قومی خزانے کو سالانہ 200ارب کا نقصان، پٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ روکنے کیلئے بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں کریک ڈاؤن 

قومی خزانے کو سالانہ 200ارب کا نقصان، پٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ روکنے کیلئے ...

  

 کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان کے راستے سمگل شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سے قومی خزانہ کو 200ارب روپے نقصان ہونے کا انکشاف، اینٹی سمگلنگ اور سیکورٹی اداروں نے  پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ کے تدارک کے لئے کریک ڈاؤن کاآغاز کردیا۔ایف بی آر حکام کے مطابق بلوچستان کے راستے ملک بھرمیں سمگل کی جانے والی پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ سے قومی خزانہ کوسالانہ 2ارب ڈالر یعنی 200ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے یہ منصوعات مختلف پیڑول پمپس پر فروخت کی جاتی ہیں جو کہ کسٹمز ایکٹ 1969کی خلاف وزری ہونے کے ساتھ ساتھ قابل سز اجرم ہے جس کی سزا 5تا 14سال قید بامشقت ہے حکا م کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کے مطابق گزشتہ روز سمگل شدہ پیٹرولیم مصنوعات کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان کسٹمز، ایف سی، رینجرز، ضلعی انتظامیہ، صوبائی حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ آپریشن شروع کردیا۔ کارروائی کے دوران سمگل شدہ پیڑولیم مصنوعات کی فروخت میں ملوث پیڑول پمپس کے خلاف کارروائی اور برآمد شدہ مصنوعات،پیڑول پمپ، ٹینکر سمیت سمگلرز کی جائیدادوں کو بحق سرکار ضبط کرلیا جائیگا اس حوالے سے اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کردئیے گئے ہیں۔دوسری جانب بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں کریک ڈاؤن کے باعث تشویش کی لہر دوڑ پڑی ہے سیاسی،قبائلی رہنماؤں اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیڑول مصنوعات کی ترسیل سے بلوچستان کے ہزاروں نوجوانوں کا روزگار وابستہ ہے جسکی بندش سے ہزاروں لوگ بے روزگار اور کئی گھرانے فاقہ کشی پر مجبور ہوجائیں گے انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس کاروبارکو بند کرنے سے گریز کرے یا پھر نوجوانوں کو متبادل روزگار فراہم کرے۔

 پیٹرولیم سمگلنگ

مزید :

صفحہ آخر -