چھوٹے صنعت کار‘ کسان نظر انداز‘ معیشت لڑکھڑا گئی‘ ڈاکٹر جسومل

 چھوٹے صنعت کار‘ کسان نظر انداز‘ معیشت لڑکھڑا گئی‘ ڈاکٹر جسومل

  

 ملتان (نیوز رپو رٹر) پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے چیئر مین ڈاکٹر جسومل نے کہا کہ حالیہ سیزن میں کاٹن کراپ پچھلی تین دہائیوں سے زائد عرصہ میں کم ترین سطح پر ہے جو کہ15ملین کاٹن بیلز سے کم ہو کر 5.5 ملین کاٹن بیلز پر پہنچ چکی ہے جو کہ ملکی معیشت کے لیے انتہائی خطر ناک ہے۔ہماری پہچان زراعت ہے جس سے 70 فیصد ملکی آبادی منسلک ہے (بقیہ نمبر44صفحہ10پر)

جبکہ زرعی ملک اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجو د ہماری بد قسمتی ہے کہ کاٹن کراپ نا پید ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی فصل میں تشویش ناک حد تک کمی کے باوجود کاٹن کی بحالی کے لیے حکومتی اقدامات نظر نہیں آرہے۔حکومت چھوٹے کاشتکاروں و صنعتکاروں پر کوئی توجہ نہیں دے رہی جس سے بے وزگاری میں اضافہ اور دیہی آبادی کا معیار زندگی شدید متاثر ہو رہا ہے۔کاٹن کاشتکاروں کو کوئی مراعات نہیں دی جارہیں جس سے وہ دوسری فصلوں کی طرف راغب ہیں۔کاٹن کراپ میں کمی سے کاٹن لنٹ، خوردنی تیل، پام آئل کیک کثیر تعداد میں امپورٹ ہو رہا ہے جس سے امپورٹ بل میں واضح اضافہ ہوا ہے جبکہ ایندھن کے طور پر کاٹن کی چھڑیوں کو استعمال کیا جاتا ہے جس میں کمی کے باعث درختو ں کو کاٹا جارہا ہے۔ صوبائی و وفاقی حکومت کے کاٹن جیسی اہم فصل کو مسلسل نظر انداز کرنے سے کاٹن سے وابستہ تمام انڈسٹری بالخصوص جننگ انڈسٹری تباہی کی طرف گامزن ہے۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور منتخب نمائندوں کی اجتماعی سوچ کی بجائے ذاتی مفاد ات کو ترجیح ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان سمیت تمام متعلقہ وفاقی وزرا، اداروں کے سربراہان و پالیسی میکرز سے اپیل کر تے ہوئے کہا ہے کہ کاٹن کراپ سائز میں ہنگامی بنیادوں پر اضافہ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کر تے ہوئے کہا ہے کہ کاٹن کے تمام سٹیک ہولڈرز اور کاٹن سے متعلقہ اعلی حکومتی نمائندگان پر مشتمل قومی سطح پر کاٹن بورڈ تشکیل دیا جائے جو کاٹن کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پرکام کرے جس کی نگرانی وزیر اعظم خود کریں۔حکومت زراعت سے متعلقہ پالیسی میکرز سے ایسی کاٹن پالیسی متعارف کروائے جس سے اگلے چند سالوں میں ہمارا ملک کاٹن کی پیداوار کے حوالے سے اپنا کھو یا ہوا مقام حاصل کر سکے اوراپنی ٹیکسٹائل مصنوعات میں اضافہ کر کے بذریعہ ایکسپورٹ ملکی ترقی میں اپنا کر دار ادا کر سکے۔حکومتی تعاون او ر موثر پالیسی نہ ہونے کے باعث کاٹن کراپ سا ل بہ سال گرتی چلی جارہی ہے جس سے ملک میں کاٹن سے منسلک کاشتکار،جنرزمعاشی بدحالی کا شکار ہیں۔کاٹن کاشتکاروں کو حکومت تحفظ فراہم کر کے کراپ میں اضافہ کر سکتی ہے۔کاٹن جنرز حکومتی اقدامات کے منتظر ہیں اورکاٹن کی بحالی کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔حکومت کاٹن کراپ کی بحالی کے لیے اپنا سنجیدہ کردار ادا کرے تاکہ وائیٹ گولڈکپاس سے ملکی معیشت مضبوط ہوسکے۔

ڈاکٹر جسومل

  

مزید :

ملتان صفحہ آخر -