نواز شریف کوکرپشن پر ہی نکالا گیا، براڈشیٹ کے سربراہ نے انہیں بے نقاب کردیا: شہزاد اکبر 

نواز شریف کوکرپشن پر ہی نکالا گیا، براڈشیٹ کے سربراہ نے انہیں بے نقاب کردیا: ...

  

لاہور(جنرل رپورٹر)وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے کہاہے کہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم صفدر نے لندن ہائیکورٹ کے براڈ شیٹ سے متعلق فیصلے کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن فرم کے سربراہ کاوے موسوی نے حقائق بیان کر دئیے ہیں اور انہیں چور کہہ دیا ہے، براڈ شیٹ سے موجودہ حکومت نے معاہدہ نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ 2000ء میں نیب نے معاہدہ(بقیہ نمبر25صفحہ10پر)

 کیا، اس معاہدے کے تحت بیرون ملک جو بھی اثاثے تلاش کئے جانے تھے اس پرانہیں 20فیصد کی ادائیگی کیا جانے طے پایا تھا، معاہدے کو ختم کرنے پر براڈ شیٹ عدالت میں چلی گئی تھی اور اس کی اپیل کی وجہ سے ایون فیلڈ کو اس سے نتھی کر دیا گیا، نواز شریف اسے کرپشن کہتے ہیں جس میں پٹواری چار ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے نشان زدہ نوٹ کے ساتھ ٹریپ ریڈ میں پکڑا جائے اور نواز شریف کی بھی یہی خواہش ہے،ہم تو کہتے ہیں فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر اور عوامی سماعت ہو لیکن ایک کیس (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کا بھی ہے جس میں یہ ابھی تک ایک ڈونر کی ٹریل پیش نہیں کر سکے، ایک ڈونر نواز شریف سامنے آئے جنہوں نے ہل میٹل سے ادائیگی کی جس میں انہیں احتساب عدالت نے سزا دی ہے، مریم صفدر ابھی انڈر گریجوایٹ ہیں اس لئے انہوں نے نیب کے ریجنل دفتر پرحملہ کرایا، یہ کسی بڑے ادارے پر بھی حملہ کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے 90شاہراہ قائد اعظم پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف کو کرپشن اور منی لانڈرنگ پر ہی نکالا گیا، اقامے پر چھٹی کرانے کا بیاینہ جھوٹ کا پلندہ ہے، نواز شریف آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورے نہیں اترتے۔ انہوں نے کہاکہ کاوے موسوی نے اپنے انٹر ویو میں کہاہے کہ شریف خاندان نے سپن کرنے کی کی کوشش، اموسوی نے انہیں چور کہہ دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ خواجہ آصف اپنے اثاثوں کی منی ٹریل پیش نہیں کر سکے، ایک شخص رہتا پاکستان میں ہے، رکن قومی اسمبلی بنتا ہے، تین اہم وزارتوں کے قلمدان سنبھالتا ہے لیکن دبئی سے 14کروڑ روپے آمدن آتی ہے۔ خود ساختہ معاہدے  میں ہے کہ آٹھ گھنٹے ڈیوٹی بھی ہوگی اور سال کی صرف بیس چھٹیاں ہوں گی، وہ شخص پچاس ہزار درہم پر ملازم ہے، جب آپ کے پاس منی ٹریل نہیں تو یہ کرپشن نہیں تو اور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے خدشات کی وجہ سے نواز شریف کے باہر جانے پر سات ارب روپے زر ضمانت کی شرط رکھ تھی اور انہوں نے عدالت سے رجوع کیا اور ذاتی انڈر ٹیکنگ پر باہر گئے۔انہوں نے کہا کہ براڈ شیٹ کے کیس میں سقم ہے اور اس کا جائزہ لیاجارہا ہے اور اس کی تفتیش ہو گی اور اس اس میں جس کسی کی کوتاہی یا غفلت ہوئی تو کارروائی ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ میری اطلاعات کے مطابق اسحق ڈار نے لندن میں سیاسی پناہ کے لئے درخواست دیدی ہے کیونکہ وہ اس دفتر کے اطراف میں گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

شہزاد اکبر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -