اسکریننگ ٹیسٹ میں بڑے پیمانے پر بے ظا بطگیوں پر احتجاجی مظاہرہ 

اسکریننگ ٹیسٹ میں بڑے پیمانے پر بے ظا بطگیوں پر احتجاجی مظاہرہ 

  

پشاور(سٹی رپورٹر)تحصیلدار کی اسامیوں کیلئے اسکریننگ ٹیسٹ میں بڑے پیمانے پر بے ظا بطگیوں کے حوالے سے  خیبر پختونخوا کے امیدداروں نے  پبلک سروس کمیشن خیبر پختونخوا  کے خلاف پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسکرینگ ٹیسٹ پر نظر ثانی کر کے مستحق اور قابل امیداروں کو انکا حق دیا جائے اور پی ایم ایس کے قوائد  و ضوابط کی پاسداری یقینی بنائی جائے بصورت دیگر احتجاج  کا دائرہ کار وسیع کرینگے مظاہرے کی قیادت مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے  تحصیلدار ٹیسٹ میں حصہ لینے والے امیدداروں  جلال،ولید،مجیب اور دیگر طلباء نے کی مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر انکے مطالبات درج تھے مظاہرین کا اس موقع پر کہنا تھا کہ 27نومبر 2020 کو پبلک سروس کمیشن خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام تحصیلددار اور نائب تحصیلدار کی آسامیوں کیلئے اسکرینگ ٹیسٹ ہوا تھاجسمیں پچاس ہزار سے زائد امیداروں  نے شرکت کی تھی انہوں نے الزام لگایا کی ٹیسٹ میں بہت سے بے ظابطگیاں ہوئی ہے شرکاء کا کہنا تھا کہ کمیشن کے قوائد کے مطابق 20فیصد سکرینگ مارکس لینے والے تحریری امتحان دینے کے اہل ہونگے اور یہی 2016،2017اور 2018کے پی ایم ایس میں بھی 20 فیصد تک رکھے گئے تھے جبکہ امسال اسکرینگ ٹیسٹ مارکس کمیشن نے 60فیصد رکھے ہے جو سراسر ظلم و نا انصافی ہے جبکہ قابل امیداروں کو تحریری امتحان سے باہر رکھنے کی سازش ہے خیبر پختونخوا کے امیداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیلدار اور نائب تحصیل دار کیلئے تحریری امتحان میں  حصہ لینے کیلئے کرائٹریا  40فیصد اسکرینگ ٹیسٹ پر رکھا جائے اور حالیہ اسکریننگ ٹیسٹ میں بے ظابطگیوں کے حوالے سے تحقیقات کی  جائے اور اسکرینگ ٹیسٹ پر نظر ثانی کی جائے بصورت دیگر احتجاج کا دائر کار وسیع کرنے پر مجبور ہونگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -