ایماندار افسر ریٹائر منٹ کے بعد بھی اپنے  ساتھیوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں‘ ایم  این اے سمیع الحسن گیلانی کا تقریب سے خطاب

 ایماندار افسر ریٹائر منٹ کے بعد بھی اپنے  ساتھیوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ ...

  

 اوچ شریف (نامہ نگار) ایم این اے مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی نے کہا ہے کہ ایمان دار اور فرض شناس افسر اپنی ریٹائرمنٹ(بقیہ نمبر19صفحہ10پر)

 کے بعد بھی اپنے ساتھی افسران اور ملازمین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، 42سال کی سرکاری ملازمت میں بغیر کسی انکوائری  و جواب دہی کا سامنا کئے بغیر فرائض سرانجام دینا شہباز علی خان کی پیشہ ورانہ امور میں مہارت اور اپنے کام میں دیانت داری پر دلالت کرتی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے میونسپل کمیٹی اوچ شریف میں سی او برانچ کے اسسٹنٹ شہباز علی خان کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ان کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب میں بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب میں کیا، اس موقع پر سینئر میونسپل آفیسر قاضی محمد نعیم،ریذیڈنٹ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل فنڈ آڈٹ محمد سجاد بھٹی، سینئر اکاؤنٹس آفیسر مخدوم سید حسین جہانیاں انجم بخاری، ریگولیشن آفیسر واحد بخش خان،سابق چیف آفیسر ریاض حسین شاہد، لائبریری انچارج نعیم احمد ناز اور دیگر سماجی شخصیات و میونسپلیٹی ملازمین کی کثیرتعدادموجود تھی، اس موقع پر سینئر میونسپل آفیسر قاضی محمد نعیم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے بڑے اعزاز اور افتخار کی بات ہے کہ ہمیں سرکاری امور کی انجام دہی میں سرائیکی زبان و ادب کے نامور شاعر اور ادب کے شعبے میں صدر پاکستان سے صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی حاصل کرنے والی معروف ادبی شخصیت جانباز جتوئی کے صاحب زادے شہباز علی خان کے معاونت حاصل رہی، انہوں نے ہمیشہ اپنے فرائض لگن اور انتھک محنت سے انجام دیئے اور اپنے کام سے اپنے ادارے کانام روشن کیا، تقریب میں ریٹائرڈ ہونے والے افسر شہباز علی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی پیدائش 10 جنوری 1961ء کو اوچ شریف میں ہوئی، 17 فروری 1979ء کو اس دور کے اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ/ ایڈمنسٹریٹر ٹاؤن کمیٹی او شریف چوہدری مجید اختر لنگڑیال نے ان کے بطور کلرک تعیناتی کے آرڈر کئے تھے، اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ان کی گریڈ 16 میں بطور اسسٹنٹ سی او عہدے سے ریٹائرمنٹ ہو رہی ہے،تقریب میں مہمان خصوصی اور میونسپل کمیٹی کے عملے نے شہباز علی خان کو پھولوں کے ہار پہنائے۔ 

سمیع الحسن گیلانی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -