اوپن بیلٹ سے سینیٹ الیکشن کرانے کا ریفرنس، سپریم کورٹ رائے دینے کی پابندی، اٹارنی جنرل، فریقین کے جواب کے بعد سب کو دیکھیں گے: چیف جسٹس

  اوپن بیلٹ سے سینیٹ الیکشن کرانے کا ریفرنس، سپریم کورٹ رائے دینے کی پابندی، ...

  

  اسلام آباد (این این آئی)سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے ریفرنس میں سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو جواب جمع کرانے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دے دی۔سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی۔اٹارنی جنرل خالد جاوید نے صدارتی ریفرنس پر عدالت میں دلائل شروع کرتے ہوئے تحریری معروضات جمع کرا دیں، انہوں نے کہا کہ پہلے ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دوں گا۔خالد جاوید نے کہا کہ صدارتی ریفرنس آرٹیکل 226 کے اسکوپ سے متعلق ہے، سپریم کورٹ صدر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر رائے دینے کی پابند ہے،اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ مستقبل کی قانون سازی سے متعلق بھی رائے دے سکتی ہے، صدارتی ریفرنس آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت دائر کیا گیا ہے۔خالد جاوید نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت صدر مملکت سپریم کورٹ سے رائے طلب کر سکتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تمام فریقین کے جوابات آنے کے بعد سب کو دیکھیں گے۔عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت کی درخواست دی جس پر سپریم کورٹ نے انہیں ایک ہفتے کا وقت دے دیا۔سینیٹر رضا ربانی کی کیس میں فریق بننے کی استدعا بھی منظور کرلی گئی۔رجسٹرار آفس کے جواب جمع نہ کرنے کی شکایت پر عدالت نے جے یو آئی کے وکیل سے کہاکہ آپ جواب جمع کرائیں وصول کر لیں گے۔

اوپن بیلٹ ریفرن

مزید :

صفحہ اول -