن کے منیجر ٹھنڈی لسّی لے کر آتے جو وہ خود بھی پیتے اور ہمیں بھی پلاتے۔

“موٹر وے نہیں تھا، عام سڑک تھی اور لمبا رْوٹ۔ لاہور سے سرگودھا بس کا سفر پانچ گھنٹے کا تھا اور بذریعہ کار چار گھنٹے۔ یہاں سستا کر، آگے پھر چار گھنٹے کالا باغ تک”۔

پاکستان کے طویل ترین دریائے سندھ (جسے پشتو میں اباسین کہتے ہیں) کے کنارے، کالا باغ میں ایک دلفریب مہمان خانہ تھا جو ملک امیر محمد خان کے دوستوں اور معززین بشمول غیرملکی شخصیات کے لئے مخصوص تھا۔ 

اس کے در و دیوار میں نواب کالا باغ کی روایتی فراخدلی، تواضع اور مہمان نوازی رچی بسی ہوئی تھی-اور یہیں وہ حیاتِ مْستعار کی آخری چند سانسیں لیتے ہوئے، راہی مْلکِ عدم ہوئے۔

”مسافر یہ مہمان خانہ ہے دنیا 

 گھڑی دو گھڑی کا ٹھکانہ ہے دُنیا

وہ بحیثیت گورنر، اْس وقت پاکستان کی دوسری اہم ترین اوربااختیار شخصیت تھے - صدر ایوب نے نواب کالا باغ کی بھاری بھرکم شخصیت اور رکھ رکھاؤ سے متاثر ہوکر اْنہیں مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا تھا جسے اْنہوں نے ایک محبِ وطن اور فرض شناس  پاکستانی کے فخر و اعزاز کے ساتھ نبھایا اور کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی۔

برسوں پہلے آصف جاوید صاحب نے دی نیشن، لاہور میں“نواب کالا باغ بہت کچھ جانتے تھے”کے زیرِ عنوان شائع شدہ اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ مغربی پاکستان پر اْن کے چھ سالہ دور حکمرانی کا ذکر کئے بغیر پاکستان کی تاریخ نامکمل رہے گی۔

وہ ایک جاگیردار  خاندان سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے 1940 میں منٹو پارک کے تاریخی جلسہ میں نہ صرف شرکت کی تھی بلکہ مسلم لیگ کو ایک خطیر  عطیہ بھی دیا تھا۔

چند دلچسپ اقتباسات، مضمون نگار کے شکریہ کے ساتھ:

نواب کالا باغ مالی طور پر ایک بے داغ انسان تھے اور گورنر سے علیحدگی کے بعد بھی کسی قسم کا سکینڈل سامنے نہیں آیا۔ اْن کے مْستعفی ہونے کے ایک سال کے اندر ہی مغربی پاکستان میں ابتری محسوس کی جانے لگی۔(جاری ہے) 

مزید :

رائے -کالم -