افغان مہاجرین کے سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کا مراعات کا مطالبہ 

افغان مہاجرین کے سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کا مراعات کا مطالبہ 

  

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) افغان مہاجرین کے سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ نے یو این ایچ سی آر سے مراعات کا مطالبہ کر دیا میٹرک پاس پی ٹی سی کو فارغ کرنے ارو 60 سالہ ریٹائرمنٹ پر کوئی بینیفٹ نہ دینے کے خلاف احتجاج اور بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا اس حوالے سے کوھاٹ پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ رہنماؤں مولوی سیف الرحمن‘محمد زمان‘ نور رحمان اور دیگر نے کہا کہ ہم 1996 سے نہایت کم تنخواہ پر یو این ایچ سی آر کے زیر نگرانی خدمات انجام دیتے آ رہے ہیں اور متعددتربیتوں میں حصہ لیا مگر حال ہی میں ان اساتذہ کو فارغ کرنے کے نوٹسز دے دیئے گئے جبکہ مراعات دینے سے بھی انکار کر دیا گیا جو سراسر ظلم اور زیادتی ہے انہوں نے کہا کہ 25 سالہ تجربہ رکھنے والے اساتذہ کی جگہ نئے اساتذہ بھرتی کرنا ہرگز انصاف نہیں حالانکہ 2007 تک فارغ اور ریٹائرڈ ہونے والے اساتذہ کو مراعات دی جاتی رہیں انہوں نے کہا کہ عرصہ 25 سال سے یہی پی ٹی سی میٹرک اور شہادۃ العالمیہ اساتذہ پرائمری کے بچوں کو پڑھاتے آ رہے ہیں مگر اب کونسا طوفان آ گیا کہ نہیں پڑھا سکتے پاکستان کے سرکاری سکولوں میں تو ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے اور نہ ہی دنیا کا کوئی قانون مراعات دینے سے روکتا ہے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے 108 پرائمری سکولوں میں 604 اساتذہ معلمی کا پیشہ انجام دے رہے ہیں انہیں بیک جنبش قلم فارغ کرنا نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ پیشہ پیغمبری کی توہین بھی ہے جو ہم برداشت نہیں کریں گے انہوں نے یو این ایچ سی آر سے مطالبہ کیا کہ ان اساتذہ کو حقوق فراہم کیے جائیں بصورت دیگر ہم پشاور میں یو این ایچ سی آر دفتر کے سامنے احتجاج کریں گے اور پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھوک ہڑتال کریں گے اس موقع پر مختلف اضلاع کے افغان مہاجرین سکولوں میں کام کرنے والے سینکڑوں اساتذہ بھی موجود تھے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -